فتح افریقہ میں سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی جواں…

فتح افریقہ میں سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی جواں مردی

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے صفوں کے پیچھے جرجیر کو دیکھا، وہ ٹٹو پر سوار تھا، دو لونڈیاں اس پر مور کے پروں سے سایہ کیے ہوئے تھیں۔ میں عبداللہ بن سعدؓ کے پاس گیا اور ان سے کہا: میرے ساتھ کچھ لوگوں کو مقرر کریں جو پیچھے سے میری پشت پناہی کریں، میں بادشاہ کی طرف رخ کرنا چاہتا ہوں، انہوں نے میرے ساتھ بہادروں کی ایک جماعت متعین کر دی، انہوں نے حکم فرمایا اور یہ جوان میرے پیچھے ہو گئے اور میں دشمن کی صفوں کو چیرتا ہوا بادشاہ کی طرف بڑھا، میری پشت پناہی کرنے والوں نے یہ سمجھا کہ میں بادشاہ کے پاس کوئی پیغام لے کر جا رہا ہوں، جب میں جرجیر کے قریب پہنچ گیا تو اس نے مجھ سے خطرہ محسوس کیا اور اپنے ٹٹو پر سوار بھاگ کھڑا ہوا، میں نے اس کا پیچھا کیا اور اپنے نیزے سے اس کو مار گرایا، اور پھر اپنی تلوار سے اس کا کام تمام کر دیا، میں نے اس کا سر اٹھایا اور اپنے نیزے کی نوک پر نصب کر کے بلند آواز میں تکبیر پکاری جب بربروں نے یہ منظر دیکھا تو خوف زدہ ہو گئے اور جانوروں کی طرح بھاگ کھڑے ہوئے، مسلمانوں نے ان کا پیچھا کیا، ان کو قتل کرتے رہے اور قیدی بناتے رہے۔ چنانچہ مسلمانوں کو بہت سارا مال و متاع اور قیدی ہاتھ آئے یہ سب کچھ اس شہر میں ہوا جس کو سبیطلہ کہتے ہیں جو قیروان سے دو دن کی مسافت پر واقع ہے۔

حافظ ابن کثیر رحمۃاللہ فرماتے ہیں یہ پہلا موقع تھا جب عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی شان نمایاں ہوئی اور وہ مشہور ہوئے۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 158)

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے جو کارنامہ انجام دیا وہ خطرات سے گھری ہوئی بلندیوں کی طرف امنگوں سے بھری ایک بلند پرواز تھی، جس کا ماضی میں تجربہ نہ تھا، اس وقت آپ کی عمر صرف ستائیس (27) سال تھی۔ اس سے قبل آپ کی جانبازی کا اس طرح کا کوئی واقعہ سامنے نہیں آیا تھا، یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس عظیم جانبازی کی طرف آپ نے کیسے پیش قدمی کی جب کہ ظن غالب بلکہ عرف عام میں یقین کی حد کو یہ بات پہنچتی ہے کہ اس میں ہلاکت ہی ہلاکت تھی؟

اس طرح کی جانبازیوں کے سلسلہ میں جو احتمالات ممکن ہو سکتے ہیں وہ دو باتیں ہو سکتی ہیں جو اس وقت اس جانباز کے دل و دماغ میں رہی ہوں گی:

وہ اپنے حملہ میں کامیابی سے ہمکنار ہوں گے، اور بربر کے بادشاہ جرجیر کا خاتمہ کر دیں گے، اور اس طرح اس کا لشکر بکھر جائے گا، جیسا کہ کفار کی عادت ہے، اور اس طرح مسلمانوں کو زبردست فتح و نصرت حاصل ہو گی، اور وہ اس خطرناک معرکہ سے بچ جائیں گے جس سے مسلمان خوفزدہ ہیں۔

