یہ معرکہ کہاں پیش آیا؟
علی محمد الصلابیمؤرخین اس سوال کا کوئی متفقہ جواب نہ دے سکے، اور عربی مراجع و مصادر اس جگہ کی تعیین نہ کر سکے، ہمارے علم کے مطابق صرف ایک مرجع میں اس کی تعیین کی گئی ہے، اور دوسرے میں کہا گیا ہے کہ رومیوں نے اس کا رخ کیا۔
’’فتح مصر و اخبارہا‘‘
(ذات الصواری، شوقی ابو خلیل: صفحہ 61)
میں حضرت عبداللہ بن سعد بن ابی سرح رضی اللہ عنہ کا خطبہ ذکر کیا گیا ہے جس میں انہوں نے مسلم مجاہدین کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ مجھے خبر ملی ہے کہ رومی ایک ہزار کشتیوں کے ساتھ تمہاری طرف چل چکے ہیں لیکن مقام معرکہ کی تعیین نہیں کی۔
’’تاریخ طبری‘‘
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 290)
میں 31ھ کے واقعات کے بیان میں افریقہ میں مسلمانوں کو رومیوں پر جو فتح و کامیابی حاصل ہوئی اس کا ذکر کرتے ہوئے مصنف نے ذات الصواری کا ذکر کیا ہے، اور فرمایا ہے: مسلمان کثیر تعداد میں مقابلہ کے لیے نکلے، مسلمانوں کی اتنی بڑی تعداد رومیوں کے مقابلہ میں کبھی جمع نہ ہوئی تھی۔
’’الکامل فی التاریخ‘‘
(الکامل فی التاریخ: جلد 3 صفحہ 58، طبعۃ البابی الحلبی القاہرۃ)
نے بھی معرکہ کے موقع و محل کا تذکرہ نہیں کیا ہے، لیکن اس معرکہ کے وقوع پذیر ہونے کے سبب کو افریقہ میں مسلمانوں کی فتح و نصرت سے مربوط کیا ہے۔
’’البدایہ والنہایہ‘‘
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 163)
میں ہے کہ جب عبداللہ بن سعد بن ابی سرح رضی اللہ عنہ نے افریقہ میں افرنگیوں اور بربروں پر مسلسل فتوحات حاصل کیں تو رومیوں کو جوش آیا اور وہ قسطنطین بن ہرقل کے ساتھ جمع ہو گئے اور مسلمانوں کی طرف اتنی بڑی تعداد میں روانہ ہوئے جسے اسلامی تاریخ نے اس سے قبل نہیں دیکھا تھا۔ یہ لوگ پانچ سو کشتیوں پر نکلے اور مغرب کے ممالک میں عبداللہ بن سعد بن ابی سرح رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کا رخ کیا۔
’’تاریخ الامم الاسلامیہ‘‘
(تاریخ الامم الاسلامیۃ: الخضری: جلد 2 صفحہ 29)
نے بھی موقع و محل کا ذکر نہیں کیا ہے۔
(ذات الصواری: صفحہ 62)
البتہ ڈاکٹر شوقی ابو خلیل نے اس بات کو ترجیح دی ہے کہ یہ معرکہ اسکندریہ کے ساحل پر واقع ہوا تھا اور اس ترجیح کے مندرجہ ذیل وجوہ و اسباب ہیں:
’’النجوم الزاہرہ‘‘ میں اس بات کی صراحت ہے کہ ذات الصواری کا معرکہ اسکندریہ کی جانب سمندر میں واقع ہوا تھا۔
(النجوم الزاہرۃ فی ملوک مصر و القاہرۃ: جلد 1 صفحہ 80)
تاریخ ابنِ خلدون میں مذکور ہے
(تاریخ ابن خلدون: جلد 2 صفحہ 468)
کہ پھر عبداللہ بن سعد بن ابی سرح رضی اللہ عنہ نے افواج کو روانہ کیا اور ممالک کو زیر کیا، لوگ آپ کے تابع ہوئے پھر آپ مصر واپس ہو گئے، اور جب ابن ابی سرح رضی اللہ عنہ نے افریقہ میں فتح و نصرت حاصل کر لی اور مصر واپس ہو گئے تو قسطنطین بن ہرقل نے چھ سو کشتیوں کے ساتھ اسکندریہ کا رخ کیا۔
رومی بحری بیڑے کا اپنا شاندار ماضی رہا ہے، وہ ذات الصواری سے قبل بحر متوسط کا تاجدار رہا ہے، وہ اسلامی سواحل پر حملہ آور ہونے کی جرأ ت رکھتا تھا، اس لیے ڈاکٹر شوقی ابو خلیل نے رومی بیڑے کے اسکندریہ کے سواحل پر اس کی بازیابی کے لیے آدھمکنے کو ترجیح دی ہے، کیوں کہ اسکندریہ رومیوں کے لیے انتہائی اہم مقام رہا تھا، اور وہاں کے باشندوں نے سابق شاہ روم سے اس سلسلہ میں خط و کتابت بھی کی تھی۔ اس طرح ان کے خیال میں اس نوخیز اسلامی بحری بیڑے کا خاتمہ بھی آغاز ہی میں ہو سکتا تھا جس کو عربوں نے مصر میں تیار کرنا شروع کر دیا تھا، اور اس طرح بحر متوسط اور اس کے جزیروں پر روم کا تسلط برقرار رہ سکتا تھا۔
خارجی مراجع ذات الصواری کا مقام ’’فونیکہ‘‘ کو قرار دیتے ہیں جو اسکندریہ کے مغرب میں ’’مرسی مطروح‘‘ شہر کے قریب واقع ہے اس طرح یہ مراجع ذات الصواری کے محل و مقام کی مکمل تحدید کرتے ہیں۔
(ذات الصواری: صفحہ 64)