باغ فدک: سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا کی سیدنا ابوبکررضی…

باغ فدک: سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا کی سیدنا ابوبکررضی اللہ عنہ سے ناراضگی اور صحیح روایات پر تحقیق

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 3 از 3

کسی بھی واقعے کو جانچنے کے لئے اس کے متعلق تمام صحیح روایات کو یکجا کیا جاتا ہے، تا کہ ہر راوی کا انداز بیان سمجھتے ہوئے اصل واقعے سے مکمل آگاہی ہوسکے۔
سیدہ فاطمہ کی طرف سے حضرت ابوبکر صدیق سے مطالبہ فدک کی احادیث اور تاریخی روایات با سند کتب سے تقریباً 36 مقامات پر دریافت ہوئی ہیں۔

 

ان مقامات میں مذکورہ واقعہ بعض جگہ مفصل ہے اور بعض جگہ مختصر بیان ہوا ہے۔ غور و فکر سے واضح ہوا ہے کہ تمام 36 مقامات میں سے گیارہ عدد روایات وہ روایات ہیں جن کی سند میں ابن شہاب زہری نہیں ہے۔ صحابہ کرام مثلآ حضرت ابوھریرہ ، ابوالطفیل عامر بن واثلہ ام بانی وغیرہم سے یہ روایات مروی ہیں۔ یعنی سیدہ عائشہ صدیقہ سے منقول نہیں ہیں۔ غور طلب بات یہ ہے کہ یہاں کسی ایک مقام پر رنجیدگی و کشیدگی کا نام و نشان نہیں۔
پچیس مقامات جن کی سند میں ابن شہاب الزہری موجود ہے ، دو طرح کی روایات ہیں۔
ایک صورت یہ ہے کہ سند میں زہری موجود ہونے کے باوجود مناقشہ نما الفاظ بالکل مفقود ہیں اور کشیدگی سیدہ فاطمہ کا کوئی تذکرہ نہیں، ایسے مقامات تقریبآ نو عدد ہیں۔
دوسری صورت یہ ہے کہ روایات میں وجدد و عدم تکلم وغیرہم منقول ہیں، ان مقامات کی ہر سند میں زہری موجود ہے۔ تقریبآ سولہ مقامات ہیں۔
  تحقیق کے مطابق تقریباً 16 مختلف مقامات پر اس اہم واقعے کو رنجیدگی سے بیان کیا گیا ہے۔
  جن روایات میں حضرت ابوبکر صدیق کا جواب سن لینے کے بعد سیدہ فاطمہ کا غضبناک ہوجانا، ناراض ہوجانا، حضرت ابوبکر کو چھوڑ دینا، کلام نہ کرنا وغیرہ مذکور ہے ، ان تمام روایات میں “ابن شہاب الزہری” ہی اس واقعے کو آگے بیان کر رہا ہے۔
  کافی تحقیق کے بعد بھی کوئی ایک روایت ایسی نہیں مل سکی جہاں سیدہ فاطمہ کی ناراضگی و ہجران کا ذکر موجود ہو اور وہ روایت “ابن شہاب الزہری” کے بغیر کسی دوسرے راوی سے مروی ہو۔

