Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے گستاخ کو قتل کرنے پر قصاص کا حکم


سوال: اگر کوئی شخص قذف عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا یا سب صحابہ کبار رضوان اللہ علیہم اجمعین کا مرتکب ہو اور اس کو کوئی شخص قتل کرے تو اس کے قصاص کے بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا قاذف بلاشبہ مرتد ہے، اس کو حاکم کے پاس لے جانا چاہیئے، جب گواہوں سے ثابت ہو جائے کہ فی الواقع اس نے قذف کیا ہے تو اس کو قتل کرنا چاہیئے۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے من بدل دينه فاقتلوه یعنی جو شخص اپنا دین تبدیل کرے تو اس کو قتل کرو۔

یہ حکم اس واسطے ہے تاکہ قاتل پر قصاص نہ عائد ہو، ورنہ جب کوئی شخص اپنے کان سے کلام شنیع سنے اور اس کلام کے متکلم کو قتل کرے تو وہ عند اللہ ماخوذ نہیں، البتہ اگر اس کا معتبر گواہ نہ ہو تو وہ قاضی کے نزدیک مستوجب قصاص ہو گا۔ (فتاویٰ عزیزی: صفحہ 411)