Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

کسی چیز میں بھی ذمی کو مسلمانوں کی مشابہت اختیار کرنے کی اجازت نہیں


اور یہ سزاوار ہے کہ کوئی ذمی اس اختیار پر نہ چھوڑ دیا جائے کہ وہ مسلمانوں سے مشابہت پیدا کرے، یعنی ذمی مسلمانوں سے مشابہت نہ کرنے پائیں، نہ لباس میں، نہ سواری میں، نہ وضع وہیات میں، اور ذمیوں کو گھوڑے کی سواری سے منع کیا جائے گا مگر اس وقت سوار ہونے پائیں کہ اس کی حاجت ہو، پھر جب اہلِ ذمہ بسبب ضرورت کے سوار ہوئے مثلاً امام کو محاربہ اور مسلمانوں سے بُرائی دور کرنے میں ان کی مدد کی حاجت ہوئی پس سوار ہو کر دشمن سے لڑنے کو گئے تو چاہے کہ جہاں مسلمانوں کا مجمع ہو وہاں سواری سے اتر پڑیں، پھر اگر ضرورت برابر باقی رہے تو ان کو حکم کیا جائے کہ اکاف کی ہیت کی زین بنوا دیں۔

اور منع کئے جائیں چادر پہنے اور عماموں اور درعہ پہننے سے جس کو علمائے دین پہنتے ہیں۔ اور چاہیئے کہ وہ لوگ کلا ہائے مضروبہ (بنی ہوئی ٹوپیاں) اوڑھیں ۔ (فتاویٰ عالمگيريہ اردو: جلد 3 صفحہ 518)