  اس ایک راوی (زہری) نے جو عروہ سے اور وہ سیدہ عائشہ سے ناقل ہے ، اپنے زعم میں سیدہ فاطمہ کی خاموشی اختیار کرنے کو ناراضگی اور غضبناکی پر محمول کر کے یہ الفاظ ذکر کردیئے۔ حالانکہ کسی چیز کے متعلق سکوت و خاموشی اختیار کرلینا ہمیشہ رنجیدگی کی وجہ سے ہی نہیں ہوتا۔ خاموشی نیم رضامندی بھی ہوا کرتی ہے۔ (یہ ایک مشہور مقولہ بھی ہے) کسی بات کے متعلق اطمینان ہوجانے کی صورت میں انسان سکوت اختیار کرلیتا ہے۔ 
یہاں یہ سوال بھی قابل غور ہے کہ
سیدہ فاطمہ حضرت ابوبکر کے پاس پردہ میں گئیں تھیں یا بے پردہ؟؟؟؟
ظاہر ہے سیدہ کے لئے بے پردہ جانے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔۔
پھر  راوی نے سیدہ فاطمہ کی خاموشی سے یہ اندازہ کیسے لگا لیا کہ سیدہ فاطمہ ناراض ہوگئیں ہیں۔۔؟؟؟
ظاہر ہے غصہ چہرے سے یا دوسری حرکات سے معلوم کیا جاتا ہے۔
  خلاصہ یہ ہے کہ اہل علم کی اصطلاح میں اس کو “ظن راوی” یعنی راوی کا گمان کہا جاتا ہے۔ اس روایت میں راوی کا اپنا ظن و گمان ہے، اور وہ راوی ابن شہاب زہری ہے۔
   اگر اس حدیث سے سیدہ فاطمہ کا ناراض ہوجانا ہی ثابت کرنا ہے تو مخالفین کو ان سوالوں کے جوابات دینے ہوں گے۔

راوی کو آخر کس طرح سیدہ فاطمہ کے دل کی بات معلوم ہوگئی۔۔؟؟؟
ظاہر ہے ، سیدہ فاطمہ تو پردے میں تھیں اور ناراضگی کے الفاظ ادا بھی نہیں فرمائے۔

 سیدہ فاطمہ کس پر ناراض ہوئیں ؟ حضرت ابوبکر صدیق پر یا اپنی ذات پر
اگر حضرت ابوبکر صدیق پر ناراض ہوئیں تو نص حدیث سے سیدہ فاطمہ کی زبان مبارک سے ناراضگی کے الفاظ دکھانے پڑیں گے۔

ہمارہ ایمان ہے کہ سیدہ فاطمہ کبھی بھی اپنے والد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سن کر غصہ نہیں ہو سکتیں ، اور وہ بھی دنیا کی ایک ملکیت کے لئے۔۔۔ یہ ایک ناممکن بات ہے۔

غور فرمائیں ۔۔اس حدیث میں “غضبت علی ابی بکر صدیق” یا اسی قسم کے الفاظ کہیں بھی مذکور نہیں ہیں۔

ناراضگی کے الفاظ راوی کے اپنے ہیں۔ سیدہ کی اپنی زبان سے ایسا کوئی لفظ ادا نہیں ہوا۔
اور یہ بھی غور طلب بات ہے  کہ ناراضگی کے الفاظ صرف ایک راوی “ابن شہاب الزہری” سے ہی مروی ہیں۔ جبکہ یہی واقعہ کئی کتب میں مختلف راویوں سے بھی مروی ہے، کسی دوسرے نے ناراضگی کے الفاظ ذکر نہیں کئے۔

یہ روایت حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے ، ان سے حضرت عروہ نے لی ہے، حضرت عروہ 22/23 ھجری میں پیدا ہوئے تھے، یہ فدک کا واقعہ 11 ھجری کا ہے، یعنی حضرت عروہ بھی موقعے پر موجود نہ تھے۔۔ ابن شہاب الزہری نے یہ روایت کرتے وقت اپنا گمان بیان کیا ہے۔

سیدہ فاطمہ کی ناراضگی کا یقین صرف اس ایک راوی “ابن شہاب الزہری” کو کیسے ہوا؟؟ جبکہ وہ موقعے پر موجود بھی نہ تھا۔۔

حدیث میں ترک کلام کا اصل مطلب:
ترک کلام فدک کے معاملے میں تھا ، سیدہ فاطمہ نے اس مطالبہ اور اس فیصلے کو قول نبوی کے بعد تسلیم کیا اور بعد میں راضی بھی ہوگئیں اس لئے فدک کے معاملے میں حضرت ابوبکر صدیق سے کوئی بات نہیں کی ، جبکہ اہل سنت و شیعہ کتب کی کچھ روایات سے سیدہ فاطمہ اور حضرت ابوبکر صدیق کی فدک کے معاملے کے بعد بھی ملاقات ثابت ہے۔


صفحہ 3 از 3