فوج میں لازمی بھرتی
علی محمد الصلابیفوج میں لازمی بھرتی کا آغاز سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں ہوا اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں بھی جاری رہا۔ معرکہ قادسیہ اصل سبب بنا کہ حضرت عمر فاروقؓ نے لازمی بھرتی کی قرار داد جاری کی۔ حضرت فاروق اعظمؓ نے صوبوں کے گورنروں کو حکم جاری کیا کہ ہر طاقت یا رائے یا گھوڑا یا اسلحہ کے مالک جانباز کو حاضر کیا جائے۔ اگر برضا و رغبت آتا ہے تو ٹھیک ورنہ جبراً ان کو جمع کرو، اور اس سلسلہ میں جلدی کرنے کا مطالبہ کیا۔ نیز اپنے مشہور عزم و دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرمایا: کسی کو نہ بخشا جائے، اسے میرے پاس ضرور روانہ کرو، جلدی کرو، جلدی کرو۔
(اتمام الوفاء: صفحہ 70)
سیدنا عمرؓ جہاد کے لیے فوج میں لازمی بھرتی سے متعلق سوچ رہے تھے۔ جب مختلف شعبوں سے متعلق دیوان مرتب کیے گئے اور مسلمانوں کے لیے سالانہ وظائف مقرر کیے گئے تو آپ کی اس سوچ و فکر نے عملی جامہ اختیار کیا، اور دیوان کے آغاز کے ساتھ سرکاری فوجی بھرتی شروع ہوئی، اور سرکاری افواج کے لیے بیت المال سے تنخواہیں اور عطیات مقرر کیے گئے۔
جب سیدنا عثمانؓ نے جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کو بحری جہاد کی اجازت فرمائی تو انہیں حکم فرمایا کہ لوگوں کو اختیار دیں، ان کو نکلنے پر مجبور نہ کریں تاکہ لوگ اس بحری مہم پر برضا و رغبت روانہ ہوں، البتہ خشکی کی مہموں پر اسلامی فتوحات کا سلسلہ جاری رکھنے کے لیے باتنخواہ سرکاری افواج پر شرکت لازمی قرار دی۔ (النظم الاسلامیۃ، صبحی الصالح: صفحہ 489)