دار الاسلام میں جدید بیعہ، کنیسہ اور آتش خانہ وغیرہ بنانے کا حکم
اگر ذمیوں نے جدید بیعوں یا کنیسوں کا بنانا چاہا یا مجوس نے آتش خانہ بنانا چاہا، پس اگر انہوں نے مسلمانوں کے شہروں میں سے کسی شہر یا فنائے شہر میں (یعنی شہر سے باہر) اس کا بنانا چاہا تو بالا اتفاق سب کے نزدیک منع کئے جائیں گے۔ اور اگر انہوں نے سواد شہر اور دیہات میں اس کو بنانا چاہا تو اس میں روایات مختلف ہیں، اور روایتوں کے خلاف کی وجہ سے مشائخ نے اس میں بھی اختلاف کیا ہے ۔ چنانچہ مشائخ بلخ رحمہم اللہ نے فرمایا کہ اس سے بھی منع کئے جائیں گے مگر ایسے گاؤں میں جہاں کے اکثر رہنے والے ذمی ہوں منع نہ کئے جائیں گے۔ اور مشائخ بخارا رحمہم اللہ نے جس میں امام ابو بکر محمد بن الفضل صاحب رحمہ اللہ بھی ہیں فرمایا کہ منع نہیں کئے جائیں گے۔
اور شمس الائمہ سرخسی رحمۃ اللہ نے فرمایا کہ میرے نزدیک اصح یہ ہے کہ وہ لوگ سواد شہر میں بھی بنانے سے منع کئے جائیں گے۔ اور زمین عرب میں شہروں اور دیہاتوں سب جگہ اس سے منع کئے جائیں گے۔
(فتاویٰ عالمگیریہ اُردو: جلد 3 صفحہ 515)