عہد عثمانی میں جمع قرآن کے لیے جمہور صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشورہ
علی محمد الصلابیسیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے مہاجرین و انصار کو جمع کیا اور اس سلسلہ میں ان سے مشورہ کیا، ان میں امت کے نمائندہ افراد، ائمہ اعلام اور علماء صحابہؓ اور سر فہرست علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھے۔ حضرت عثمانؓ نے اس مشکل مسئلہ کو امت کے چنندہ اور ہدایت یاب قائدین کے سامنے پیش کیا۔ اس سلسلہ میں گفتگو کی، بحث و مباحثہ ہوا، اور مختلف پہلوؤں سے اس پر غور و خوض کیا، لوگوں کے خیالات معلوم کیے اور اپنی رائے پیش کی، لوگوں نے بصراحت آپ کی رائے کو قبول کیا جس سے اہل ایمان کے دلوں میں ادنیٰ شک و شبہ بھی باقی نہیں رہا، اور کسی نے بھی اس پر نکیر نہ کی، قرآن کا معاملہ امت کے ایک ادنیٰ فرد پر مخفی نہیں رہتا چہ جائیکہ علمائے ائمہ کبار پر مخفی رہے۔
(عثمان بن عفان: صادق عرجون: صفحہ 175)
جمع قرآن کے سلسلہ میں حضرت عثمانؓ نے کوئی بدعت ایجاد نہ کی، بلکہ آپ سے قبل حضرت ابوبکر صدیقؓ یہ کام کر چکے تھے اسی طرح آپ نے یہ کام صرف اپنی ذاتی رائے سے نہیں کیا بلکہ اس سلسلہ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مشورہ کر کے قدم بڑھایا اور آپؓ کے اس کام کو سب نے پسند کیا اور کہا: آپؓ کی رائے خوب رہی، مصاحف کے سلسلہ میں آپؓ نے بہت اچھا کیا۔
(فتنۃ مقتل عثمان بن عفان: جلد 1 صفحہ 78)
جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے دیگر خود نوشت مصاحف کو نذر آتش کیا تو حضرت مصعب بن سعدؓ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ملے اور دیکھا کہ سبھی لوگ آپ کے اس فعل کو پسند کر رہے ہیں۔
(التاریخ الصغیر: البخاری: جلد 1 صفحہ 94 إسنادہ حسن لغیرہ)
اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس سلسلہ میں حضرت عثمانؓ پر نکتہ چینی کرنے سے منع کرتے تھے، اور فرماتے تھے: لوگو! حضرت عثمانؓ پر غلو نہ کرو، ان کے سلسلہ میں خیر ہی کہو، اللہ کی قسم انہوں نے قرآن کے سلسلہ میں جو کچھ کیا ہے ہم تمام صحابہ کے مشورہ سے کیا ہے۔ اللہ کی قسم اگر میں ان کی جگہ ہوتا تو میں بھی وہی کرتا جو انہوں نے کیا ہے۔
(فتح الباری: جلد 9 صفحہ 18 إسنادہ صحیح۔)
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اس بابرکت امر پر اتفاق کے بعد خواہشاتِ نفسانی سے پاک ہر شخص پر یہ حقیقت آشکارا ہو جاتی ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے اس عظیم کارنامہ پر جس کے ذریعہ سے قرآن کریم کی انہوں نے حفاظت فرمائی ہر مسلمان کا خوش اور راضی ہونا واجب ہے۔
(فتنۃ مقتل عثمان بن عفان: جلد 1 صفحہ 78)
علامہ قرطبی رحمۃاللہ اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں:
’’حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جمع قرآن کا یہ کارنامہ مہاجرین و انصار اور مسلمانوں کو جمع کر کے اور ان سے مشورہ کے بعد انجام دیا، اور ان تمام حضرات نے اس بات سے اتفاق کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشہور قرأت صحیح اور ثابت ہے اس کے مطابق قرآن کو جمع کیا جائے اور اس کے ماسوا قرأتوں کو نظر انداز کیا جائے، اور سب ہی نے حضرت عثمانؓ کی رائے کو صحیح قرار دیا اور آپ کی رائے صحیح و درست اور کامیاب تھی۔‘‘
(الجامع لاحکام القرآن: جلد 1 صفحہ 88)