مصری محاذ کی فتوحات - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مصری محاذ کی فتوحات

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

جب حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ اسکندریہ پہنچے تو اس کا محاصرہ کر لیا، منجنیقیں نصب کر دیں، اور اسکندریہ کی فصیلوں پر گولہ باری کرتے رہے یہاں تک کہ وہ کمزور ہو گئیں، اور گولہ باری کی شدت جاری رکھی یہاں تک کہ اسکندریہ کے لوگوں کی ہمت پست ہو گئی اور فصیلیں ٹوٹ گئیں، اور اس محفوظ شہر نے اپنے دروازے ان کے سامنے کھول دیے، اور مسلمانوں اسکندریہ میں فاتحانہ طریقہ سے داخل ہو گئے، اور رومیوں کو دل کھول کر قتل کیا عورتوں اوربچوں کو اسیر کیا، اور جو موت سے بچ نکلے وہ کشتیوں کی طرف بھاگے تاکہ اس طرح وہ اپنے مرکز کو واپس لوٹ جائیں، اس جنگ میں منویل قتل ہوا۔ مسلمان برابر قتل و قید کرتے رہے یہاں تک کہ شہر کے وسط میں پہنچ کر حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے ان کو اس وقت جنگ سے رک جانے کا حکم دیا جب کہ مقابلہ کے لیے ان کے سامنے کوئی باقی نہ رہا۔

(ایضاً)

جب مسلمان جنگ سے فارغ ہوئے تو حضرت عمرو بن العاصؓ رضی نے شہر کے وسط میں جہاں قتال بند کیا تھا مسجد تعمیر کرنے کا حکم جاری کیا اور اس کا نام ’’مسجد رحمت‘‘ رکھا۔

(جولۃ تاریخیۃ: صفحہ 338)

اس قدیم دارالحکومت میں امن و امان بحال ہوا۔ مصریوں کے دلوں سے شکست کا احساس ختم ہوا، جو لوگ رومی حملہ کے خوف سے بھاگ گئے تھے وہ واپس ہوئے اور قبطیوں کا بطریق بنیامین جو رومی حملہ کی وجہ سے بھاگ گیا تھا اسکندریہ واپس آیا، اور حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے گزارش کرنے لگا کہ وہ قبطیوں سے کسی قسم کا مواخذہ نہ کریں کیوں کہ انہوں نے عہد و پیمان کی خلاف ورزی نہیں کی ہے، اسی طرح اس نے آپ سے گزارش کی کہ رومیوں سے مصالحت نہ کریں البتہ جب وہ مر جائے تو اس کو ’’یحنس‘‘ کنیسہ کے اندر دفن کرنے کی اجازت دے دیں۔

(جولۃ تاریخیۃ: صفحہ 345)

ہر چہار جانب سے مصری باشندے حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، رومیوں کے ظلم و ستم سے نجات دلانے پر ان کا شکریہ ادا کرنے لگے، اور آپ سے مطالبہ کیا کہ جنگ میں ان کے جو مال و مویشی لوٹے گئے ہیں اسے انہیں واپس کر دیا جائے پھر انہوں نے اپنی وفاداری اور اطاعت کا اعلان کیا اور کہا: رومیوں نے ہمارے مال و مویشی لوٹ لیے ہیں، اور ہم نے آپ کی مخالفت نہیں کی ہے بلکہ مطیع رہے ہیں اس لیے ہمیں ہمارے مال و مویشی واپس دیے جائیں۔ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے ان سے مطالبہ کیا کہ وہ لوگ اپنے اپنے دعویٰ پر دلیل و ثبوت قائم کریں، جس نے ثبوت فراہم کیا اور اپنا مال پہچان لیا اس کو اس کے مال و مویشی واپس کر دیے گئے۔

(جولۃ تاریخیۃ: صفحہ 345)

حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے اسکندریہ کی فصیل کو منہدم کر دیا، یہ واقعہ 25ھ کا ہے۔فصیل کو منہدم کر دینے کے باوجود اسکندریہ چہار جانب سے محفوظ و مامون ہو گیا۔ اسکندریہ سے مشرق و جنوب پر مسلمانوں کا قبضہ تھا جب کہ مغرب کی طرف برقہ، زویلہ، اور مغربی طرابلس کو حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے فتح کر کے جزیہ پر مصالحت کے عوض اس جہت کو مامون بنا لیا تھا، البتہ شمال کی طرف رومی پڑتے تھے، لیکن اولاً وہ اس قدر شکست خوردہ ہو چکے تھے کہ دوبارہ اس طرف رخ کرنے کی ہمت نہیں کر سکتے تھے، کیوں کہ ان کا کوئی معین و مددگار یہاں باقی نہ رہا تھا، اور پھر مسلم افواج پوری بیدار مغزی اور اہتمام کے ساتھ سمندر کی نگرانی پر لگی ہوئی تھیں۔

(جولۃ تاریخیۃ: صفحہ 341) 


صفحہ 2 از 2