سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیویاں اور اولاد
علی محمد الصلابی1: فاطمہ بنت رسول اللّٰہﷺ*
ان کے بطن سے سیدنا (1)حسن اور (2)حسین رضی اللہ عنہما پیدا ہوئے، ان دونوں کی زندگی پر مفصل گفتگو ان شاء اللہ آئندہ صفحات میں آئے گی اور صاحبزادیوں میں (3) زینب الکبریٰ اور (4) ام کلثوم الکبریٰ تھیں۔
2: خولہ بنت جعفر بن قیس بن مسلمہ
ان کے بطن سے (5) محمد الاکبر المعروف بہ محمد بن حنفیہ پیدا ہوئے۔
3: لیلیٰ بنت مسعود بن خالد التمیمي:
ان کے بطن سے (6) عبید اللہ اور (7) ابوبکر پیدا ہوئے۔
4: ام البنین بنت حزام
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 332)
بن خالد بن جعفر بن ربیعہ: ان سے (8) عباس الاکبر، (9)عثمان، (10) جعفر الاکبر، اور (11) عبداللہ کی ولادت ہوئی۔
5: اسماء بنت عمیس الخثعمیہ
ان سے (12) یحییٰ اور (13) عون پیدا ہوئے۔ (ایضاً)
6: صہباء
(ان کا نام ام حبیب بنت ربیعہ بن بجیر ہے، دور صدیقی میں معرکۂ عین التمر میں قیدی بنا کر لائی گئی تھیں)
ان کے بطن سے (14) عمر الاکبر اور (15) رقیہ پیدا ہوئیں۔
7: امامہ
(ان کی ماں کا نام زینب ہے جو کہ رسول اللہﷺ کی صاحبزادی تھیں) بنت العاص بن الربیع رضی اللہ عنہما سے (16) محمد الاوسط پیدا ہوئے۔
8: ام سعید بنت عروہ بن مسعود ثقفی
ان کے بطن سے دو صاحبزادیاں (17) ام الحسن اور (18) رملہ الکبریٰ پیدا ہوئیں۔
امہات الاولاد
(لونڈیوں) سے (19) محمد اصغر، (20) ام ہانی، (21) میمونہ، (22) زینب الصغریٰ، (23) رملہ الصغریٰ، (24) ام کلثوم الصغریٰ، (25) فاطمہ، (26) امامہ، (27) خدیجہ، (28) ام الکرام، (29) ام سلمہ، (30) ام جعفر، (31) جمانہ اور (32) اور نفیسہ کی ولادت ہوئی۔
محیّاۃ بنت امرؤالقیس سے ایک (33) بچی کی ولادت ہوئی، جو بچپن ہی میں فوت ہوگئی، ابن سعدؒ کا بیان ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اولاد میں ان سب کے علاوہ اور کسی کی صحت ہمارے نزدیک مسلم نہیں ہے۔ (الطبقات الکبریٰ: جلد 3 صفحہ 20)
اس طرح سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی کل اولاد میں چودہ (14) بیٹے اور (19) بیٹیاں اور بعض روایت کے مطابق (17) بیٹیاں تھیں اور آپ کی نسل کل پانچ اولاد یعنی حسن، حسین، محمد بن الحنفیہ، عباس بن الکلابیہ، اور عمرو بن التغلبیہ سے باقی رہی۔ (الطبقات: جلد 3 صفحہ 19، 20 البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 331-333 منہج علی بن ابی طالب فی الدعوۃ إلی اللہ، سلیمان العید: صفحہ 29، 30، 31)
سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نیز ان کی اولاد حسن، حسین رضی اللہ عنہما اور ام کلثوم رضی اللہ عنہا کی زندگی پر ان شاء اللہ آئندہ صفحات میں روشنی ڈالی جاتی رہے گی۔