شہادت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ (قسط ہفتم) - دفاعِ اہلِ…

شہادت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ (قسط ہفتم)

  پروفیسر نقیہ کاظمی

صفحہ 2 از 3
الجواب: حضور ﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں ایک صحابیؓ بھی ایسا نہ تھا جس کے دل میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف کوئی بوجھ ہو، ان سب کو معلوم تھا کہ حضورﷺ نے سیدنا عثمانؓ کو ہمیشہ نگاہ محبت و عزت سے دیکھا ہے اور آپؓ کے بارے میں بڑے فضائل و مراتب بیان فرمائے اور اشاروں کنایوں میں آپؓ کے خلیفہ ثالث ہونے کی بشارت اور آپؓ کے شہید اور جنتی ہونے کی بشارت دی ہے ۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ حضورﷺ تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو حق اور ہدایت پر بتائیں اور آپؓ کے اچھے ہونے کی گواہی دیں اور انہیں اپنے مؤقف پر استقامت سے رہنے کی تاکید فرمائیں اور دوسری طرف آپﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ان سب ارشادات کو بیک نظر مسترد کرتے ہوئے ان کے قتل میں شامل ہو جائیں. جو لوگ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو سیدنا عثمانِ غنیؓ کے قتل میں شامل بتاتے ہیں اور انہیں اس گندگی میں ملوث کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کا مقصد سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ وہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نام پر حضرت عثمان غنیؓ کو نشانہ طعن بنا سکیں۔ استغفر الله العظيم۔
امام ابوبکر بن العربی المالکیؒ (543 ہجری) لکھتے ہیں:
ان احدا من الصحابة لم يسع عليه ولا قعد عنه.
(العواصم من القواصم: صفحہ 143) 
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کوئی بھی حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کی مخالفت میں آگے بڑھا اور نہ وہ آپؓ کی حمایت سے دست کش ہوئے 
(صحیح مسلم کے شارح اور محدث امام نوویؒ (676 ہجری) کھل کر لکھتے ہیں)
يشارك في قتله أحد من الصحابة 
(نووی شرح مسلم: جلد، 2 صفحہ، 143) 
سیدنا عثمانؓ کے خون میں کسی بھی صحابیؓ کا کوئی ہاتھ نہ تھا۔
شیخ الا سلام حافظ ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں:
ومعلوم بالتواتر أن أهل الامصار لم يشهدوا قتله فلم يقتله بقدر من بايعه وأكثر أهل المدينة لم يقتلوه ولا أحد من السابقين الاولين دخل في قتله كما دخلوا في بيعته۔
(منهاج السنۃ: جلد، 8 صفحہ، 313) 
آپؒ ایک اور مقام پر لکھتے ہیں:
ان جماهير المسلمين لم يأمروا بقتله ولا شاركوا فى قتله ولا رضوا بقتله.. خيار المسلمين لم يدخل منهم في دم عثمان لا قتل ولا أمر بقتله وإنما قتله طائفة من المفسدين في الارض من أوباش القبائل وأهل الفتن 
(منہاج السنۃ: جلد، 4 صفحہ، 323) 
علامہ ابو الشکور سالمیؒ التمہید میں لکھتے ہیں:
ولم يكن معهم من الصحابة أحد فنقبوا جداره ودخلوا عليه وقتلوه مظلوما۔
(التمهيد: صفحہ، 164) 
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر گھسنے والوں میں کوئی بھی صحابیؓ نہ تھا، یہ دوسرے لوگ تھے جو دیوار پھاند کر اندر داخل ہو گئے اور آپؓ کو ظلماً قتل کر دیا۔
مؤرخ شہیر حافظ ابن کثیرؒ لکھتے ہیں۔
ليس فيه أحد من الصحابة.
(البدايه: جلد، 7 صفحہ، 185/198)
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ لکھتے ہیں:
