شہادت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ (قسط چہارم) - دفاعِ اہلِ…

شہادت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ (قسط چہارم)

  پروفیسر نقیہ کاظمی

صفحہ 2 از 3
حضرت علیؓ نے جب حالات کی سنگینی بڑھتی دیکھی تو آپؓ نے اپنے دونوں صاحبزادوں حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما کو سیدنا عثمانؓ کے دروازے پر کھڑا ہونے کا حکم دیا اور فرمایا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی حفاظت کرنا اور کسی بھی باغی کو آپؓ تک پہنچنے نہ دینا، سیدنا طلحہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہما نے بھی اپنے جوان بچوں کو آپؓ کی حفاظت پر مامور کر دیا یہ نوجوان حضرت عثمانؓ کے دروازے پر کھڑے ہو گئے تا کہ باغی اندر جانے میں کامیاب نہ ہوں۔
آپؓ کا عقیدہ تھا کہ اس موقع پر سیدنا عثمانؓ کی نصرت اور ان کی حفاظت نہ کرنا گناہ ہے، آپؓ خود فرماتے ہیں
واللہ قد دفعت عنہ قد خشیت ان اکون آثما۔
(نہج البلاغہ: جلد، 2 صفحہ، 261) 
خدا کی قسم میں نے حضرت عثمانؓ کی طرف سے پورا دفاع کیا یہاں تک کہ مجھے خوف ہوا کہ کہیں میں گنہگار نہ ٹھہروں.
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے آس پاس جو حضرات موجود تھے یا جو لوگ کسی نہ کسی طریقے سے آپؓ کے پاس آ سکتے تھے انہوں نے حالات کی سنگینی دیکھ کر سیدنا عثمانؓ سے عرض کیا کہ اگر آپؓ ہمیں اجازت دیں تو ہم ان لوگوں سے قتال کریں اور انہیں ان کی اس حرکت کا سختی سے جواب دیں۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں اس کی اجازت نہ دی اور نہایت سختی سے ان سب کو ہاتھ اٹھانے سے روک دیا، حضرت علیؓ نے پیغام بھیجا کہ میرے ساتھ پانچ سو کے قریب زرہ پوش لوگ موجود ہیں اگر آپؓ اجازت دیں تو انہیں آپؓ کے دفاع کے لیے بھیج دیا جائے اس لیے کہ آپؓ نے کوئی ایسا جرم نہیں کیا جس کی بناء پر آپؓ کا خون کرنا حلال ٹھہرے، آپؓ نے حضرت علیؓ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ آپؓ کو اس کی جزا دے میں پسند نہیں کرتا کہ میری وجہ سے یہاں خون خرابہ ہو۔
فانک لم تحدث شیئا یستحل بہ دمک فقال جزیت خیرا ما احب ان یھراق دم فی سببی۔
(تاریخ دمشق: جلد، 16 صفحہ، 220)
اب یہاں تک کہ اس جھوٹ کو بھی دیکھیں جو شیعہ علماء دن رات بولتے ہیں اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت پر خوش ہوتے ہوئے نہیں شرماتے.
ہندوستان کے علاقہ اودھ کے ایک رافضی ملا حسین بخش کا بغضِ باطنی ملاحظہ کیجئے وہ لکھتا ہے۔
قتلِ عثمانؓ قطعی کوئی جرم نہیں تھا بلکہ یہ تو اسلامی معاشرے کے اعلیٰ مقاصد کے عین مطابق تھا اور خود حضرت علیؓ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دفاع کے لیے راضی نہ تھے۔
(امامت و ملوکیت: صفحہ، 123) 
یہ جھوٹ نہیں تو اور کیا ہے؟ کیا سیدنا علیؓ نے سیدنا عثمانؓ کو دفاع کی پیشکش نہیں کی؟ آپؓ نے اپنے بچوں کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی حفاظت کے لیے نہیں بھیجا؟ کیا سیدنا حسن رضی اللہ عنہ حضرت عثمانؓ کی مدافعت کرنے میں زخمی نہیں ہوئے تھے؟ ان سب کے باوجود بھی اگر ملا حسین بخش اور اس قبیل کے لوگ جھوٹ پر جھوٹ بولتے رہیں تو پھر اس یقین سے چارہ نہیں کہ یہ لوگ واقعی ابنِ سبا کی روحانی اولاد ہیں۔ 
