تعزیہ کا زیارت کرنا اور چھاتی پیٹنا
سوال: تابوت تعزیہ کی زیارت کرنا، اس پر فاتحہ پڑھنا، مرثیہ پڑھنا، مرثیہ بنانا، مرثیہ منانا اور فریاد و نوحہ کرنا، چھاتی پیٹنا اور گلا نوچنا حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ماتم میں شرعاً ان امور کے بارے میں کیا حکم ہے؟
جواب: یہ سب نا جائز ہے۔ چنانچہ کتاب السراج میں خطیب کی روایت مذکور ہے: لعن الله من زار بلا مزامير و لعن الله من زار شبحا بلا روح یعنی لعنت کی اللہ تعالیٰ جل شانہ نے اس پر جس نے زیارت کی بلا مزار کے اور لعنت کی اللہ تعالیٰ جل شانہ نے اس پر جس نے زیارت کی کسی جسم بے جان کی۔
اور مرثیہ بنانا اور اپنے گھر میں پڑھنا اور سننا، اس میں قباحت نہیں بشرطیکہ اس کے مضمون سے اہلِ بیتؓ کی اہانت اور تحقیر نہ ہوتی ہو، اور اس میں ظلم و ستم کی نسبت اللہ تعالیٰ جل شانہ کی جانب نہ ہو۔
فریاد و نوحہ کرنا اور چھاتی پیٹنا اور گلا نوچنا یہ سب حرام ہے، اور حدیث شریف میں یہ ہے: ليس منا من حلق و صلق و خرق یعنی نہیں ہے ہم سے وہ شخص جس نے اپنا گلا نوچا نوحہ کے طور پر رویا اور گربیان چاک کیا۔ ایک اور حدیث شریف میں مذکور ہے ليس منا من ضرب الخدود وشق الجيوب و دعى بدعوى الجاهلية یعنی نہیں ہے ہم سے وہ شخص جس نے اپنا منہ پیٹا اور گریبان چاک کیا اور شور مچایا مانند شور مچانے وقت جاہلیت کے۔ (فتاویٰ عزیزی: صفحہ 195)