کہ آپؓ کے ساتھ زیادتی کرنے والے مصری اور ان کے ساتھی تھے ان میں کوئی صحابیؓ اور ان صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے پیچھے چلنے والا کوئی تابعی نہ تھا۔
قومی از مصریاں کہ نہ از بعد صحابه بود ندونه از تابعین لهم باحسان۔ 
(قرة العینین: صفحہ، 143) 
اس بارے میں سب سے زیادہ نام حضرت علی المرتضیٰؓ کا لیا جاتا ہے اور بہت سے لوگ اپنے مذموم اپنے مقاصد کے تحت انہیں شہادت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا ذمہ دار بتاتے ہیں، یہ بات بالکل غلط ہے، بیشک بعض معاملات میں آپؓ کو سیدنا عثمانؓ کی پالیسی سے اختلاف ہوا اور آپؓ نے ان کی نشاندہی بھی کی تاہم آپؓ کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کا ذمہ دار بتانا سیدنا علی المرتضیٰؓ کی سیرت کو داغدار کرنا ہے جو ہرگز جائز نہیں۔ آپؓ سیدنا عثمانؓ کی مدافعت کرنے والوں میں تھے اور اپنی ممکنہ حد تک آپ نے یہ کوشش بھی کی۔ آپؓ نے سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ کو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی حفاظت پر مامور فرمایا آپؓ کے لیے پانی بھیجنے کا انتظام کیا ان کوششوں کے باوجود تقدیر الہٰی پوری ہوئی پھر جب آپؓ کو شہادت کی خبر پہنچی تو آپؓ رو پڑے اس پر سخت دکھ کا اظہار فرمایا اور قاتلوں سے کھلے عام اظہار براءت کیا اور فرمایا کہ نہ میں نے کبھی اس کا حکم دیا تھا نہ میں ان کے اس عمل سے راضی ہوں خدا ان کو غارت و برباد کرے جنہوں نے حضرت عثمانؓ کو شہید کیا۔ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے یہ بیانات آپ پہلے پڑھ آئے ہیں۔ 
پیش نظر رہے کہ حضرت علیؓ کو شہادت سیدنا عثمان غنیؓ کا ذمہ دار بتانے والے رافضی اور خارجی ہیں اور دونوں نے اپنے مذموم مقاصد کے تحت آپ کو اس میں رگیدنے کی کوشش کی ہے رافضی گروہ کا عقیدہ ہے کہ حضرت عثمانِ غنیؓ چونکہ مستحق قتل تھے اس لئے یہ سب کچھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حکم سے ہوا تھا اور اس میں حضرت علیؓ حق بجانب تھے اس لیے آپؓ نے سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کا دفاع کرنے کی زحمت تک گوارا نہ کی۔ اودھ (انڈیا) کے ایک رافضی ملا حسین بخش کا یہ دل آزار بیان دیکھیے۔
قتل عثمان ( رضی اللہ عنہ) قطعی کوئی جرم نہیں تھا بلکہ یہ تو اسلامی معاشرے کے اعلی مقاصد کے عین مطابق تھا اور خود حضرت علی رضی اللہ عنہ سیدنا عثمان (رضی اللہ عنہ) کے دفاع کے لیے راضی نہیں تھے۔
(امامت و ملوکیت ص 123)
جبکہ خارجی گروہ سیدنا علیؓ کو بدنام کرنے کے لیے کہتے ہیں کہ آپؓ نے ایک مظلوم خلیفہ کے خون سے اپنے ہاتھ رنگے ہیں انہیں آپؓ پر قتل کا الزام لگانے میں کوئی حیاء نہیں آئی (استغفر اللہ) 
ابن تیمیهؒ ان دونوں کے بارے میں لکھتے ہیں:
فكان أناس من محبى على ومن مبغضيه يشيعون ذلك عنه فمحبوه يقصدون بذلك الطعن على عثمان بانه كان يستحق القتل وأن عليا أمر بقتله ومبغضوه ويقصدون بذلك الطعن على على وأنه أعان على قتل الخليفة المظلوم الشهيد الذي صبر نفسه ولم يدفع عنها ولم يسفك دم مسلم في الدفع عنه فكيف فى طلب طاعته وأمثال هذه الأمور التي يتسبب بها الزائغون على المتشيعين العثمانية والعلوية۔
(فتاویٰ ابن تیمیہ: جلد، 35 صفحہ، 73) 
جبکہ اہلِ سنت و الجماعت کا عقیدہ ہے کہ حضرت علی المرتضیٰؓ کا دامن ان تمام آلائشوں سے پاک ہے جو آپؓ کی طرف رافضی اور خارجی لوگوں نے منسوب کر رکھا ہے۔
صفحہ 2 از 3