Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حضرت حبیب بن مسلمہ فہری رضی اللہ عنہ عہد عثمانی کا ایک ممتاز جرنیل

  علی محمد الصلابی

حضرت حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کم سنی کے باوجود ایک میدان قتال سے دوسرے میدان قتال کی طرف منتقل ہوتے رہتے، کبھی فاتح کی حیثیت سے اور کبھی امداد کے لیے۔ حضرت حبیب بن مسلمہؓ نے جتنے معرکوں میں حصہ لیا فتح و نصرت ہمیشہ آپ کے ساتھ رہی۔ آپؓ مدینہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مجاہد کی حیثیت سے حاضر ہوئے، اس وقت حضرت حبیبؓ کم سن تھے۔ حضرت حبیب بن مسلمہؓ نے غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پرچم تلے شرکت فرمائی، اسی غزوہ سے آپؓ نے جہاد کا آغاز فرمایا، اس وقت آپؓ تقریباً بیس سال کے تھے۔

(جس وقت آپ نے جزیرہ کی قیادت کا منصب سنبھالا اس وقت آپ کی عمر 28 سال تھی۔)

جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہیں مضبوط اور طاقت ور پایا تو ان کا عملی طور سے تجربہ کرنا چاہا کہ حضرت حبیب بن مسلمہؓ کس طرح کے لوگوں میں سے ہیں، چنانچہ آپؓ پر مال کے خزانوں اور اسلحہ کے ذخائر کی ذمہ داری پیش کی، آپؓ نے مال سے اعراض کرتے ہوئے اسلحہ کے ذخائر کی ذمہ داری قبول فرمائی، ظاہر ہے کہ مال پر اسلحہ کو ترجیح دینا اس جرنیل کے خصائص میں سے ہے جس کے اندر سپاہ گری کی محبت پیوست ہو چکی ہو۔ یرموک کی فیصلہ کن جنگ میں حضرت حبیب بن مسلمہؓ نے کردوس کی قیادت کا منصب سنبھالا، جب کہ اس وقت حضرت حبیب بن مسلمہؓ کی عمر صرف 24 سال تھی یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ قیادت کے آثار کم عمری میں ہی آپ پر نمایاں تھے، جب کہ آپ کا عنفوان شباب تھا۔

حضرت عمرؓ نے آپ کو الجزیرہ کا حاکم اور سپہ سالار مقرر فرمایا حالاں کہ یہ آسان نہ تھا کہ سیدنا عمر فاروقؓ ہر کسی کو اس طرح کا اعلیٰ منصب عطا فرمائیں، کیوں کہ حضرت عمرؓ کو قائد کے اندر معین صفات مطلوب ہوتی تھیں جن کا آپ برابر اہتمام فرماتے تھے اور جو لوگوں میں بہت کم پائی جاتی ہیں، آخر میں حضرت عمرؓ نے آپ کو آرمینیہ اور آذربیجان کا حاکم مقرر فرمایا، یہ علاقہ انتہائی وسیع ہے اور اس علاقہ کے باشندوں کی طبیعت کی شدت اور مسلمانوں کے بنیادی مراکز سے دوری کے اعتبار سے قیادت کا یہ منصب انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔

(جس وقت آپ نے آرمینیہ اور آذربیجان کی قیادت سنبھالی اس وقت آپ کی عمر 33 سال تھی۔)

