ذمی عورتوں کی وضع قطع مسلمان عورتوں سے جدا ہوں
واجب ہے کہ اُن کی عورتوں سے بھی مسلمان عورتوں سے تمیز کر دی جائے، راہ چلنے کی حالت اور حماموں میں داخل ہونے کی حالت میں، چنانچہ اس غرض سے ان کی عورتوں کی گردنوں میں لوہے کے طوق ڈلوائے جائیں اور مسلمان عورتوں کی ازار اور ان کی ازار مخالف رہے، اور ان کے گھروں کے دروازوں پر ایسے علامات مقرر کر دیئے جائیں جن سے مسلمانوں کے گھروں سے تمیز ہو جائے تاکہ یہ نہ ہو کہ اُن کے دروازوں پر سائل کھڑا ہو کر ان کے واسطے مغفرت کی دعا کرے۔
پس حاصل یہ ہے کہ ایسے امور سے اُن کی تمیز کر دینی واجب ہے کہ وہاں کے لوگوں میں یہ امور بسبب رواج و زمانہ کے ذلت و حقارت و مقہوریت پر دلالت کریں۔ تاکہ اُن کے ذلیل و حقیر و مقہور ہونے پر اشعار ہو جائے ۔
(فتاویٰ عالمگیریہ اردو: جلد 3 صفحہ 519)