اسلامی خلافت کی سرحدوں کی حفاظت و اہتمام
علی محمد الصلابیچوں کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں سلطنت اسلامی میں وسعت ہوتی رہی اس لیے اس کے نتیجہ میں اعدائے اسلام کے حملوں سے اسلامی حدود کی حفاظت و نگرانی مرابط افواج کو ان سرحدوں پر مقرر کر کے یا مختلف حفاظتی فوجی مراکز کے قیام کے ذریعہ سے باقی رہی چنانچہ پہلا خط جو سیدنا عثمانؓ نے اسلامی سرحدوں پر مقرر فوجی جرنیلوں کو تحریر فرمایا وہ یہ تھا:
’’اما بعد!
تم مسلمانوں کے محافظ اور ان سے دفاع کرنے والے ہو، ہم جانتے ہیں بلکہ ہمارے سامنے ہی حضرت عمرؓ نے تمہارے اصول و ضوابط مقرر کیے تھے۔ ہم اس کے اندر تغیر و تبدل کو پسند نہیں کرتے، اگر تم نے ایسا کیا تو اللہ تعالیٰ تمھیں بدل دے گا، اور تمہارے بدلے دوسروں کو لائے گا، پس دیکھو تم کیسا کرتے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے جو ذمہ داری مجھ پر ڈالی ہے میں اس کو ادا کر رہا ہوں۔‘‘
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 244)
ادارتی امور میں آسانی پیدا کرنے کی خاطر سیدنا عثمانؓ نے سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کو شام، جزیرہ اور ان کی سرحدوں کی ولایت ایک ساتھ سونپ دی، اور انہیں مکلف کیا کہ شمشاط کی سرحد پر بذات خود حملہ کریں یا پھر روم کے ساتھ جنگ و جہاد کی رغبت رکھنے والے تجربہ کار، شجاعت کے پیکر، ان اکابرین، جرنیلوں میں سے جو اس کو پسند کریں ان کو اس مہم پر روانہ کریں۔
(الادارۃ العسکریۃ فی الدولۃ الاسلامیۃ: جلد 2 صفحہ 466)
اسی طرح آپؓ نے معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کو لکھا کہ وہ انطاکیہ کی سرحد پر کچھ لوگوں کو مقرر کر دیں، اور ان کے لیے وہاں جاگیریں مقرر کر دیں، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔
(فتوح البلدان: البلاذری: جلد 1 صفحہ 175)
آپ سرحدوں کا بے حد اہتمام فرماتے تھے اور وہاں ایسے لوگوں کو روانہ کرتے تھے جو وہاں کی خبریں ان کو پہنچائیں۔
(الخراج صناعۃ الکتابۃ، ابن قدامۃ صفحہ 413)
جب حضرت معاویہؓ نے عموریہ پر حملہ کیا اور انطاکیہ اور طرسوس کی سرحدوں کے درمیان واقع قلعوں کو رومی افواج سے خالی پایا تو وہاں پر شام، جزیرہ اور قنسرین کی فوج کو متعین فرما دیا، اور انہیں وہاں ٹھہرنے کا حکم فرمایا تاکہ غزوات سے لوٹنے کے دوران یہ ان کی پشت پناہی کر سکیں۔
پھر اس کے ایک سال یا دو سال بعد یزید بن حر عبسی کو موسم گرما کی جنگ پر روانہ کیا
(الادارۃ العسکریۃ فی الدولۃ الاسلامیۃ: جلد 2 صفحہ 467)
اور انہیں حکم دیا کہ وہ بھی ایسا ہی کریں، موسم گرما و سرما میں جنگ کرنے والے جرنیل جب روم میں داخل ہوتے تو وہ ایسا ہی کرتے تھے، وہاں کثیر تعداد میں فوج کو اس وقت تک کے لیے چھوڑ جاتے جب تک کہ وہ دشمن کی سر زمین سے واپس نہ آجاتے۔
(الادارۃ العسکریۃ فی الدولۃ الاسلامیۃ: جلد 2 صفحہ 467)
حضرت معاویہؓ نے شامی ساحلوں کے انتظام و انصرام کے دوران اپنی شجاعت اور انتظامی صلاحیت کا اچھی طرح مظاہرہ کیا۔
(الادارۃ العسکریۃ فی الدولۃ الاسلامیۃ: جلد 2 صفحہ 467)
