Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

ذمیوں کو عبادت کیلئے جمع ہونے یا بلند آواز سے زبور و انجیل وغیرہ پڑھنے کی دار الاسلام میں اجازت نہیں


 نصاریٰ کو اختیار نہیں ہے کہ اپنے گھر میں مسلمانوں کے شہر میں ناقوس بجائے اور اختیار نہیں ہے کہ نصرانیوں کو اپنے گھر میں نماز کے واسطے جمع کرے، ہاں اس کو یہ اختیار ہے کہ خود تنہا نماز پڑھ لے، اور نصرانیوں کو یہ اختیار نہیں کہ اپنے کنیسوں سے صلیبیں وغیرہ نکالیں، اور اگر انہوں نے زبور یا انجیل پڑھنے میں اپنی آواز بلند کی پس اگر اس میں اظہار شرک ہو تو اس سے منع کئے جائیں گے، اور اگر اس سے اظہار شرک واقع نہ ہو تو ممانعت نہیں کی جائے گی۔ اور مسلمانوں کے بازاروں میں اس کے پڑھنے سے منع کر دیئے جائیں گے، اور اسی طرح اسلام کے شہر و فنائے شہر میں شراب و سور کے فروخت کرنے اور شراب و سور ظاہر کرنے سے منع کیے جائیں گے، اور اگر فنائے شہر سے دور ہو گئے تو وہاں صلیب نکالنے و ناقوس بجانے میں مضائقہ نہیں ہے، اور ہر دیہ موضع میں جو شہر ہائے اسلام سے نہ ہو وہاں ایسے امور سے منع نہ کئے جائیں گے اگرچہ اس مقام میں گنتی کے چند مسلمان رہا کرتے ہوں، ایسا ہی امام محمد رحمۃ اللہ نے سیر کبیر میں فرمایا ہے، اور بہت سے ائمہ بلخ رحمھم اللہ نے فرمایا کہ یہ قول امام محمدؒ نے نظر بخصوص دیہات کوفہ فرمایا ہے، اس واسطے کہ وہاں ان دیہات کے تمام رہنے والے ذمی اور روافض ہیں اور ہمارے دیار کے دیہاتوں میں بھی اہلِ ذمہ ایسے امور سے منع کئے جائیں گے جیسے شہروں میں منع کئے جاتے ہیں، اور ہمارے مشائخ نے فرمایا کہ دیہات میں ایسے امور کے اظہار و احداث سے کسی حال میں منع نہ کئے جائیں گے۔

اور تجنیس خواہر زادہ میں فرمایا کہ اگر اہلِ ذمہ نے مسلمانوں کے شہروں میں سے کسی شہر میں یا مسلمانوں کے گاؤں میں سے کسی گاؤں میں ایسا کوئی امر کیا جس پر صلح نہیں کی ہے یعنی داخل صلح نہیں ہے مثل زمار فواحش، مزامیر ، طبل، راگ لہو اور نوحہ سے رونا اور کبوتر بازی وغیرہ تو اس سے منع کئے جائیں گے جیسے مسلمان منع کئے جاتے ہیں۔

(الفتاویٰ عالمگيريہ اردو: جلد 3 صفحہ 519)