Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا ابوبکر صدیق اور عثمان رضی اللہ عنہما کے جمع قرآن کے درمیان فرق

  علی محمد الصلابی

ابنِ التین نے فرمایا: حضرت ابوبکر صدیق اور عثمان رضی اللہ عنہما کے جمع قرآن میں فرق یہ ہے کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے قرآن کو اس خوف سے جمع کیا تھا کہ کہیں حاملین قرأت کے وفات پا جانے سے قرآن کا کچھ حصہ ضائع نہ ہو جائے کیوں کہ قرآن یکجا جمع نہیں کیا گیا تھا، لہٰذا حضرت ابوبکر صدیقؓ نے صحائف میں اسے آیات کی اس ترتیب کے ساتھ جمع کر دیا جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مطلع کیا تھا۔

نیز حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا جمع قرآن اس وقت عمل میں آیا جب کہ وجوہ قرأت میں اختلاف رونما ہوا۔ لوگوں نے اپنی اپنی لغات کے موافق قرآن پڑھنا شروع کیا جس کی وجہ سے ایک دوسرے کی قرأت کو غلط قرار دینے لگے، چنانچہ اس سے معاملات کی سنگینی کا خطرہ لاحق ہوا، لہٰذا حضرت عثمانؓ نے ان صحائف کو جو حضرت ابوبکرؓ نے تیار کرائے تھے ایک مصحف میں سورتوں کی ترتیب کے ساتھ جمع کرا دیا، اور صرف قریش کی لغت کو ملحوظ رکھا کیوں کہ انہی کی لغت پر قرآن کا نزول ہوا تھا اگرچہ ابتداء میں آسانی کی خاطر دوسری لغات کے مطابق قرآن کی تلاوت کی اجازت دی گئی تھی، پھر آپ نے دیکھا کہ اب ضرورت ختم ہو چکی ہے لہٰذا ایک ہی لغت پر اکتفا کیا۔

اور ابوبکر باقلانیؒ فرماتے ہیں:

’’حضرت عثمانؓ کا جمع قرآن سے مقصود وہ نہ تھا جو حضرت ابوبکر صدیقؓ کا دو جلدوں کے درمیان جمع کرنے کا تھا، بلکہ آپؓ کا مقصود صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے معروف و ثابت شدہ قرأتوں پر لوگوں کو جمع کرنا اور انہیں ایسے مصحف پر لگانا تھا جس میں کوئی تقدیم و تاخیر نہ ہو، اور نہ اس کے ساتھ کوئی تفسیر ہو، اور نہ ایسی آیات ہوں جن کی تلاوت منسوخ ہو چکی ہو تاکہ بعد میں آنے والے لوگ کسی فساد و اشتباہ کا شکار نہ ہوں۔‘‘

اور حارث محاسبیؒ فرماتے ہیں:

’’لوگوں میں یہ بات مشہور ہے کہ جامع قرآن عثمان رضی اللہ عنہ ہیں لیکن بات ایسی نہیں ہے، بلکہ آپؓ نے مہاجرین و انصار کے اتفاق و اختیار سے انہیں ایک حرف کے مطابق قرأت پر جمع کیا، کیوں کہ حروف قرأت سے متعلق اہل شام و عراق کے مابین اختلاف رونما ہونے کی وجہ سے آپ کو فتنہ کا خطرہ محسوس ہوا، لیکن اس سے قبل حروف سبعہ کے مطابق جس پر قرآن کا نزول ہوا تھا مصاحف کے اندر مطلق قرأات کی سہولت تھی، البتہ قرآن کو حقیقت میں جمع کرنے والے سیدنا صدیقِ اکبرؓ تھے۔ ‘‘

سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

’’اگر میں مصاحف سے متعلق والی ہوتا تو جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کیا ہے وہی کرتا۔‘‘ 

(عثمان بن عفان: صادق عرجون: صفحہ 178 نیز دیکھیے: الاتقان للسیوطی: صفحہ 159 (مترجم)

علامہ قرطبیؒ فرماتے ہیں:

’’اگر یہ سوال کیا جائے کہ حضرت عثمانؓ نے لوگوں کو ایک مصحف پر جمع کرنے کی زحمت کیوں اٹھائی جب کہ آپؓ سے قبل حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اس سے فارغ ہو چکے تھے؟ تو اس کو یہ جواب دیا جائے گا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا مقصود مصحف کی تالیف پر لوگوں کو جمع کرنا نہ تھا جیسا کہ تم جانتے ہو کہ حضرت عثمانؓ نے ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کو کہلا بھیجا تھا کہ آپ قرآنی صحائف ہمیں بھیج دیں ہم مختلف مصاحف میں اسے نقل کر کے آپ کو واپس کر دیں گے۔ حضرت عثمانؓ نے یہ قدم اس وقت اٹھایا تھا جب کہ لوگوں کے درمیان قرأت قرآن میں اختلاف رونما ہوا تھا، کیوں کہ صحابہ کرامؓ مختلف شہروں میں منتشر ہو چکے تھے، اور صورت حال سنگین ہو چکی تھی، اختلاف بڑھ چکا تھا اور اہل شام و عراق کے درمیان اختلاف نے وہ شکل اختیار کر لی تھی جس کو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے۔‘‘

(الجامع لاحکام القرآن: جلد 1 صفحہ 87)