Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

عثمانی فتوحات کے اہم دروس ومواعظ اور فوائد مؤمنوں کے لیے عہد الہٰی کی تکمیل

  علی محمد الصلابی

علامہ ابن کثیر رحمۃاللہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھوں بہت سے ممالک اور شہروں پر مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی، اور اسلامی مملکت کی حدود کو وسعت ملی، محمدی سلطنت پھیلی اور مصطفوی رسالت زمین کے مشرق و مغرب میں پہنچ گئی، اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی صداقت لوگوں پر ظاہر ہوئی:

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَـيَسۡتَخۡلِفَـنَّهُمۡ فِى الۡاَرۡضِ كَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمۡ دِيۡنَهُمُ الَّذِى ارۡتَضٰى لَهُمۡ وَلَـيُبَدِّلَــنَّهُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ خَوۡفِهِمۡ اَمۡنًا‌ يَعۡبُدُوۡنَنِىۡ لَا يُشۡرِكُوۡنَ بِىۡ شَيۡـئًــا‌ وَمَنۡ كَفَرَ بَعۡدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ ۞ (سورۃ النور آیت 55)

ترجمہ: تم میں سے جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں، ان سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ انہیں ضرور زمین میں اپنا خلیفہ بنائے گا، جس طرح ان سے پہلے لوگوں کو بنایا تھا، اور ان کے لیے اس دین کو ضرور اقتدار بخشے گا جسے ان کے لیے پسند کیا ہے، اور ان کو جو خوف لاحق رہا ہے، اس کے بدلے انہیں ضرور امن عطا کرے گا۔ (بس) وہ میری عبادت کریں، میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ اور جو لوگ اس کے بعد بھی ناشکری کریں گے تو ایسے لوگ نافرمان ہوں گے۔

اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

هُوَ الَّذِىۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَهٗ بِالۡهُدٰى وَدِيۡنِ الۡحَـقِّ لِيُظۡهِرَهٗ عَلَى الدِّيۡنِ كُلِّهٖ وَلَوۡ كَرِهَ الۡمُشۡرِكُوۡنَ ۞ (سورۃ التوبة آیت 33)

ترجمہ: وہ اللہ ہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا ہے، تاکہ اسے ہر دوسرے دین پر غالب کردے، چاہے مشرک لوگوں کو یہ بات کتنی ناپسند ہو۔

اور ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:

 اذا ہلک قیصر فلا قیصر بعدہ ، وإذا ہلک کسریٰ فلا کسریٰ بعدہ، والذی نفسی بیدہ لتفقن کنوزہما فی سبیل اللّٰہ۔

’’جب قیصر ہلاک ہو جائے تو پھر اس کے بعد قیصر نہ ہو گا، اور جب کسریٰ ہلاک ہو جائے تو اس کے بعد کسریٰ نہ ہو گا، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم ان دونوں کے خزانوں کو اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے۔ ‘‘

(مسلم، الفتن: 2918، 2919) 

یہ سب حضرت عثمان بن عفانؓ کے عہد خلافت میں وقوع پذیر ہوا، اور اللہ کا وعدہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی صحیح ثابت ہوئی۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 216)