صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اختلاف سے روکنے سے متعلق آیات…

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اختلاف سے روکنے سے متعلق آیات کا فہم

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

ان اللّٰہ یرضی لکم ثلاثا: ان تعبدوہ ولا تشرکوا بہ شیئا، وان تعتصموا بحبل اللّٰه جمیعا ولا تفرقوا، و ان تناصحوا من ولاہ اللّٰه امرکم۔

(مسند احمد: جلد 1، 2 صفحہ 26)

’’اللہ تعالیٰ تمہارے حق میں تین چیزیں پسند کرتا ہے: تم اسی کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ کرو اور اللہ کی رسی کو مل کر مضبوطی سے تھام لو، اختلاف نہ کرو اور جس کو اللہ تعالیٰ تمہارا حاکم و والی بنائے اس کے ساتھ خیر خواہی کرو۔‘‘

اللہ کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ تھامنے کا طریقہ یہ ہے کہ ہم کتاب و سنت کا التزام کریں۔ یہ اصول اس دین عظیم کا اہم ترین اصول ہے، 

علامہ ابن تیمیہ رحمۃاللہ فرماتے ہیں:

’’یہی اصل عظیم اسلام ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اس کی بڑی وصیت فرمائی ہے اور اس کے ترک پر اہل کتاب وغیرہ کی بڑی مذمت کی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص و عام مختلف مقامات پر اس کی بڑی وصیت فرمائی ہے۔‘‘

(مجموع الفتاویٰ: جلد 22 صفحہ 359)

اسی لیے اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر اس امر کا حکم فرمایا ہے جو مسلمانوں کے اتحاد و اتفاق اور الفت و محبت کو باقی رکھے اور ہر اس امر سے منع فرمایا جو اس امر عظیم میں خلل انداز ہو۔

مسلمانوں کے درمیان جو افتراق و اختلاف، قطع تعلق اور آپس میں جنگ و جدال رونما ہوا وہ اس اصل عظیم اور اس کے ضوابط کو اختیار نہ کرنے کی وجہ سے ہوا جس کے نتیجہ میں ان کی صفوں میں دراڑ پیدا ہوئی اور اتحاد پارہ پارہ ہوا اور وہ مختلف فرقوں، احزاب اور ٹولیوں میں منقسم ہو کر رہ گئے اور ہر پارٹی اپنے میں مگن ہے۔

(تبصیر المؤمنین بفقہ النصر و التمکین: الصلابی: صفحہ 307)

مسلمانوں کی وحدت اور ان کا اتحاد شرعاً مطلوب اور مقاصد شریعت میں سے اہم ترین مقصد ہے بلکہ دینِ اسلام کے غلبہ کے اہم ترین اسباب میں سے ہے اور ہمیں تواصی بالحق اور تواصی بالصبر کا حکم دیا گیا ہے اس لیے یہ ضروری ہے کہ علمائے امت و داعیان، اسلامی تحریکات کے قائدین اور طلبہ کے مابین حقیقی معنیٰ میں اصلاح ذات البین کی کوشش کی جائے کیوں کہ ناقص اہل اصلاح سے افساد کے کام زیادہ ہوتے ہیں، شیخ عبدالرحمٰن سعدی رحمۃاللہ فرماتے ہیں: جہاد کی دو قسمیں ہیں: ایک جہاد وہ ہے جس سے مقصود مسلمانوں کی اصلاح و بھلائی اور عقائد و اخلاق، آداب اور دینی و دنیوی امور اور علمی تربیت میں ان کی اصلاح ہے۔ یہ قسم اصل جہاد اور اس کی اساس ہے۔ اسی پر دوسری قسم استوار ہوتی ہے، اور دوسری قسم وہ جہاد ہے جس سے مقصود اسلام اور مسلمانوں کے لیے خلاف کفار و منافقین، ملحدین اور تمام اعدائے دین کا دفاع اور مقابلہ ہے، اور اس کی بھی دو قسمیں ہیں: ایک حجت و برہان اور زبان و قلم سے جہاد، اور دوسرا ہر دور و زمان کے مناسب اسلحہ کے ذریعہ سے جہاد۔

(وجوب التعاون بین المسلمین: صفحہ 5)

اس کے بعد شیخ نے مستقل فصل اس عنوان سے قائم کیا ہے:

’’مسلمانوں سے متعلق الفت و محبت اور اتفاق کلمہ کے ذریعہ سے جہاد۔‘‘

(وجوب التعاون بین المسلمین: صفحہ 5)

مسلمانوں کی وحدت و تعاون پر دلالت کرنے والی آیات و احادیث کو ذکر کرنے کے بعد آپ فرماتے ہیں: مسلمانوں کی تالیف قلب، دین اور دینی و دنیوی مصالح پر اتفاق و اجماع کی خاطر جدوجہد اور کوشش کرنا عظیم ترین جہاد ہے۔

(وجوب التعاون بین المسلمین: صفحہ 5)

اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں کے مابین تالیفِ قلوب اور ان کی صفوں میں وحدت پیدا کرنے کی خاطر اسباب کو اختیار کرنا عظیم ترین جہاد ہے۔ کیوں کہ مسلمانوں کے غلبہ و اعزاز، اسلامی حکومت کے قیام اور اسلامی شریعت کے نفاذ کے لیے یہ اہم ترین قدم ہے۔ یہ خلفائے راشدینؓ کی فقہ کا ایک روشن باب ہے اور حضرت عثمانؓ کا امت کو ایک مصحف پر جمع کرنے میں خوب روشن ہے۔


صفحہ 2 از 2