فتح افریقہ میں سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی جواں…

فتح افریقہ میں سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی جواں مردی

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 3

کافی دنوں سے افریقہ سے مسلمانوں کی کوئی خبر نہ پہنچ سکی جس کی وجہ سے آپ فکر مند ہوئے، اور حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو ایک دستہ کے ساتھ روانہ کیا تاکہ وہاں سے کچھ خبر لائیں۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے پوری مستعدی کے ساتھ سفر جاری رکھا اور مسلمانوں کے پاس افریقہ پہنچ گئے جب آپ وہاں پہنچے تو شور مچ گیا اور مسلمانوں نے تکبیر پکاری۔ جرجیر نے دریافت کیا یہ آواز کیسی ہے؟ اس کو بتایا گیا کہ مدینہ سے مسلمانوں کو کمک پہنچی ہے چنانچہ اس خبر سے وہ حواس باختہ ہو گیا۔

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے دیکھا کہ مسلمان صبح سے ظہر تک لڑتے ہیں، اور ظہر کی اذان ہوتے ہی فریقین اپنے اپنے خیموں میں واپس ہو جاتے ہیں پھر جنگ بند ہو جاتی ہے۔ دوسری صبح آپؓ نے جنگ میں شرکت کی تو حضرت عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ کو لوگوں کے ساتھ نہیں پایا، لوگوں سے دریافت کیا تو پتہ چلا کہ جرجیر نے اعلان کر رکھا ہے کہ جو حضرت عبداللہ بن سعدؓ کو قتل کر دے اس کو ایک لاکھ دینار انعام دوں گا اور اپنی بیٹی سے اس کی شادی کروں گا، جس کی وجہ سے حضرت عبداللہ بن سعدؓ اپنے لیے خطرہ محسوس کر رہے ہیں اور ظاہر نہیں ہو رہے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما حضرت عبداللہ بن سعدؓ کے پاس پہنچے اور ان سے کہا: آپ یہ اعلان کرائیں کہ جو شخص جرجیر کا سر لے کر آئے گا اس کو ایک لاکھ دینار دیا جائے گا اور جرجیر کی بیٹی سے اس کی شادی کرا دی جائے گی، اور اس کے ملک پر اس کو گورنربنا دیا جائے گا۔ حضرت عبداللہ بن سعدؓ نے ایسا ہی کیا جس کا یہ اثر ہوا کہ جرجیر عبداللہ بن سعدؓ سے زیادہ خوفزدہ ہوا اور اپنے لیے شدید خطرہ محسوس کرنے لگا۔

پھر حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے عبداللہ بن سعدؓ سے کہا: موجودہ شکل میں جنگ طول کھینچے گی، یہ لوگ اپنے ملک میں ہیں اور برابر ان کو امداد ملتی رہتی ہے جب کہ ہم اپنے ملک اور مسلمانوں سے دور ہیں، لہٰذا میری رائے ہے کہ کل کچھ صالح افراد کو جنگ میں نہ شریک کر کے خیموں میں تیار رہنے دیں اور ہم دشمن کی صف میں گھس کر گھمسان کی جنگ کریں یہاں تک کہ وہ تھک ہار جائیں، اور جب فریقین اپنے خیموں میں واپس ہو جائیں تو جو لوگ جنگ میں شریک نہ ہو کر خیموں میں تیار بیٹھے تھے ہم ان کے ساتھ اچانک دشمن پر ہلہ بول دیں، امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس طرح ہمیں فتح و نصرت سے ہمکنار فرمائے۔

حضرت عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ نے اکابرین صحابہؓ کی ایک جماعت کو جمع کیا اور اس سلسلہ میں ان سے مشورہ لیا، تمام لوگوں نے اس رائے پر موافقت کی۔ دوسرے دن حضرت عبداللہ بن سعدؓ نے ایسا ہی کیا۔ تمام بہادر مسلمانوں کو خیموں میں باقی رکھا اور ان کے گھوڑوں کو زین کس کر تیار رکھا، اور باقی لوگ رومیوں سے ظہر تک گھمسان کی جنگ لڑتے رہے۔ جب ظہر کی اذان ہوئی تو رومیوں نے اپنے خیموں کو واپس ہونا چاہا لیکن حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے ان کو اس کا موقع نہ دیا اور ان سے شدید جنگ کرتے رہے یہاں تک کہ ان کو تھکا دیا، پھر طرفین اپنے اپنے خیموں کو واپس ہوئے اور اپنے ہتھیار اتار کر آرام کرنے لگے، حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے ان تازہ دم مجاہدین کو جن کو خیموں میں باقی رکھا تھا ساتھ لیا اور اچانک رومیوں پر ٹوٹ پڑے اور ان کے اندر گھس کر یکبارگی ہلہ بول دیا، ان کو اسلحہ سنبھالنے کا موقع نہیں دیا۔ اس ہلے میں جرجیر کو عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے قتل کیا، رومیوں کو شکست فاش ہوئی، ان میں سے بہت سے لوگ قتل ہوئے اور جرجیر کی بیٹی کو قید کر لیا گیا۔

حضرت عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ نے شہر کا محاصرہ کر کے اس کو فتح کر لیا اس میں بہت سارا مال و متاع ہاتھ آیا۔ شہسوار کو تین ہزار دینار اور پیادہ کو ایک ہزار دینار غنیمت میں ملے۔ جب عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ نے سبیطلہ شہر فتح کر لیا تو ملک کے مختلف علاقوں میں اپنی افواج کو روانہ کیا۔ یہ افواج قفصہ پہنچ گئیں جہاں انہیں قیدی اور مال غنیمت ہاتھ آئے۔ أجم قلعہ پر آپ نے فوج کشی کی، شہر کے لوگ قلعہ بند ہو گئے۔ آپ نے اس کا محاصرہ کر لیا اور امان کے ذریعہ سے فتح کیا۔ افریقہ کے لوگوں نے آپ سے مصالحت کر لی جیسا کہ بات گزر چکی ہے۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو شاہ جرجیر کی بیٹی عطیہ میں ملی، اور ان کو حضرت عبداللہ بن سعدؓ نے افریقہ کی فتح کی بشارت دے کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس روانہ کر دیا۔

(الکامل، ابن اثیر: جلد 3 صفحہ 64، 65)

بہادری و شجاعت میں حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کا عظیم کردار رہا ہے، جس کو حافظ ابن کثیر رحمۃاللہ نے اس طرح بیان کیا ہے، فرماتے ہیں: جب مسلمانوں نے افریقہ پر چڑھائی کا ارادہ کیا اس وقت ان کی تعداد بیس ہزار تھی اور ان کے سپہ سالار عبداللہ بن سعد بن ابی سرح رضی اللہ عنہ تھے، اور اس لشکر میں عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن زبیر وغیرہ رضی اللہ عنہم شامل تھے۔ ان کے مقابلہ میں بربر کا بادشاہ جرجیر ایک لاکھ بیس ہزار اور بعض روایات کے مطابق دو لاکھ سپاہیوں کے ساتھ نکلا، جب دونوں افواج آمنے سامنے ہوئیں تو جرجیر نے اپنی فوج کو حکم دیا، انہوں نے مسلمانوں کو چاروں طرف سے گھیر کر ہالہ بنا لیا، اس وقت انتہائی نازک منظر سے مسلمان دوچار ہوئے، اس سے قبل ایسے بھیانک اور خوفناک منظر سے کبھی دوچار نہیں ہوئے تھے۔

صفحہ 1 از 3