کیا رسول اللہﷺ کی رہنمائی پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ابوطالب کو دفن کیا تھا؟
علی محمد الصلابیسیدنا علی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ وہ نبی کریمﷺ کے پاس آئے اور آپ کو خبر دی کہ ابوطالب کی وفات ہو گئی، نبی کریمﷺ نے فرمایا: ’’اِذْہَبْ فَوَارِہٖ‘‘ جاؤ اسے لے جا کر دفن کر دو۔ سیدنا علیؓ نے کہا: وہ تو شرک پر مرے ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا: جاؤ اسے لے جا کر دفن کر دو۔ چنانچہ جب میں انھیں دفن کر چکا تو نبی کریمﷺ کے پاس واپس آیا، آپ نے مجھ سے فرمایا: ’’غسل کر لو۔‘‘
(مسند أحمد، الموسوعۃ الحدیثیۃ: حدیث نمبر: 759 اس کی سند ضعیف ہے اور موسوعۃ حدیثیہ میں سند کے رجال پر حکم سے متعلق کافی مفید بحث مفصل موجود ہے)
ایک روایت میں ہے کہ کہا: جاؤ، غسل کر لو۔ اس سے پہلے کوئی بات مت کرو۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں غسل کر کے آپ کے پاس آیا، آپﷺ نے میرے لیے ایسی بیش بہا دعائیں کیں کہ اگر مجھے ان کی جگہ پر سرخ اونٹ بھی مل جاتے تو ان سے اتنی خوشی نہ ہوتی، جتنی اس سے ہوئی، سند کے ایک راوی عبدالرحمٰن السلمی کا کہنا ہے کہ اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ جب کسی میت کو نہلاتے تو خود بھی غسل کرتے۔
(الصحیح المسند فی فضائل الصحابۃ: صفحہ 188 مصطفی عدوی کی تحقیق میں یہ حدیث اپنی تمام اسناد کی روشنی میں درجہ حسن تک پہنچتی ہے اور انھوں نے اس کے شواہد کو بھی ذکر کیا ہے)