حضرت عثمانؓ کے عہدِ خلافت میں بھی آپ نے قیادت و ادارت کی ذمہ داری سنبھالے رکھی۔ آپ بڑے بہادر، جری اور اقدام کرنے والے تھے، موریان سے قتال کے لیے آپ چھ ہزار کی فوج لے کر آگے بڑھے، جب کہ دشمن کی تعداد ستر ہزار تھی، آپ نے اپنے ساتھیوں سے کہا: اگر دشمن نے صبر سے کام لیا اور تم بھی صبر سے کام لے کر مقابلہ میں ڈٹے رہے تو ان کے مقابلہ میں تم اللہ سے قریب ہو گے، اور اللہ تعالیٰ تمہارا ساتھ دے گا۔ اور اگر انہوں نے صبر سے کام لیا اور تم نے گھبرا کر صبر کا دامن چھوڑ دیا تو اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہو گا۔پھر رات کے وقت دشمن پر حملہ کیا اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی: ’’اے اللہ اس رات کے چاند کو ہم سے مؤخر کر دے، اور بارش کو روک لے اور میرے ساتھیوں کے خون کو محفوظ کر دے، اور ان کو شہیدوں میں لکھ لے۔‘‘ آخر اللہ تعالیٰ نے انہیں فتح عطا فرمائی۔

(تہذیب: ابن عساکر: جلد 4 صفحہ 37)

یہاں فتح و انتصار کے اسباب میں سے ایک سبب ایمان کے ساتھ دشمن پر اچانک رات کا حملہ تھا جس کی وجہ سے دشمن کے حوصلے پست ہو گئے اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوئے۔

(قادۃ الفتح الاسلامی فی ارمینیۃ: صفحہ 189) 

شجاعت و پیش قدمی میں آپؓ اپنی افواج کے لیے زندہ آئیڈیل تھے۔ آپ آگے سے اپنی فوج کی قیادت فرماتے، ان سے کہتے میرے پیچھے آؤ۔ آپ سلامتی و عافیت کو ترجیح دیتے ہوئے پچھلی صفوں میں نہیں رہتے تھے۔ جس وقت آپ نے موریان پر راتوں رات حملہ کا عزم فرمایا اور اس کا ذکر بیوی کے کانوں میں پڑا تو اس نے دریافت کیا کہاں کا ارادہ ہے؟ فرمایا: موریان کا شامیانہ یا جنت۔ حضرت حبیبؓ نے راتوں رات دشمن پر حملہ کر دیا اور راستے میں جو ملے ان کو قتل کرتے گئے اور جب شامیانہ میں پہنچے تو دیکھا آپ کی بیوی وہاں آپ سے پہلے پہنچی ہوئی ہے۔

(قادۃ الفتح الاسلامی فی ارمینیۃ: صفحہ 189)

تنہا حضرت حبیبؓ ہی اپنی فوج کے لیے نمونہ شجاعت نہ تھے کہ جس نے اپنے جوہر شجاعت سے ان کے لیے بہترین مثال قائم کی ہو بلکہ حضرت حبیبؓ کی بیوی بھی بہادر تھی، فدائیت و قربانی میں بڑے بڑے سورما اس کے نقش قدم کو اختیار کرتے تھے۔

(قادۃ الفتح الاسلامی فی ارمینیۃ: صفحہ 189)

حضرت حبیبؓ اپنے افواج سے مشورہ لیتے اور ان کے مشوروں کو قبول فرماتے اور صرف اپنی رائے کو ترجیح نہ دیتے، آپ چپکے سے کان لگا کر لوگوں کی باتیں سنتے تاکہ اپنے افواج کے خیالات کو معلوم کر سکیں اور ان میں سے جو رائے اچھی ہوتی اس پر عمل پیرا ہوتے، اس کے علاوہ معرکہ سے قبل، اس کے دوران اور بعد میں شوریٰ کی کانفرنسیں قائم کرتے، ایک روز حضرت حبیبؓ نے سنا کہ ایک فوجی کہہ رہا ہے: اگر مجھ سے حبیب مشورہ لیں تو میں ان کو ایسا مشورہ دوں گا جس کی بنا پر اللہ تعالیٰ ہمیں فتح و نصرت عطا کرے گا، اور ان شاء اللہ آسانی حاصل ہو گی۔ حضرت حبیب رضی اللہ عنہ نے اس فوجی کی یہ بات کان لگا کر سنی۔ ساتھیوں نے اس فوجی سے کہا: تم کیا مشورہ دو گے؟ اس نے کہا: میں ان کو یہ مشورہ دوں گا کہ شہسواروں کو پہلے روانہ کریں اور پھر اپنی فوج لے کر ان کے پیچھے نکلیں، یہ شہسوار رات ہی میں پہنچ کر دشمن پر حملہ کر دیں، اور یہ اپنی فوج کے ساتھ فجر طلوع ہوتے ہی وہاں جا پہنچیں، اس سے دشمن یہ سمجھے گا کہ بڑی امدادی فوج مسلمانوں کے لیے پہنچ چکی ہے، اس طرح اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں مسلمانوں کا رعب ڈال دے گا، اور پھر دشمن مرعوب ہو کر شکست خوردہ ہو جائیں گے۔

