Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

معرکہ ذات الصواری کے نتائج

  علی محمد الصلابی

1۔ یہ مسلمانوں کے لیے پہلا فیصلہ کن بحری معرکہ تھا۔ نوخیز اسلامی بحری بیڑے نے اس میں صبر و ایمان، قوت و استقلال اور فکر سلیم کا مظاہرہ کیا، اور اسلامی ذہن کی منصوبہ بندی نے معرکہ کو دشمن کے لیے مشکل بنا دیا، اور اسلامی صفوں کو آسانی سے توڑنا ان کے لیے محال ہو گیا۔ اسی طرح مسلمان لمبے لمبے لوہے کے چنگل اور آنکس کے ذریعہ سے اعداء کی کشتیوں کے بادبانوں کو کھینچ لیتے جو رومیوں کے لیے عظیم مصیبت ثابت ہوئی۔

2۔ ذات الصواری مسلمانوں کے خلاف رومیوں کی سیاست میں حد فاصل ثابت ہوا۔ انہیں مصر و شام کی بازیابی اور اپنے رعب و ہیبت کی بحالی سے متعلق اپنی منصوبہ بندی کی ناکامی کا پتہ چل گیا۔ مسلمان اس رومی سمندر پر حاوی ہو گئے اور بحر روم کا نام ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا پھر مسلمانوں نے قبرص، کریت، کارسیکا، سردینیا، صقلیہ اور بلیار کے جزیروں کو فتح کر لیا اور جنیوا اور مرسیلیا پہنچ گئے۔

3۔ قسطنطین قتل ہوا، اس کے بعد اس کا بیٹا حاکم بنا جو کم سن تھا، نتیجتاً اسلامی بحری و بری حملہ کے حالات سازگار ہوئے اور مسلمانوں نے روم کی راجدھانی قسطنطنیہ کو نشانہ بنایا۔

4۔ معرکہ سے قبل روحانی تیاری یا جسے آج معنوی توجیہ و ارشاد سے تعبیر کیا جاتا ہے کی فتح و نصرت کے لیے بڑی اہمیت ہے کیوں کہ ایسی صورت میں دل سچائی کے ساتھ اللہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ ایک مومن جو اپنی رات تہجد و ذکر میں گزارتا ہے ظاہری تیاری کے بعد اللہ کی عزت و عظمت سے مدد حاصل کرتا ہے اور دشمن سے بلند ہمت و عزم کے ساتھ ملتا ہے، موت کا کوئی خوف اس کو لاحق نہیں ہوتا۔ اللہ ہر چیز سے بڑا ہوتا ہے۔ یہ معرکے جن کے تاریخی حالات ہم بیان کر رہے ہیں، ایک طبی نسخہ ہے جسے ہم تطبیق و عمل کے لیے پیش کر رہے ہیں تاکہ ہم اپنی زندگی میں اس سے مستفید ہوں، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگیاں ہمارے لیے اسوہ اور رہنما ہیں تاکہ ہم اس کی اتباع کریں۔

(ذات الصواری: صفحہ 71، 72)

5۔ بحر متوسط بحر اسلامی قرار پایا۔ یہ بیڑہ رہزنی کے لیے نہیں بلکہ دعوت الی اللہ اور مشرکین کی شوکت و غلبہ کو توڑنے اور کتاب و سنت سے مستفاد تہذیب و تمدن کی نشر و اشاعت کے لیے تھا۔

6۔ مسلمان بحری علوم ،کشتیوں کی صنعت، اس کو مسلح کرنے، اس پر سے قتال کرنے اور علوم فلکیات کے استفادہ کی طرف متوجہ ہوئے تاکہ سمندر میں ان کشتیوں کو چلا سکیں اور مختلف بحری آلات کے ذریعہ سے اپنے موقع و محل سے وقف رہیں، چنانچہ اس کے نتیجہ میں مسلمانوں نے آگے چل کر اسطرلاب (بحری قطب نما) دریافت کیا اور اس کو ترقی بخشی یہاں تک کہ اسی سے بعد میں یورپین جہاز رانوں مثلاً کرسٹوفر، کولمبس، امریکو فیسبوشی نے اپنے اکتشافات میں استفادہ کیا۔ 

(ذات الصواری: صفحہ 76)

7۔ یہ معرکہ عسکری تجربہ اور جنگی سازو سامان اور نفری تفوق پر ٹھوس اور صحیح عقیدہ کی بالادستی کے مظاہر میں سے اہم ترین مظہر ثابت ہوا۔ قدیم زمانہ سے رومی سمندر کے ہیرو مانے جاتے تھے، اور بحری جنگوں میں انہیں

طویل تجربہ حاصل تھا اور اس کے مقابلہ میں مسلمان طفل مکتب تھے، لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو غلبہ و بلندی عطا کی کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے ان مؤمنوں کو روئے زمین میں اپنے دین کی نشر و اشاعت اور اپنے کلمے کو بلند کرنے کے لیے مسخر کر دیا تھا۔

اس معرکہ میں سپہ سالار عبداللہ بن سعد بن ابی سرح رضی اللہ عنہ کی قوت و ہمت، مستقل مزاجی، جنگ کی تنظیم پر اعلیٰ قدرت و صلاحیت قابلِ تعریف ہیں۔ دین اسلام کو غالب کرنے اور اسلامی سلطنت کی شان کو بلند کرنے کی راہ میں مسلمانوں کی جواں مردی اور قتال کا یہ معرکہ عظیم مظہر اور بین ثبوت ثابت ہوا۔

(التاریخِ الاسلامی: جلد 12 صفحہ 407)