Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

تعزیہ داری کی مجلس منعقد کرنا اور اس میں فاتحہ و درود پڑھنے اور شرکت کرنے کا حکم


تیرہویں صدی ہجری حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ کا فتویٰ

سوال: اس مجلس میں یعنی تعزیہ داری کی مجلس میں بنیت زیارت و گریہ وزاری حاضر ہونا اور وہاں جا کر مرثیہ اور کتاب سننا اور فاتحہ و درود پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب: اس مجلس میں بہ نیت زیارت و گریہ و زاری کے بھی حاضر ہونا نا جائز ہے ۔ اس واسطے کہ اس جگہ کوئی زیارت نہیں کہ زیارت کے واسطے جائے ۔ اور وہاں چند لکڑی جو تعزیہ دار کی بنائی ہوئی ہوتی ہے، وہ زیارت کے قابل نہیں بلکہ مٹانے کے قابل ہے۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے:

من رای منکرا فليغره بيده فان لم يستطع فبلسانه فان لم يستطع فبقلبه و ذلك اضعف الايمان

یعنی جو شخص کوئی امر خلاف شرع دیکھے تو چاہیئے کہ اس کو مٹا دے اپنے ہاتھ سے، اگر ہاتھ سے مٹانے کی قدرت اس کو نہ ہو تو زبان سے مٹا دے، یعنی زبان سے منع کر دے، اور اگر زبان سے منع کرنے کا بھی اس کو اختیار نہ ہو تو اس کو مٹا دے اپنے دل سے یعنی دل میں اس کو بُرا جانے، اور یہ یعنی دل سے منع کرنا نہایت ضعیف ایمان اور مجلس تعزیہ داری میں جا کر مرثیہ اور کتاب سننے کے بارے میں یہ حکم ہے کہ اگر مرثیہ اور کتاب احوال واقعی نہ ہو، بلکہ کذب وافتراء ہو، اس میں ایسا ذکر ہو جس سے بزرگوں کی تحقیر ہوتی ہو تو ایسا مرثیہ اور کتاب سننا درست نہیں، بلکہ ایسی مجلس میں جانا بھی جائز نہیں۔ چنانچہ اسی طرح کا مرثیہ سننے کے بارہ میں حدیث شریف میں منع وارد ہے:

عن ابی اوفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن المراثي

یعنی روايت ہے حضرت ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے کہ منع فرمایا ہے رسول اللہ ﷺ نے مرثیہ سے۔

اور اگر مرثیہ اور کتاب میں احوال واقعی ہو تو ایسے مرثیہ اور کتاب فی نفسہ سننے میں مضائقہ نہیں لیکن ہیئت اس مجلس کی جس طرح بدعتی کرتے ہیں نہ کرنا چاہیئے۔ اس واسطے کہ اس میں مشابہت بدعتی گروہ سے ہو جاتی ہے، اور پرہیز کرنا بدعتیوں کی مشابہت سے ضروری ہے۔ چنانچہ حدیث شریف میں وارد ہے من تشبه بقوم فهو منهم یعنی جس نے مشابہت کی کسی قوم کی وہ بھی ان ہی لوگوں سے ہوا۔

اور جو شخص تعزیہ داروں کی مجلس کی مانند مجلس منعقد کرے تو وہ اس حدیث کے مصداق میں بھی داخل ہو جائے گا من كثر سواد قوم فهو منهم ومن رضى عمل قوم كان شريکا لم عمل یعنی جس شخص نے زیادہ کیا جماعت کو کسی قوم کی تو وہ شخص بھی اس قوم سے شمار ہو گا اور جو خوش ہو عمل سے کسی قوم کے تو وہ بھی اس کا شریک قرار پائے گا، جو عمل وہ کرے۔

اور فاتحہ و درود پڑھنا فی نفسہ درست ہے لیکن ایسی جگہ یعنی مجلس تعزیہ داری میں پڑھنے سے ایک طرح کی بے ادبی ہوتی۔ اس واسطے کہ ایسی مجلس اس قابل ہے کہ مٹا دی جائے، اور ایسی مجلس میں نجاست معنوی ہوتی ہے۔ اور فاتح و درود اس جگہ پڑھنا چاہئے جو نجاست ظاہری و باطنی سے پاک ہو۔

پس جو شخص پائخانہ میں قرآن کریم کی تلاوت کرے اور درود پڑھے، وہ مستوجب ملامت و طعن ہو گا، ایسا ہی و جس جگہ نجاست باطنی ہو اور دُور کرنے کے قابل ہو، تو وہاں بھی پڑھنا باعث سلامت و طعن ہو گا۔ اس واسطے کہ بےمحل وہ پڑھنا ہو گا۔ (فتاویٰ عزیزی: صفحہ 186)