Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ شام میں بحری بیڑے کے قائد

  علی محمد الصلابی

سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے بنو فزارہ کے حلیف عبداللہ بن قیس الجاسی کو بحری بیڑے کا قائد مقرر کیا، انہوں نے موسم سرما و گرما میں پچاس بحری جنگیں کیں، نہ کوئی فوجی ڈوبا اور نہ مصیبت زدہ ہوا، آپ برابر دعا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کے لشکر کو عافیت عطا فرمائے اور ان میں سے کسی کو مصیبت زدہ کر کے ان کو آزمائش میں نہ مبتلا کرے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور ایسا ہی ہوا، لیکن جب تنہا جامِ شہادت نوش کرنا چاہا تو تنہا اپنی کشتی پر مقدمۃ الجیش کے طور پر نکلے پھر روم کی ایک بندرگاہ پر پہنچے، وہاں کچھ مانگنے والے ملے، ان کو نوازا، ان میں سے ایک خاتون اپنی بستی میں گئی اور لوگوں سے کہا تمھیں عبداللہ بن قیس چاہیے؟ لوگوں نے پوچھا وہ کہاں ہے؟ اس نے کہا: بندرگاہ میں۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کی دشمن تم عبداللہ بن قیس کو کیا پہچانو؟ اس نے ان لوگوں کو ڈانٹ پلائی اور کہا: تم عاجز لوگ ہو، حضرت عبداللہ بن قیسؓ کی شخصیت کسی پر مخفی رہنے والی ہے! لوگ اس کے کہنے پر بندرگاہ کی طرف روانہ ہوئے اور عبداللہ بن قیس پر حملہ آور ہوئے انہوں نے ڈٹ کر ان کا مقابلہ کیا، آخرکار جام شہادت نوش کر لیا۔ آپ کے ملاح نے واپس آ کر لشکر کو خبر دی۔ لشکر کی قیادت حضرت سفیان بن عوف ازدیؓ نے سنبھالی اور لشکر کو لے کر بندرگاہ پر پہنچے اور رومیوں سے مقابلہ کیا۔ مقابلہ کے دوران میں ساتھیوں کو سخت و سست کہنا شروع کیا تو حضرت عبداللہ بن قیسؓ کی لونڈی نے کہا کہ عبداللہ بن قیس قتال کے وقت ایسا نہیں کہتے تھے۔ سفیان نے اس سے دریافت کیا: تب کیا کہتے تھے؟ اس نے کہا: وہ کہتے تھے: (الغمرات ثم ینجلینا۔) ’’سختی کے اوقات ہیں، پھر ہم سے دور ہو جائیں گے۔‘‘ اس دن مسلمانوں میں سے کچھ لوگوں نے جام شہادت نوش کیا۔ یہ حضرت عبداللہ بن قیس الجاسیؓ کا آخری دور تھا۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 260)

اس خاتون سے جس نے حضرت عبداللہ بن قیسؓ کی خبر دی تھی پوچھا گیا: تم نے عبداللہ بن قیسؓ کو کیسے پہچانا؟ اس نے کہا: دیکھنے میں تو وہ ایک تاجر لگتا تھا، لیکن جب ہم نے اس سے سوال کیا تو اس نے بادشاہ کی طرح عطا کیا۔ اس وقت میں پہچان گئی کہ ہو نہ ہو یہ عبداللہ بن قیسؓ ہے۔

(ایضاً)