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن سعد بن ابی سرح رضی اللہ عنہ کو تحریر فرمایا کہ اسکندریہ کی سرحد کی حفاظت مرابط فوج کا ایک لشکر وہاں مقرر کر کے کریں اور ان کی تنخواہیں جاری رکھیں، اور مرابطین کی باری باری ڈیوٹی لگاتے رہیں، تاکہ مسلسل دشمن سے مقابلہ میں ڈٹے رہنے کی وجہ سے انہیں ضرر لاحق نہ ہو۔ اور فرمایا تم جانتے ہو کہ امیر المؤمنین عمر بن خطابؓ اسکندریہ کی کس قدر فکر رکھتے تھے۔ روم نے دو مرتبہ عہد کو توڑا تھا، چنانچہ آپ نے وہاں مرابطین کو متعین فرما دیا تھا، اور ان کی تنخواہیں جاری رکھی تھیں اور ہر چھ ماہ پر ان کا تبادلہ کر دیا کرتے تھے۔
(فتوح مصر: صفحہ 192)
خلیفہ راشد عثمان رضی اللہ عنہ کے جرنیلوں کی عادت تھی کہ جب وہ فتوحات میں آگے بڑھتے اور دشمن کے قلعوں پر قبضہ کرتے تو اس میں ترمیم و اصلاح کرتے، جیسا کہ اس سے پہلے مسلم جرنیل کیا کرتے تھے، پھر اس میں مسلم مرابط فوج کو ٹھہرا دیتے اور دیگر نئے دفاعی اور حفاظتی اضافے کرتے۔ وہ قلعے جس کی ترمیم و اصلاح حضرت معاویہؓ نے کی ان میں سے فرات کے یہ قلعے ہیں، سمیساط، ملطیہ، شمشاط، کمخ، قالیقلا۔ یہ وہ قلعے ہیں جن پر مسلمان حضرت عثمانؓ کی خلافت میں آرمینیہ کی فتح کے وقت قابض ہوئے اور اس میں ترمیم و اصلاح کر کے فوج کو اتارا۔
(من تاریخ التحصینات، محمد عبدالہادی: صفحہ 434)
قالیقلا میں سالار لشکر حضرت حبیب بن مسلمہ فہری رضی اللہ عنہ نے دو ہزار آدمیوں کو آباد کیا، اور ان کے لیے جاگیریں مقرر فرمائی اور انہیں وہاں مرابط قرار دیا۔
(فتوح البلدان: جلد 1 صفحہ 234)
خلیفہ راشد عثمان رضی اللہ عنہ نے سالار لشکر حبیب بن مسلمہ فہری رضی اللہ عنہ کو مکلف کیا کہ وہ شام و جزیرہ کی سرحدوں پر اقامت پذیر ہوں تاکہ ان کا انتظام و انصرام اور حفاظت کر سکیں۔
(فتوح البلدان: جلد 1 صفحہ 241)
جب براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے قزوین کی سرحد کو فتح کیا تو وہاں مسلم فوج میں سے پانچ سو کو متعین کیا، ان پر ایک جرنیل مقرر کیا اور ان کو جاگیریں، زمینیں اور جائیدادیں عطا کیں جس میں دوسروں کا کوئی حق نہیں رکھا۔ ان لوگوں نے اسے آباد کیا، نہریں جاری کیں اور کنویں کھودے۔
(الادارۃ العسکریۃ: جلد 2 صفحہ 269)
اور جس وقت حضرت سعید بن العاص رضی اللہ عنہ نے طمیسہ (طبرستان کا ایک شہر ہے۔)
فتح کیا تو وہاں دو ہزار افراد کو مرابط مقرر کیا اور ان پر ایک قائد مقرر فرمایا۔
(الادارۃ العسکریۃ: جلد 2 صفحہ 269)
علاوہ ازیں بہت سے حفاظتی مراکز حضرت عثمانؓ کے عہد میں قائم کیے گئے جو اسلامی سلطنت کی سرحدوں کی حفاظت کے لیے افواج کو تیار کرتے تھے۔
(الادارۃ العسکریۃ: جلد 2 صفحہ 470)
خلیفہ راشد عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے عہد میں موسم سرما و گرما کی جنگوں کا اہتمام فرمایا اس کے لیے آسانیاں اور سہولیات فراہم کیں، ہر سال اس کا اہتمام کیا جاتا، اور آپ کے اکابر سالار اور والیان اس ذمہ داری کو سنبھالتے، مثلاً سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما جنھوں نے گرما کی افواج کے گزرنے کے لیے منبج (ایک پرانا شہر ہے۔)
کا پل تعمیر کیا جس کا وجود اس سے قبل نہ تھا۔ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے والی حضرت معاویہؓ کو روم پر چڑھائی کی ذمہ داری سونپی، اور انہیں حکم دیا کہ وہ موسم گرما کی فوج کی قیادت جس کو منتخب کریں سونپ دیں، چنانچہ سیدنا معاویہؓ نے سفیان بن عوفؓ کو متعین فرمایا جو برابر عہدِ عثمانی میں گرمائی فوج کی قیادت سنبھالے رہے، اور یہ گرما و سرما کے حملے صرف خشکی کی سرحدوں تک محدود نہ رہے بلکہ عہدِ عثمانی میں یہ سمندر کو بھی اسی طرح محیط رہے۔
(الادارۃ العسکریۃ: جلد 2 صفحہ 470)