حضرت سلمان بن ربیعہ الباہلی رضی اللہ عنہ عہد عثمانی کا ایک ممتاز جرنیل
علی محمد الصلابیصحابی جلیل سلمان بن ربیعہ باہلی رضی اللہ عنہ کوفہ کے سب سے پہلے قاضی ہیں۔ سیدنا عمر بن خطابؓ نے شریح سے قبل ان کو کوفہ کا قاضی مقرر کیا تھا، اور جب سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ دوبارہ کوفہ کے والی مقرر ہوئے تو انہوں نے بھی آپ کو قضا کا منصب سونپا۔ آپ قادسیہ میں شریک ہوئے، وہاں قضا کی ذمہ داری سنبھالی، پھر آپ مدائن کے قاضی مقرر ہوئے، ہر انسان قضاء کی صلاحیت نہیں رکھتا، اور خاص کر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت میں کوفہ کا قاضی بننا آسان نہ تھا جب کہ ایک طرف کوفہ بڑے بڑے عرب اور کبار صحابہ رضی اللہ عنہم سے بھرا تھا اور دوسری طرف مختلف اقوام و قبائل کے لوگ وہاں مخلوط تھے۔ ان حالات میں آپ کا کوفہ کا قاضی ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ دین حنیف کے زبردست عالم اور استقامت، عدل و تدین، متوازن قوی عقلیت اور قوی مؤثر شخصیت کے حامل تھے، جس کی وجہ سے سب کے نزدیک قابلِ اعتماد رہے۔ مدائن کی فتح اور ’’الباب‘‘ کے معرکہ میں مالِ غنیمت کی تقسیم کی ذمہ داری بھی آپ نے نبھائی، جو اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کی شخصیت ہر طرح کے شکوک و شبہات سے پاک تھی، آپ انتہائی صالح و نیک انسان تھے، ہر سال حج کرتے۔ آپ سے بعض کبار تابعینؒ نے روایت کی ہے۔ آپ بلند اخلاق کی نادر مثال تھے۔ آپ انتہائی کریم و مہمان نواز، خوددار و غیرت مند، وفادار، سچے اور محب خیر تھے، جو اپنے لیے پسند کرتے لوگوں کے لیے بھی وہی پسند کرتے، شہادت کے وقت اپنے لیے کوئی دینار اور گھر نہ چھوڑا جب کہ پوری زندگی جہاد، قضاء اور امارت میں گزری۔
قائدانہ صفات میں اپنے ساتھیوں پر فوقیت رکھتے تھے، چنانچہ جب سیدنا عثمان بن عفانؓ نے کوفہ کے حاکم سیدنا ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دیتے ہوئے لکھا کہ کوفہ والوں کا ایک امدادی دستہ اہل شام کے لیے ایسے شخص کی قیادت میں روانہ کرو جس کی قوت و شجاعت اور اسلام تمھیں پسند ہو تو حضرت ولیدؓ نے بلاتردد اس اہم اور خطر ناک ذمہ داری کے لیے حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کا انتخاب فرمایا، حالاں کہ وہاں اسلامی فتوحات کے عظیم کمانڈر اور جرنیل موجود تھے، لیکن سب پر آپؓ کو ترجیح دی کیوں کہ آپ امداد و قوت اور شجاعت و بہادری کی نادر مثال تھے، اور اس کے ساتھ ورع اور تقویٰ کے پیکر تھے۔ آپؓ انتہائی بہادر، پیش قدمی کرنے والے، جلد امداد کو پہنچنے والے اور جنگی فنون کے ماہر اور تجربہ کار تھے، کیوں کہ ایک طویل مدت آپؓ نے جنگ میں گزاری تھی اور آپؓ کو لوگوں کی قیادت کا طویل تجربہ تھا، اونٹوں کے جوڑوں پر قصاب کے ضرب لگانے سے زیادہ دشمن پر ضرب لگانے کے ماہر تھے۔
(تہذیب ابن عساکر: جلد 6 صفحہ 210، تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 309)
جو اس بات کی دلیل ہے کہ آپؓ ماہر تیر انداز تھے، آپ شہسواری کے ماہر تھے، گھوڑوں کا گہرا تجربہ رکھتے تھے، حضرت عمر بن خطابؓ کے دورِ خلافت میں گھوڑوں کے ذمہ دار تھے۔ حضرت عمر بن خطابؓ نے ہر شہر میں جہاد کے لیے بہت سے گھوڑے پال رکھے تھے، صرف کوفہ میں چار ہزار گھوڑے تھے، اسلامی حدود پر جب کفار حملہ آور ہوتے تو مسلمان مجاہدین ان گھوڑوں پر سوار ہو کر ان سے قتال کے لیے روانہ ہو جاتے۔
(قادۃ الفتح الاسلامی فی ارمینیۃ: صفحہ 169)
اور حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کوفہ میں گھوڑوں کے ذمہ دار تھے۔
(اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، ابن اثیر: جلد 2 صفحہ 327)
آپؓ انتہائی بہادر شہسوار تھے، حضرت سلمانؓ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی اس تلوار سے سو جنگی اسلحہ سے لیس سپاہیوں کو قتل کیا، یہ سب کے سب غیر اللہ کو پوجنے والے تھے، کسی شخص کو میں نے باندھ کر قتل نہیں کیا۔ آپؓ اپنے مدمقابل کافر اور غیر اللہ کو پوجنے والے دشمن کو بھی میدان جنگ میں دھوکہ سے قتل نہیں کرتے تھے بلکہ اس کو آگاہ کرتے اور ایک دوسرے پر مدمقابل کی طرح حملہ کرتے اور موقع پا کر اس کو قتل کر دیتے، چنانچہ یہ قتل نہ دھوکا سے ہوتا اور نہ باندھ کر ہوتا تھا۔
(الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب: جلد 2 صفحہ 633)
آپؓ سچے و مخلص مثالی مجاہد تھے جو اللہ کے کلمہ کو بلند کرنے کے لیے جہاد کیا کرتا ہے، وہ اس کی پروا نہیں کرتا کہ اللہ کی راہ میں کس پہلو پر اس کا خاتمہ ہوتا ہے۔ آخرکار یہ مرد مجاہد اپنے خون میں لت پت گر پڑا، لیکن اس کی تلوار اس کے ہاتھ سے نہ چھوٹی، یہ ہر سپاہی اور ہر جرنیل کے لیے تابناک اور شرف و بزرگی سے پر ماضی اور ہمیشہ روشن رہنے والے نادر کارناموں میں بہترین نمونہ و اسوہ ہے۔
(قادۃ الفتح الاسلامی فی ارمینیۃ: صفحہ 170)
32ھ یا 33ھ (قادۃ الفتح الاسلامی فی ارمینیۃ: صفحہ 171) میں فقیہ و محدث، قاضی عادل، بے داغ امین، دور اندیش منتظم، دلیر سپاہی، بہادر شہسوار اور فاتح سپہ سالار سلمان بن ربیعہ باہلیؓ نے جام شہادت نوش فرمایا۔
(قادۃ الفتح الاسلامی فی ارمینیۃ: صفحہ 172)