سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ابو طالب کے درمیان کیا پیش آیا
علی محمد الصلابیابن اسحاقؒ کا بیان ہے کہ بعض اہل علم بیان کرتے ہیں کہ جب نماز کا وقت ہوتا تو رسول اللہﷺ مکہ کی کسی گھاٹی میں جا کر عبادت کرتے اور آپ کے ساتھ علی بن ابی طالب بھی اپنے والد، چچا اور تمام افراد خاندان سے چھپ چھپ کر جاتے اور تمام نمازیں رسول اللہﷺ کے ساتھ ادا کرتے، شام ہو جاتی تو گھر واپس آتے، یہ سلسلہ جب تک اللہ کو منظور تھا، جاری رہا، ایک دن جب کہ یہ دونوں نماز پڑھ رہے تھے، ابوطالب نے دیکھ لیا، ابوطالب نے رسول اللہﷺ سے پوچھا: عزیز من! یہ کون سا دین ہے جس کی تم پیروی کر رہے ہو؟ آپﷺ نے جواب دیا: عم محترم! اللہ کا، اللہ کے فرشتوں کا، اس کے پیغمبروں کا اور ہمارے جد امجد ابراہیم علیہ السلام کا دین ہے۔
دوسری روایت کے بموجب آپﷺ نے فرمایا: اللہ نے مجھے اپنے بندوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا ہے، اور چچا جان! آپ سب سے زیادہ اس بات کے مستحق ہیں کہ آپ کے ساتھ خیرخواہی کروں اور راہ راست کی طرف دعوت دوں، آپ سب سے زیادہ مستحق ہیں کہ میری دعوت قبول فرمائیں اور میری مدد کریں، ابوطالب نے جواب دیا: اے میرے بھتیجے! میں اپنے آباء و اجداد کا مذہب اور ان کے طور طریق نہیں چھوڑ سکتا، لیکن اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جب تک میں زندہ ہوں تمھیں کوئی گزند نہیں پہنچے گا، سیرت نگاروں کا بیان ہے کہ آپ نے اپنے صاحبزادہ علی سے کہا: اے بیٹے! یہ کون سا مذہب ہے جس پر تم چل رہے ہو؟ انھوں نے کہا: والد صاحب! میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لا چکا ہوں اور رسول اللہﷺ کے ساتھ اللہ کی عبادت کرتا ہوں اور ان کی پیروی کرتا ہوں، راویوں کا خیال ہے کہ اس کے جواب میں ابوطالب نے کہا: وہ تمہیں اچھی بات ہی کی طرف بلاتے ہیں، لہٰذا اس پر قائم رہو۔
(السیرۃ النبویۃ، ابن ہشام: جلد 1 صفحہ 246 المرتضیٰ، الندوی: صفحہ 35)