(تہذیب: ابن عساکر: جلد 4 صفحہ 37) 

فوجی کی اس بات کو سن کر حضرت حبیبؓ نے شہسواروں کو جمع کیا اور انہیں چاندنی رات میں بارش کی حالت میں روانہ کیا، پھر ان کے پیچھے اپنا لشکر لے کر نکلے اور صبح سویرے دشمن کے پاس پہنچ گئے، اور دشمن پر ہلہ بول دیا، دشمن شکست خوردہ ہوا اور مسلمانوں کو بہت سا مال غنیمت حاصل ہوا۔

(قادۃ الفتح الاسلامی فی ارمینیۃ: صفحہ 190)

حضرت حبیبؓ صاحبِ فکر و تدبیر تھے، غور و فکر کر کے اندازہ لگاتے پھر اپنے ساتھیوں سے مشورہ کرتے۔ میدان قتال کا جائزہ لیتے، دشمن سے متعلق مکمل معلومات حاصل کرتے اور پھر علم و بصیرت پر مبنی عسکری منصوبہ تیار کرتے۔

حضرت حبیبؓ کی جہادی کارروائیاں سوچی سمجھی اسکیم اور منصوبہ کے تحت ہوا کرتی تھیں، بغیر سوچی سمجھی اسکیم کے تحت کوئی کارروائی نہیں کرتے تھے، اس لیے خطرناک معرکوں میں بھی فتح و نصرت حضرت حبیبؓ کے ساتھ رہی، ان خصائص کے ساتھ ساتھ حضرت حبیبؓ صادق الایمان حقیقی مؤمن تھے اور جب بھی دشمن پر حملہ آور ہوتے یا کسی قلعہ کا محاصرہ کرتے تو اس موقع پر یہ بابرکت کلمات کہنا حضرت حبیبؓ کو انتہائی محبوب ہوتا لاحول ولا قوۃ الا باللّٰه العلی العظیم۔

(تہذیب: ابن عساکر: جلد 4 صفحہ 3)

حضرت حبیبؓ نادر الوجود قائد تھے۔ نادر الوجود قائد کے اوصاف و خصائص آپ کے اندر جمع تھے جیسے من جانب اللہ غیر معمولی طبیعت، اکتسابی علم، عملی تجربہ، 

(قادۃ الفتح الاسلامی فی ارمینیۃ: صفحہ 192)

اور اللہ پر اعتماد۔ 

حضرت حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے اسلامی فتوحات میں ایسی خدمات پیش کی ہیں جنھیں فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ حضرت حبیبؓ بلاشبہ عہدِ عثمانی میں اسلامی فتوحات کے عبقری قائدین میں سے ہیں۔ اس بے نظیر قائد کی وفات 47ھ میں ہوئی، اس وقت آپ کی عمر 54 سال قمری تھی۔ سالوں کے اعتبار سے آپ کی عمر کم تھی، لیکن کارہائے نمایاں کے اعتبار سے زیادہ تھی۔ وقت کے اعتبار سے تھوڑی لیکن حضرت حبیبؓ کے آثار و نقوش صدیاں گزرنے کے باوجود باقی ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس صحابی جلیل، دور اندیش منتظم، ماہر سیاست، اور فتح مند قائد حبیب بن مسلمہ فہری رضی اللہ عنہ سے راضی ہو۔

(قادۃ الفتح الاسلامی: صفحہ 187)