 اللہ تعالیٰ انہیں مقام شہادت عطا فرمائے گا، اس طرح وہ بلند ترین آرزو بر آئے گی، اور وہ اعلیٰ مقام حاصل ہو گا جس کی تمنا ہمیشہ صالحین کیا کرتے ہیں، اور اس کے حصول کے لیے ایک دوسرے سے سبقت کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں، مزید برآں اس صورت میں کفار کا خوفزدہ ہونا اور ان کا مرعوب ہونا زیادہ قرین قیاس تھا، کیوں کہ وہ یہ سوچنے پر مجبور ہوں گے کہ مسلمان جن سے ان کا مقابلہ ہے وہ اسی نوعیت کے بہادر ہیں، کیوں کہ جانباز کی شجاعت و بہادری کے لیے اتنی بات کافی ہے کہ وہ اپنے آپ کو بھڑکتے ہوئے معرکہ میں ڈال دے۔ اس طرح کا اقدام ایسے بڑے بڑے ہی کر سکتے ہیں جن کو اس کے پیچھے جنت نظر آتی ہے، اور وہ اس کے مشتاق ہوتے ہیں۔ جس وقت حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے یہ اقدام کیا اور دشمن کی صفوں میں بلا خوف و خطر گھس گئے اس وقت وہ دنیاوی مال و متاع کی محبت سے بالکل آزاد تھے، انہیں ان نعمتوں کی تمنا اور امنگ تھی جن کو اللہ تعالیٰ نے اس کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے لیے تیار کر رکھا ہے۔

(التاریخ الاسلامی: جلد 12 صفحہ 390)

یہ بات گزشتہ صفحات میں گزر چکی ہے کہ جب کفار کا بادشاہ جرجیر قتل ہو گیا تو بربر کی فوج میں بھگدڑ مچ گئی بالکل اسی طرح جس طرح جانور بھاگتے ہیں۔ مسلمانوں نے ان کا پیچھا کیا اور بغیر کسی مزاحمت کے ان کو قتل اور قید کرتے رہے۔ یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤمنین کے ساتھ ہے، جب وہ اللہ کی راہ میں سچائی کا ثبوت دیں تو اللہ تعالیٰ ان کے لیے ایسے حالات پیدا کرتا ہے جس سے انہیں مشکلات و شدائد سے نجات حاصل ہوتی ہے، اس معرکہ میں مسلمانوں کو بڑی مشکلات کا سامنا تھا، دشمن نے ان کا گھیراؤ کر رکھا تھا اور اس کی تعداد مسلمانوں کے مقابلہ میں چھ گنا یا اس سے زیادہ تھی۔ اس صورت حال میں مسلمانوں کو چاروں طرف سے قتال کرنا تھا، دشمن کے مقابلہ میں مٹھی بھر مسلمانوں کا قتال کرنا انتہائی مشکل تھا جیسا کہ راوی کا بیان ہے:

’’اس وقت انتہائی نازک حالت سے مسلمان دوچار ہوئے، اس سے قبل ایسے بھیانک اور خوفناک منظر سے وہ دوچار نہیں ہوئے تھے۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے اس نازک وقت میں اس جانباز بہادر کو تیار کیا جس نے جانبازی کی بے نظیر مثال قائم کر دی، اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے اسلامی لشکر کو ان مشکلات سے بچا لیا جس میں وہ مبتلا تھا۔

(ایضاً)

ہم یہاں ان جانبازوں کے موقف کو فراموش نہیں کر سکتے جو سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھے، وہ برابر اس کارنامہ میں شریک رہے اگرچہ تاریخ نے ان کے ناموں کی فہرست پیش نہیں کی ہے، لیکن ان کا یہ فدائی کارنامہ تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ باقی رہے گا اور جب بھی دنیا میں امت کے جانبازوں کے مفاخر کا تذکرہ ہو گا انہیں ضرور یاد رکھا جائے گا، اور آخرت میں اللہ تعالیٰ نے سچے مجاہدین کے لیے جو وعدہ فرمایا ہے انہیں ضرور حاصل ہو گا۔

(التاریخ الاسلامی: جلد 12 صفحہ 392)

مسلمانوں نے افریقہ کی فتوحات میں اپنا سب کچھ پیش کر دیا، ان میں سے بہت سوں نے جامِ شہادت نوش فرمایا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت میں افریقہ میں جہاد کرتے ہوئے جن نفوس نے اپنی جان اللہ کے سپرد کی ان میں سے ابوذوئب ہذلی بھی ہیں جو ایک مشہور شاعر تھے، انہی کا یہ شعر ہے:

واذا المنیۃ انشبت اظفارھا

الفیت کل تمیمۃ لا تنفع

’’جب موت اپنے ناخن چبھا دیتی ہے تو کوئی تعویذ کارگر نہیں ہوتا۔‘‘

و تجلدی للشامتین اریہم

انی لریب الدھر لا أتضعضع 

صفحہ 2 از 3