جلیل القدر صحابی حضرت زیدؓ بن ثابت حضرت عثمانؓ کے پاس آئے اور کہا کہ بہت سے لوگ آپؓ کے پاس آنا چاہتے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ اگر آپؓ چاہیں تو ہم اللہ کے لیے آپؓ کی مدد کرنے کی تیاری کر رہے ہیں ہم اللہ کی فوج بن جائیں اور انہیں ان کے بھولے ہوئے دن پھر سے یاد دلا دیں اور ان کی شرارتوں کا مزہ انہیں چکھا دیں، آپؓ ہمیں اس کی اجازت دیں آپؓ نے فرمایا کہ نہیں میں تمہیں قتال کی اجازت نہیں دیتا۔
ان شئت کنا انصار اللہ مرتین قال فقال عثمانؓ اما القتال فلا۔
(طبقات ابن سعد: جلد، 3 صفحہ، 51) 
آپؓ سے جن لوگوں نے بھی قتال کی اجازت مانگی اور کہا کہ انہیں مقابلہ کی اجازت دیں تو آپؓ نے انہیں منع کر دیا اور فرمایا کہ میرے دفاع کی ضرورت نہیں اور تم اپنے ہاتھوں اور ہتھیاروں کو روکے رکھو۔ سیدنا عامر بن ربیعہؓ کہتے ہیں۔
ان اعظمکم عنی غناء رجل کف یدہ و سلاحہ۔
(المصنف لابن ابی شیبہ: جلد، 7 صفحہ، 442)
(سنن سعید بن منصور: جلد، 2 صفحہ، 336)
میرا سب سے بڑا مددگار وہ ہے جو میرے دفاع میں ہاتھ اور تلوار نہ اٹھائے۔
آپؓ کے غلام آپؓ کی حمایت میں آگے بڑھنے اور آپؓ پر جان نچھاور کرنے کے لیے تیار تھے، صرف انہیں آپؓ کے حکم کا انتظار تھا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے جب انہیں دیکھا تو ارشاد فرمایا کہ تم میں سے جو شخص بھی اپنے ہاتھوں کو روک رکھے وہ آزاد ہے۔
من کف یدہ فھو حر۔
(منہاج السنہ: جلد، 6 صفحہ، 286) 
حضرت عبداللہ بن عامرؓ کہتے ہیں کہ میں اس وقت حضرت عثمانؓ کے ساتھ ان کے گھر میں موجود تھا آپؓ نے فرمایا کہ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اسے میری بات سننا اور ماننا ضروری ہے اسے لازم ہے کہ وہ اپنے ہاتھ اور ہتھیار کو لڑائی سے روکے رکھے۔ 
اعزم علی کل من رأی ان علیہ سمعا وطاعۃ الا کف یدہ و سلاحہ
(العواصم من القواصم: صفحہ، 138) 
حضرت حسنؓ نے آپؓ سے کہا کہ امیر المؤمنینؓ میں سیدنا حسن بن علیؓ ہوں آپؓ امام برحق ہیں آپؓ مجھے حکم دیں تو میں اس بلوہ کا راستہ روکوں
تو امام برحق مرا فرمان دہ تابلائے ایں از قوم تو دفع کنم
(کشف المحجوب: صفحہ، 52)
آپؓ نے فرمایا بھتیجے بیٹھ جائیے اور انتظار کیجئے کہ اللہ کیا فیصلہ فرماتے ہیں میرے لیے اب اس دنیا میں کوئی دلچسپی نہیں ہے یا فرمایا کہ میرے لیے جنگ میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔
اجلس یا ابن اخی حتیٰ یاتی اللّٰہ بامرہ فانہ لا حاجۃ لی فی الدنیا او قال فی القتال۔
(المصنف لعبد الرزاق: جلد، 11 صفحہ، 447)
حافظ ابنِ کثیرؒ لکھتے ہیں۔
و معہ السیف متقلدا بہ یحاجف عن عثمانؓ فخشی عثمانؓ علیہ لیرجعن الی منازلھم تطییبا لقب علیؓ وخوفا علیہ۔
(البدایہ: جلد، 8 صفحہ، 37)
فیھم عبداللہ بن عمر و فیھم الحسن بن علی فی عنقہ السیف ولکن عثمانؓ عزم علیہم الا یقاتلوا۔
(تاریخ دمشق: جلد، 16 صفحہ، 219) 
حضرت حسن رضی اللہ عنہ گلے میں تلوار ڈالے آپؓ کی مدافعت کے لیے تیار تھے سیدنا عثمانؓ کو اس بات کا ڈر ہوا کہ کہیں حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو کوئی نقصان نہ پہنچے، آپؓ نے سیدنا حسنؓ کو حکم دیا کہ وہ اپنے گھر جائیں یہ بات حضرت علی رضی اللہ عنہ کی دلجوئی کے لیے بھی تھی اور اس لیے بھی کہ حضرت حسنؓ کو گزند نہ پہنچے۔
صفحہ 2 از 3