Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

قبول اسلام اور ہجرت سے قبل مکہ کے اہم کارنامے

  علی محمد الصلابی

قبول اسلام

اللہ تعالیٰ نے حضرت علی بن ابی طالب کے حق میں جو خصوصی انعام، اور خیر و برکت مقدر کر رکھا تھا، اس کا ظاہری سبب یہ ہوا کہ قریش سخت تنگ حالی کی مصیبت سے دوچار ہوئے، اور ابوطالب کثیر العیال تھے، اللہ کے رسولﷺ نے اپنے چچا عباس سے جو خوشحال لوگوں میں سے تھے، کہا: چچا! آپ کے بھائی ابوطالب کثیر العیال ہیں اور آپ کو معلوم ہے کہ لوگ کس طرح مصائب سے دوچار ہیں، چلیے ان کا کچھ بوجھ ہلکا کریں، ان کے بال بچوں میں سے ایک کی پرورش میں اپنے ذمہ لیتا ہوں، اور ایک آپ اپنے ذمہ لے لیں، عباس نے کہا: ٹھیک ہے۔

چنانچہ دونوں ابوطالب کی خدمت میں پہنچے اور کہا: ہم دونوں اس لیے آئے ہیں کہ جب تک یہ تنگی اور سختی کا زمانہ ہے، اور جس میں سب ہی گرفتار ہیں، اس وقت تک ہم آپ کے بال بچوں کا کچھ بوجھ اپنے ذمہ لے کر آپ کی پریشانیوں کو ہلکا کریں، ابوطالب نے ان دونوں سے کہا: عقیل کو میرے پاس چھوڑ دو، باقی کے بارے میں جس طرح چاہو فیصلہ کرلو، چنانچہ آپﷺ نے علی رضی اللہ عنہ کی ذمہ داری خود لی، اور جعفر کی کفالت عباس رضی اللہ عنہ نے قبول فرمائی، علی رضی اللہ عنہ اس وقت سے رسول اللہﷺ سے وابستہ رہے، یہاں تک کہ وہ وقت آیا جب آپﷺ کو اللہ تعالیٰ نے نبی بنا کر مبعوث کیا اور سیدنا علی بن ابی طالب نے آپﷺ کا اتباع کیا، آپ کی صداقت پر ایمان لائے، اور تصدیق کی، جبکہ جعفر عباس رضی اللہ عنہ کی کفالت میں رہے یہاں تک کہ اسلام لے آئے، اور کفالت کی ضرورت باقی نہ رہی۔

(السیرۃ النبویۃ، ابن ہشام: جلد 1 صفحہ 246)

اس واقعہ میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ رسول اللہﷺ اپنے چچا محترم ابوطالب کو ان کی بے انتہا شفقت اور عظیم احسان کا بہترین صلہ دینا چاہتے تھے، کیوں کہ دادا عبدالمطلب کے بعد انھوں نے ہی آپﷺ کی کفالت کی تھی، چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت یہ رہی کہ ان کی تربیت آپﷺ کے زیر سایہ ہوئی اور ایسی ذات نے آپ کو ادب سکھایا، جو اللہ کی تربیت یافتہ تھی، اور اللہ نے اسے اپنے حفظ و امان میں رکھا تھا، قرآن اس کے اخلاق کا آئینہ دار تھا، پس اس عظیم ترین شخصیت کی تربیت کی برکت تھی کہ علی رضی اللہ عنہ قرآنی اخلاق کے ڈھانچہ میں ڈھل اور سنور گئے، اور یہی تربیت آپ کی پہلی و آخری تربیت ٹھہری۔

چنانچہ اسلامی گھرانہ میں آپ پلے بڑھے، زندگی کے بالکل ابتدائی مرحلہ ہی سے اسلام کے اسرار و رموز سے واقفیت ہوئی، یہ سب کچھ اس وقت کی بات ہے جب کہ اسلام بالکل نوزائیدہ تھا، اسلام کی دعوت خانۂ نبوت کی چار دیواری سے باہر نہ نکلی تھی اور نہ ہی اپنے انصار و معاونین کی تلاش میں آگے بڑھی تھی کہ وہ لوگ اسے تقویت پہنچاتے، لوگوں کے درمیان اسے عام کرتے اور انھیں تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اسلام کی طرف سبقت کا شرف تو حاصل ہے، لیکن اس نقطہ پر لوگوں میں اختلاف ہے کہ سیدہ خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا کے بعد سب سے پہلے کون اسلام لائے، کیا وہ ابوبکر تھے یا علی رضی اللہ عنہما! میرا رجحان اس بات کی طرف ہے کہ آزاد مردوں میں سب سے پہلے حضرت ابوبکر صدیقؓ اسلام لائے اور بچوں میں علی رضی اللہ عنہ اور عورتوں میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا۔ واضح رہے کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا مطلق طور سے سب سے پہلے اسلام لائیں اور غلاموں میں زید بن حارثہ

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 3 صفحہ 26-28 الاوائل من الصحابۃ و ذو الفضل منہم والنجابۃ، رضوان جامع: صفحہ 23)

رضی اللہ عنہ اسی طرح امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ بچوں میں سب سے پہلے اسلام لائے۔