اس واقعہ سے حاصل ہونے والے فوائد اور درس و عبرت کی باتیں
علی محمد الصلابیابوذر رضی اللہ عنہ کو یہ بات معلوم ہو چکی تھی کہ قریش کے لوگ نبی کریمﷺ سے بات چیت کرنے والوں کو ناپسند کرتے ہیں، اس لیے آپ نے موقع کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے حفاظتی تدبیر اختیار کیا اور کسی سے آپﷺ کے بارے میں نہ پوچھا، اگر کسی سے پوچھ لیتے تو قریش والوں کو ان کی آمد کا مقصد معلوم ہو جاتا۔ پھر کوئی بعید بات نہ تھی کہ آپ کو تکالیف دیتے اور مکہ سے بھگا دیے جانے کا سامنا کرنا پڑتا اور جس مقصد کے لیے آپ نے سفر کی صعوبتیں برداشت کی تھیں اور اپنی قوم کو خیرباد کہا تھا، اس سے ناکام لوٹتے۔
مقصد کے اظہار سے پہلے احتیاط و آگاہی
جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مکہ آمد کا سبب معلوم کرنا چاہا تو حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے انتہائی احتیاط سے کام لیا اور کوئی جواب نہ دیا، حالانکہ تین دن تک حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آپ کی ضیافت کی تھی اور جب بتایا بھی تو اس شرط پر کہ میرے معاملہ کو راز ہی میں رکھیں گے، اور محمدﷺ تک پہنچانے میں میری مدد کریں گے، چنانچہ اس طرح آپ اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے۔
منزل تک پہنچنے کے لیے خفیہ حفاظتی تدابیر:
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ اندیشہ ہوا کہ کوئی ان دونوں کو دیکھ نہ رہا ہو یا تعاقب میں لگا ہو تو آپ نے حضرت ے ابوذر رضی اللہ عنہ کو مخصوص حرکت و اشارہ سمجھا دیا کہ وہ حرکت و اشارہ میں ہی حالت کی نزاکت کو سمجھ لیں گے، مثلاً یہ کہ جوتا صحیح کرتا دیکھیں یا یہ دیکھیں کہ میں پانی گرا رہا ہوں۔ بلاشبہ اصل منزل یعنی دار ارقم تک پہنچنے کے لیے یہ ایک کامیاب خفیہ حفاظتی تدبیر تھی، جو اسی پر بس نہ تھی بلکہ مکمل احتیاط برتتے ہوئے اور چلنے کے دوران ہر ناگہانی آفت سے بچاؤ کرتے ہوئے آپ ابوذر سے فاصلہ پر چل رہے تھے۔
امن اور حفاظت کے یہ متحرک نقوش صحابہؓ کے کمالِ تحفظ اور احتیاط کے دلائل ہیں:
صحابہ کرامؓ کی حفاظتی حِس اس قدر بیدار تھی اور ان کے دل و دماغ میں اس طرح ہلچل مچی رہتی تھی کہ وہی ان کے اہم اور غیر اہم کاموں کی امتیازی صفت قرار پاتی، ان کی نقل و حرکت منظم و مجرب ہوتی تھی، چنانچہ ہمیں صحابہ کرام کی طرح بیدار مغز رہنے کی سخت ضرورت ہے، خاص طور سے آج کے اس دور میں جب کہ حکومتوں اور تہذیبوں کے زوال و بقا نیز قوموں، جماعتوں، اداروں اور تنظیموں کی کمزوری ختم کرنے اور انھیں استحکام بخشنے میں امن و تحفظ کی فراہمی کی بڑی اہمیت ہے اور اس کے لیے مخصوص ادارے قائم ہیں، جدید سے جدید ترین ٹیکنالوجی استعمال کی جاتی ہے، نئے نئے اسلوب، ترقی یافتہ وسائل، مستقل مشینریوں اور بھاری بھرکم بجٹ کو کام میں لایا جاتا ہے، اس باب میں علم و آگہی کا دائرہ اب اتنا عام ہو چکا ہے کہ حفاظتی اسباب و معلومات کافی مہنگے داموں میں فروخت ہو رہے ہیں، اس میدان میں مقصد برآری کے لیے بوقت ضرورت جان قربان کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا جاتا، جب امن و تحفظ کا معاملہ اتنا اہم ہے تو ہم مسلمانوں پر واجب ہے کہ اس پہلو پر دھیان دیں تاکہ ہمارے داخلی مسائل اور خفیہ معلومات دشمنوں کے ہاتھ کا کھلونا نہ بن جائیں۔
(دروس فی الکتمان، محمود شیث خطاب: صفحہ 9 السیرۃ النبویۃ عرض و قائل و تحلیل أحداث: جلد 1 صفحہ 17)