Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

شیعہ اثناء عشری کے پیچھے نماز پڑھانا


سوال: ہماری ایک تنظیم ہے جس کے اراکین کئی ممالک سے تعلق رکھتے ہیں، ان اراکین کی کثیر تعداد (بڑی اکثریت) سنی ہے، یہ تنظیم لندن کے امپیرئیل کالج میں ہے، کالج نے نماز کیلئے ایک کمرہ دیا طلبہ میں سے ہی کوئی پنج وقتہ نماز پڑھا دیتا ہے جمعہ کی نماز کے لئے بھی طلبہ میں سے کوئی خطبہ پڑھتا ہے اور پھر نمازِ جمعہ کی امامت کرتا ہے تب تک امامت اور خطبہ دینے والے طلبہ سنی ہی رہے ہیں کچھ شیعہ (اثناء عشری) طلبہ کہتے ہیں کہ ہم بھی خطبہ دیں گے اور نماز پڑھائیں گے سوال یہ ہے کہ کیا اثناء عشری شیعہ طلبہ خطبہ دے سکتے ہیں؟ اور کیا یہ نماز کی امامت کر سکتے ہیں؟ کیا ان کے پیچھے ہماری نماز ہو جائے گی؟

جواب: اثناء عشری عقیدہ رکھنے والے لوگوں کے بعض عقائد ایسے ہیں جو اسلام کے منافع ہیں مثلاً ان کا عقیدہ ہے کہ تین چار اشخاص کے سوا تمام صحابہ کرام رضوان اللّٰہ علیہم اجمعین آنحضرتﷺ کے بعد مرتد ہو گئے تھے اور یہ کہ حضرات خلفائے ثلاثہؓ کافر و منافق و مرتد تھے پچیس سال تک تمام امت کی قیادت یہی منافق و کافر اور مرتد کرتے رہے۔ سیدنا علیؓ اور دیگر تمام صحابہ کرام رضوان اللّٰہ علیہم اجمعین نے انہی مرتدوں کے پیچھے نمازیں پڑھیں۔ (معاذ اللّٰہ)

اثناء عشری علمائے مقتدمین و متاثرین کا عقیدہ ہیں کہ قرآن کریم سیدنا علیؓ چھپا لیا تھا اس کو صحابہ کرام رضوان اللّٰہ علیہم اجمعین نے قبول نہیں کیا اور موجودہ قرآن انہی خلفائے ثلاثہؓ کا جمع کیا ہوا ہے اور اس میں تحریف کر دی گئی ہے اصلی قرآن امام غائب کے ساتھ غار میں محفوظ ہے۔ اور اثناء عشری عقیدہ یہ بھی ہے کہ 12 اماموں کا مرتبہ انبیاء کرام علیہم السلام سے بڑھ کر ہے یہ اثناء عشری کتابوں میں موجود ہیں۔

ان عقائد کے بعد کسی شخص کو نہ تو مسلمان کہا جا سکتا ہے اور نہ اس کے پیچھے نماز ہو سکتی ہے اس لئے کسی مسلمان کے لیے اثناء عشری عقیدہ رکھنے والوں کے پیچھے نماز پڑھنا صحیح نہیں جس طرح کے کسی غیر مسلم کے پیچھے نماز جائز نہیں۔

(آپ کے مسائل اور ان کا حل: جلد، 10 صفحہ، 82 ناشر: مکتبہ لدھیانوی کراچی اشاعت جولائی 2002 عیسوی)