کیا مکہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہﷺ کی معیت میں خانہ کعبہ کے بتوں کو توڑا تھا؟
علی محمد الصلابیحضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن ہم اور رسولﷺ گھر سے نکلے اور کعبہ کے پاس آئے، رسول اللہﷺ نے مجھ سے فرمایا: بیٹھ جاؤ، پھر آپ میرے کاندھوں پر پیر رکھ کر اونچے ہوئے اور کہا کہ کھڑے ہو جاؤ، میں کھڑا ہوا، مگر میری کمزوری کو آپ نے محسوس کر لیا، فرمایا: بیٹھ جاؤ، پھر خود آپﷺ بیٹھ گئے اور مجھ سے کہا کہ میرے کاندھوں پر سوار ہو جاؤ جب ایسا کیا اور آپﷺ مجھے لیے ہوئے کھڑے ہو گئے، تو مجھے ایسا لگا کہ اتنا اونچا ہو رہا ہوں، گویا آسمان کی بلندی تک پہنچ جاؤں گا، میں اس طرح کعبہ کی چھت پر پہنچ گیا، وہاں پیتل یا تانبے کا بنا ہوا بت رکھا ہوا تھا، اس کو میں دائیں بائیں موڑنے اور آگے پیچھے جھکانے لگا، یہاں تک کہ جب اس کو اپنے قابو میں لے آیا تو آپﷺ نے مجھ سے فرمایا: ’’اُقْذَفْ بِہٖ‘‘ اسے گرادو، میں نے اسے گراد یا، وہ چورا چورا ہوگیا، جیسا کہ شیشے کے برتن ٹوٹ کر چور چور ہوجاتے ہیں، پھر میں اترا اور ہم دونوں تیز قدم چلتے ہوئے گھروں کے پیچھے آ گئے کہ کہیں کوئی ہمیں دیکھ نہ لے۔ (مسند أحمد، الموسوعۃ الحدیثیہ: حدیث نمبر 644 اس کی سند ضعیف ہے۔امام حاکم نے اس کی تصحیح کی ہے، لیکن امام ذہبیؒ نے اس پر استدراک کرتے ہوئے کہا کہ اس کی سند ضعیف اور متن منکر ہے، احمد میرین بلوچی نے اپنے جس مقالہ میں امیر المؤمنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے خصائص و فضائل کی روایات کو تحقیق کیا ہے، اس میں حدیث کے ایک ایک راوی پر تحقیقی گفتگو کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یہ حدیث ضعیف ہے۔ دیکھیے: مقالہ کا: صفحہ 125-136 حالانکہ احمد شاکر نے اپنی تحقیق میں اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ جلد 2 صفحہ 58)
اس حدیث کی سند ضعیف ہے، اور جب حدیث صحیح نہیں ہے تو اس سے کوئی حکم بھی اخذ نہیں کیا جا سکتا جیسا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے، لہٰذا نبی کریمﷺ کی مکی زندگی کی دعوت کی جو بنیاد ہے کہ آپﷺ اس مرحلہ میں صحابہ کرامؓ کو دشمنان دین کے خلاف قوت استعمال کرنے یا ان کے بتوں اور معبودوں پر دست درازی اوران کی بے حرمتی کرنے سے روکتے تھے، وہی ثابت اور صحیح ہے۔ ہاں آپﷺ نے فتح مکہ کے سال خانہ کعبہ کو بتوں سے پاک کیا اور اسی فتح عظیم کے بعد آپ نے پورے جزیرۂ عرب کو بتوں سے پاک کرنے کے لیے مختلف سریے روانہ کیے، اور یہ سب کچھ اس وقت کیا جب آپ کو طواغیت اور شرک کی آماجگاہوں کے صفایا کرنے پر پوری قدرت حاصل ہو گئی۔