میاں بیوی میں سے کوئی ایک مرتد ہو جائے تو فرقت واقع ہو جائے گی
اگر بیوی اور مرد دونوں میں سے ایک دین اسلام سے مرتد ہو گیا تو دونوں میں بغیر طلاق کے فرقت فی الحال واقع ہو جائے گی خواہ دخول سے پہلے مرتد ہوا ہو یا دخول کے بعد۔
پھر اگر شوہر ہی مرتد ہوا ہے تو عورت کو پورا مہر ملے گا بشرطیکہ اُس کے ساتھ دخول واقع ہوا ہو یا نصف مہر ملے
اگر دخول واقع نہیں ہوا ہے اور اگر عورت ہی مرتد ہو گئی ہے پس اگر دخول ہو چکا ہے تو اُس کو پورا مہر ملے گا اور اگر دخول نہیں ہوا ہے تو اُس کو کچھ مہر نہ ملے گا۔ اگر دونوں ایک ساتھ مرتد ہو گئے پھر دونوں ایک ساتھ مسلمان ہو گئے تو استحساناً دونوں اپنے نکاح پر برقرار رہیں گے۔ اور اگر دونوں ایک ساتھ مرتد ہو کر پھر دونوں میں ایک مسلمان ہو گیا تو دونوں میں فرقت واقع ہو جائے گی۔ اگر یہ معلوم نہ ہو کہ اول کون مرتد ہوا ہے تو حکم میں یہ قرار دیا جائے گا کہ گویا دونوں ایک ساتھ مرتد ہوئے ہیں، اگر عورت نے اپنے شوہر سے جان چھڑانے کے واسطے یا اس غرض سے کہ اس مرد کے نکاح سے باہر ہو جائے یا اس غرض سے کی تجدید نکاح سے اس پر دوسرا مہر لازم آئے اپنی زبان پر کلمہ کفر جاری کیا تو اپنے شوہر پر حرام ہو جائے گی پس وہ مسلمان ہونے کے واسطے مجبور کی جائے گی اور ہر قاضی کو اختیار ہے کہ اُس کا جدید نکاح بہت کم مقدار پر اگرچہ ایک دینار ہو باندھ دے خواہ عورت اُس سے خوش ہو یا ناراض ہو، اور اُس عورت کو یہ اختیار نہ ہو گا کہ اس شوہر کے سوائے دوسرے سے نکاح کرے۔ اور شیخ ابو جعفر ہندوانی صاحب رحمۃ اللہ نے فرمایا کہ میں اسی حکم کو لیتا ہوں اور فقیہ ابواللیث رحمۃ اللہ نے فرمایا کہ ہم اسی کو لیتے ہیں۔
اگر مرد مسلمان ہو اور اس کے ماتحت کتابیہ عورت ہے، پھر مرد مذکور مرتد ہو گیا تو اُس کی بیوی اُس سے بائنہ ہو جائے گی۔ (فتاویٰ عالمگيريہ اردو: جلد 2 صفحہ 302)