جمع قرآن کے دوسرے مرحلہ کے بعض نتائج
علی محمد الصلابیحروب ردہ میں بہت سے صحابہؓ کی شہادت کی وجہ سے قرآن کے ضائع ہو جانے کا خطرہ لاحق ہوا جس کے نتیجہ میں قرآن کی جمع و تدوین کا کام عمل میں آیا، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس وقت حفاظ و علماء اپنے افکار و سلوک اور تلواروں کے ذریعہ سے اسلام اور مسلمانوں کی شان و شوکت کو بلند کرنے کے لیے جہاد و عمل میں سب سے پیش پیش رہتے تھے، چنانچہ یہ خیرِ امت تھے جنھیں لوگوں کے لیے وجود بخشا گیا تھا، لہٰذا بعد میں آنے والوں کو ان کی اقتدا اور پیروی کرنی چاہیے۔
مصالح مرسلہ کے پیشِ نظر قرآن کو جمع و مدون کیا گیا اور اس کی سب سے بڑی دلیل حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا یہ سوال ہے کہ ہم کیسے وہ کام کریں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا ہے؟ حضرت عمر فاروقؓ کا یہ قول ہے: ’’ایسا کرنا بہتر ہے۔‘‘ اور بعض روایات میں یوں آیا ہے کہ ’’اللہ کی قسم یہ بہتر ہے اور اسی میں مسلمانوں کی مصلحت ہے۔‘‘ اور یہ بالکل وہی جواب ہے جو حضرت زید بن ثابتؓ کے سوال پر حضرت ابوبکر صدیقؓ نے دیا تھا۔ خواہ وہ روایت جس میں مصلحت کا لفظ وارد ہے صحیح ہو یا نہ ہو لیکن ’’ایسا کرنا بہتر ہے‘‘ کا ماحصل یہی ہے۔ قرآن کی جمع و تدوین میں مسلمانوں کی مصلحت شروع میں مصالح مرسلہ کے اصول پر مبنی تھی اس کے بعد جب تمام حضرات نے صریح یا ضمنی اقرار کے ذریعہ سے موافقت کر دی تو اس کام کے لیے اجماعِ صحابہ منعقد ہو گیا، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ مصالح مرسلہ ان حضرات کے نزدیک جو اس کی حجیت کے قائل ہیں اجماع کی سند بن سکتی ہے۔ اصولِ فقہ کی کتابوں میں اس کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔
اس واقعہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کس طرح محبت و احترام کے پرسکون ماحول میں اجتہاد کرتے تھے، اور ان کا ہدف و مقصود ان نتائج تک پہنچنا تھا جو مسلمانوں کے مصالح عامہ کے حق میں ہوں۔ یہ حضرات صحیح رائے کو قبول کرتے، افہام و تفہیم کے بعد جب شرح صدر ہو جاتا اور وہ کسی رائے سے مطمئن ہو جاتے تو پھر اس کی طرف سے دفاع کرتے، جیسا کہ شروع سے ہی ان کی یہی رائے تھی۔ اس جذبہ و حوصلہ کی وجہ سے بہت سے اجتہادی مسائل میں ان کے اجماع کا انعقاد ممکن ہوا۔
(الاجتہاد فی الفقہ الاسلامی: عبدالسلام السلیمانی: صفحہ 127)