اور اس طرح جب اللہ تعالیٰ نے اس عظیم کمانڈر کو شہادت کا شرف عطا کرنا چاہا تو اسے اس کا موقع عنایت فرمایا۔ اس وقت آپ تنہا دشمن کی نقل و حرکت پر نگاہ رکھے ہوئے ان کی سراغ رسانی میں مشغول تھے۔ اسی اثناء میں اس ہوشیار عورت نے حقیقت کا پتہ چلا لیا، اس نے دیکھا کہ یہ شخص بظاہر ایک عام تاجر لگتا ہے لیکن اس کی داد و دہش بادشاہوں کی ہے۔ اس طرح اس نے سادگی کے باوجود عبداللہ بن قیسؓ کے اندر قیادت و سیادت کی علامت پہچان لی، اور اس کو یقین ہو گیا ہو نہ ہو یہ مسلمانوں کا کمانڈر ہے، جس نے اس ملک کے جنگجوؤں کے چھکے چھڑا دیے ہیں۔ اس طرح اس عظیم قائد کی غیر مسلموں کے ساتھ روا داری و سخاوت اور فراخ دلی اس کے راز کو فاش کرنے کا سبب بنی تاکہ اللہ تعالیٰ کا فیصل شدہ امر واقع ہو جائے، اور اس طرح دشمن کو حملہ کرنے کا موقع ملا اور پھر حضرت عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ شہادت کے شرف سے مشرف ہوئے۔

اس طرح مسلم قائدین نے اپنی جانوں کی قربانیاں دے کر اعلیٰ مثال قائم کی ہے تاکہ عظیم منصوبے ان کے ہاتھوں پایۂ تکمیل کو پہنچیں، اور وہ اپنے بعد والوں کے لیے صالح آئیڈیل ثابت ہوں۔ اس الہٰی تائید یافتہ کمانڈر نے سراغ رسانی کی ذمہ داری خود سنبھالی، اس کے لیے اپنے افواج کو مکلف نہیں کیا حالاں کہ تنہا اس ڈیوٹی کی ادائیگی میں دشمنوں کی طرف سے زک پہنچنے اور ہلاکت کا خطرہ تھا، لیکن اس کے باوجود اس نازک و خطرناک ذمہ داری کو خود سنبھالا، پھر ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام کے بلند اخلاق کا مظاہرہ کیا حتیٰ کہ دشمن کی خواتین اور کمزوروں کی طرف شفقت کا ہاتھ بڑھایا اور مال جو انسان کو انتہائی عزیز ہوتا ہے بے دریغ ان کو عطا کیا، اور اس سے قبل ہم دیکھ چکے ہیں کہ اپنے افواج کے ساتھ انتہائی نرم اور صابر رہے، کبھی ان کو سخت و سست نہیں کہا اور نہ ان کی تحقیر کی، اور جب بھی خطرات میں گھرے اچھی فال لی، اپنے ساتھیوں کو برا بھلا نہ کہا اور الجھن و پریشانی آپ کو لاحق نہیں ہوئی جس سے معاملات خراب ہوتے ہیں اور خلل و فساد برپا ہوتا ہے۔ البتہ آپ کے نائب سفیان ازدیؓ ابتداء میں الجھنوں کا شکار ہوئے اور اپنے افواج پر ملامت شروع کی، کیوں کہ انہیں ابھی قیادت کا تجربہ نہ تھا، لیکن جب عبداللہ بن قیسؓ کی لونڈی نے آپ کو اس سلسلہ میں متنبہ کیا تو آپ نے بلاتامل اپنے سابق کمانڈر اِن چیف کے اسوہ کو اختیار کرنے میں جلدی کی اور کلمۂ حق کو قبول کرنے میں کبر و غرور مانع نہ ہوا، اگرچہ ایک معمولی لونڈی نے یہ کلمہ ادا کیا تھا۔ یہ خواہشاتِ نفس اور کبر و غرور سے تجرد و صفائی کی ایک مثال ہے۔ اور یہ عظیم اخلاق و بلند کردار اسلام کی زندگیوں میں عام طور سے پایا جاتا تھا۔ یہی چیزیں عظیم فتوحات، والیان و قائدین کے ملکی انتظام و انصرام میں کامیابی کا سبب بنیں۔ اللہ ہی کے لیے اس دور کے سپوتوں کی خوبیاں ہیں، ان کا ذکر کس قدر بلیغ ہے، کس قدر وہ باریک بیں تھے، اور روئے زمین میں ظالموں و جابروں پر ان کی پکڑ کس قدر سخت تھی۔ روئے زمین میں مظلومین و مساکین کے ساتھ ان کا برتاؤ کس قدر بہترین تھا۔

(التاریخ الاسلامی: جلد 12 صفحہ 402)