تعزیہ کے سامنے رکھنے والی چیزوں کے کھانے کا حکم
سوال: ان چیزوں کو کھانا کیسا ہے جو تعزیہ وغیرہ پر نذر و نیاز لے جاتے ہیں اور وہاں رکھ کر فاتحہ کرتے ہیں، اور وہاں رکھے رہتے ہیں۔ اور شب عاشورا میں قاب حلوے کا نیچے تخت ضرائح و تعزیہ کے رکھتے ہیں اور صبح اس کو تبرکا تقسیم کرتے ہیں؟
جواب: جس کھانے کا ثواب حضرات امامین رضی اللہ عنہما کو پہنچایا جائے اور اس پر فاتحہ قل و درود پڑھا جائے وہ کھانا تبرک ہو جاتا ہے، اس کا کھانا بہت خوب ہے۔ البتہ وہ کھانا تعزیہ وغیرہ کے سامنے لے جانا اور تعزیہ کے سامنے تمام رات رکھنا، بلکہ اصلی قبروں کے پاس بھی ان سب امور میں مشابہت کفار اور بت پرستوں کی پائی جاتی ہے ۔ اس وجہ سے اس میں کراہت ہو جاتی ہے۔ (فتاویٰ عزیزی: صفحہ 189)