ذمیوں کے لئے دار الاسلام میں جدید شہر کے مسائل
اور اگر مسلمانوں نے اراضی موات (غیر آباد بنجر زمین) میں جس کا کوئی مالک نہیں ہے کسی شہر کی بنیاد ڈالی اور اس اراضی کے قریب میں اہلِ ذمہ کے گاؤں ہیں پھر شہر مذکور بہت بڑھ گیا یعنی آبا مدی بہت بڑھی یہاں تک کہ ان گاؤں تک پہنچے یا ان سے متجاوز ہو گئی تو یہ دیہات اس شہر سے ہو جائیں گے، کیونکہ شہر نے ان کے اطراف سے ان کو گھیر لیا ہے پھر اگر ان ذمیوں کے قدیمی بیعے و کنائس ان دیہاتوں میں ہوں تو وہ اپنے حال پر چھوڑ دیئے گئے۔ اور اگر مسلمانوں کے شہر ہو جانے کے بعد انہوں نے ان دیہاتوں میں جو شہر میں سے گئے ہیں کوئی بیعہ یا کنیسہ یا آتش خانہ جدید بنانا چاہا تو اس سے منع کر دیئے جائیں گے شہر ہائے اسلام میں سے جو شہر ایسا ہو کہ اس میں نماز ہوتی ہو اور حدود شرعی قائم ہوں وہاں کسی مسلمان یا ذمی کو نہ چاہیے کہ اعلانیہ شراب یا سور داخل کرے۔ اور اگر کسی مسلمان نے ایسے شہر میں شراب یا سور داخل کی اور کہا کہ میں اس شہر سے ہو کر جاتا تھا اور شراب کو میں سرکہ بنانے کو لے جاتا ہوں یا کہا کہ یہ میری نہیں ہے بلکہ دوسرے کی ہے اور یہ نہ بتلایا کہ کس کی ہے تو دیکھا جائے گا کہ اگر شخص مرد متدین ہو کر اس پر شراب خوری کا شبہ و اتنام نہ ہو تو اس کی راہ چھوڑ دی جائے گی اور حکم دیا جائے گا کہ اس کو سرکہ کر دے اور اگر مرد مذکور شراب خوری میں مہتم ہو یعنی اس پر شبہ ہو تو اس کی شراب بہا دی جائے گی اور اس کے سور ذبح کر کے آگ سے جلا دیئے جائیں گے اور اگر امام نے دیکھا کی بغیر تعزیر کے باز نہ آئے گا اور قصد کیا کہ اس کو کوڑے مار کر قید کر کے تعزیز دی جائے گی یہاں تک کہ اس کی توبہ ظاہر ہو تو ایسا کر سکتا ہے۔ اور اگر اس نے فقط کوڑے مارے یا قید کرنے پر اکتفاء کیا تو یہ بھی کر سکتا ہے مگر اس کو یہ نہ چاہیے کہ جس مشک یا کتے یا ظرف دیگر میں شراب تھی اس کو پھاڑ ڈالے یا توڑ ڈالے اور اگر اس مشک وغیرہ کو پھاڑ ڈالا یا ظرف کو توڑ ڈالا تو اس کا ضامن ہو گا۔
اور کتاب العشر والخراج میں فرمایا کہ ان میں سے کسی کو نہ چھوڑا جائے گا کہ مسلمانوں کے شہروں میں سے کسی شہر میں کوئی گھر یا حویلی خریدے اور نیز کسی کو یہ بھی اختیار نہیں دیا جائے گا کہ شہر اسلام میں رہنے پائے اور اسی روایت کو حسن بن زیاد رحمۃ اللہ نے اختیار کیا ہے۔
اور عامہ کتب کی روایات کی بناء پر ان کو دارالاسلام میں رہنے کی گنجائش دی جائے گی سوائے زمین عرب کے کہ اگر کوئی شہر یا صوبہ عرب ہو مثل حجاز وغیرہ کے تو وہاں ان کو رہنے کا قابو نہیں دیا جائے گا۔
(فتاویٰ عالمگيريہ اردو: جلد 3 صفحہ 520)