میاں بیوی میں ایک کے مسلمان ہو جانے سے متعلق مسائل
اگر بیوی و مرد میں سے ایک مسلمان ہو گیا تو دوسرے پر بھی اسلام پیش کیا جائے گا، پس اگر وہ مسلمان ہو گیا تو دونوں بیوی و مرد رہیں گے ورنہ دونوں میں تفریق کر دی جائے گی۔ اگر دوسرا خاموش رہا تو قاضی دوبارہ اس پر اسلام پیش کرے گا، یہاں تک کہ تین مرتبہ تک احتیاطاً پیش کرے گا۔ اور دونوں میں سے جو کفر پر اڑ گیا چاہے وہ بالغ ہو اور چاہے تمیز دار نا بالغ ہو، بہرحال اُس کے انکار اسلام سے دونوں میں تفریق کر دی جائے گی، یہ امام اعظم و امام محمد رحمہما اللہ کا قول ہے۔ اور اگر دونوں میں ایک نابالغ بے تمیز ہو تو اُس کے عاقل ہونے تک انتظار کیا جائے گا۔ پھر جب تمیز دار عاقل ہو جائے گا تو اس پر اسلام پیش کیا جائے گا، پس اگر مسلمان ہو گیا تو ٹھیک ورنہ دونوں میں تفریق کر دی جائے گی اور اس کے بالغ ہونے تک انتظار نہ کیا جائے گا۔ اور اگر دونوں میں ایک مجنون ہو تو اُس کے ماں باپ پر اسلام پیش کیا جائے گا، پس اگر دونوں مسلمان ہو گئے یا ایک مسلمان ہوا تو فبھا ورنہ دونوں میں تفریق کر دی جائے گی۔
اور اگر شوہر مسلمان ہو گیا اور بیوی نے انکار کیا تو دونوں میں تفریق ہو گی مگر یہ تفریق طلاق نہ ہو گی، اور اگر بیوی مسلمان ہوئی اور شوہر کافر رہا تو دونوں میں تفریق امام اعظم امام محمد رحمہما اللہ کے نزدیک طلاق ہو گی۔ پھر اگر بوجہ انکار کے دونوں میں تفریق واقع ہوئی پس اگر بعد دخول ہو جانے کے تفریق ہوئی تو عورت کو اُس کا پورا مہر ملے گا اور اگر دخول سے پہلے ہو، پس اگر بوجہ انکار شوہر کے ہوئی تو عورت کو نصف مہر ملے گا اور اگر بوجہ انکار بیوی کے ہو تو بیوی کو کچھ مہر نہ ملے گا۔ (فتاویٰ عالمگيريہ اُردو : جلد 2 صفحہ 300)