Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام
زبان تبدیل کریں:

حق حضرت زہرا سلام اللہ علیہا پر ایک دلچسپ مناظرہ۔ممتاز قریشی، محمد دلشاد.(قسط 36)

  جعفر صادق

حق حضرت زہرا سلام اللہ علیہا پر ایک دلچسپ مناظرہ۔ممتاز قریشی، محمد دلشاد.(قسط 36)

شیعہ مناظر:

آج ترجمہ اور ترتیب مکمل دوستوں کی خدمت میں

 ممتاز صاحب جہاں کسی مخمصے میں پھنس جاتا ہے تو ادھر ادھر کی دو چار باتیں بتا کر یہ دکھانے کی کوشش کرتے ہیں بڑا تیر مارا ہے۔ پرانے سوال کا جب نیا کہیں سے جواب ملتا ہے تو اس کو شیئر کرنے سے پہلے شور کرتا کہ محمد دلشاد کو کہیں سے نیا جواب۔

 جناب ممتاز صاحب آپ بھی آپ کے بڑے بڑے علماء کو اس مخمصے میں پھنسانے والے آپ کے امام مسلم اور امام بخاری ہیں۔ بقول آپ کے اور بھی بہت سے طرق اور سند کے ہونے کے باوجود ان دو کو یہی زہری کی سند اور یہی  طرق قابل اطمینان نظر آئے جس میں غضبناک ہونے اور بائیکاٹ کا ذکر ہے باقی طرق کو اگر قابل اعتماد ہوتے تو یہ دونوں یقینا انہیں بھی ذکر کرتے،کیا وجہ تھی انہوں نے صرف انہیں کی سند کو ہی پیش کیا ؟  جناب ممتاز صاحب ہر گز یہ خیال نہ کرنا کہ شیعہ اپنے نظریات کی  بنیاد زہری کی اسی روایت پر رکھتے ہیں۔ہم تو الزامی طور پر ان میں موجود روایات کو پیش کرتے ہیں ہمارے پاس ائمہ اھل بیت ع کے توسط سے نقل شدہ احادیث اس سلسلے میں بہت ہیں۔ ہمیں اپنے نظریات کے لیے بخاری اور مسلم پر اعتماد کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔ ہم جیسے ان پر اعتماد کریں۔ان میں تو امام حسن مجتبی ع سے ایک بھی روایت نقل نہیں جناب فاطمہ اور  امام حسین ع سے چار یا چار سے بھی کم۔ امام علی سے 30 سے بھی کم روایات ان میں نقل ہوئی ہیں۔

جناب ڈاکٹر صاحب۔آپ زہری کی روایت کو ادراج اور گمان کہنے اور قالت کو خطا کہنے پر مجبور   ہیں، اس کی دلیل آپ کا نظریہ ہے۔ہر صورت میں اپنے ہی نظریے سے دفاع ہی کرنا ہے لہٰذا قال کو صحیح اور قالت کو خطاء کرنے پر مصر ہیں۔خطاء کار تو سارے راوی ہیں۔ کیا خیال ہے کسی کے بارے خطا کہا ہو اور کسی کے بارے خطاء کا لفظ استعمال نہ کیا ہو تو استعمال نہ کرنے والا معصوم ہے؟ جناب کیوں نہیں کہتے اس واقعے کو ذکر نہ کرنے والے خطاکار ہیں۔کیوں راوی کی طرف سے قال کا اضافہ خطاء ہے؟ کیا اپنے کو خطاء سے محفوظ سمجھتے ہو۔


شیعہ مناظر کی مضحکہ خیز حالت

جھوٹ کے اوپر جھوٹ

سنی مناظر نے امام زہری کے گمان کو گناہ یا قالت کو خطا ہرگز نہیں کہا!


ابن تیمیہ ،ابن عثیمین، ابن کثیر ، ملا جلال اشرفی وغیرہ جنہوں نے جناب فاطمہ کو خطا کار ثابت کرنے کی کوشش کی۔کیا یہ سب آپ سے کم علم والے تھے؟

اپنے موقف سے غبار ہٹاو۔ سیدہ کیوں ناراض اور رنجیدہ ہوئی تھیں،کب رنجیدہ ہوئی تھیں، یہ رنجیدہ ہونا کیسے ثابت ہوا،ناراضگی چہرے اور الفاظ سے معلوم ہوتی ہے،کس نے دیکھا کس نے سنا؟ ان تینوں کو واضح کریں،واضح جواب دو  رنجیدہ کیوں ہوئی تھی،کیوں آخری عمر میں یعنی چھ  ماہ بعد راضی کرنے کی ضرورت پیش آئی؟ اگر کی نظر اور خلفاء کی نظر میں اختلاف کیوں ہے۔

آپ سے پوچھا تھا ،امام زہری کو گمان کیسے ہوا،وہ تو عینی شاہد نہیں تھا، کسی سے کچھ سنے بغیر اس نے اتنی بڑی بات کو حدیث کا حصہ بنایا ہے،کیا یہ کہانی سنانی والا کوئی انسان تھا۔

آپ نے یقنیی شواہد کا بہت کہا لیکن مرسل روایت پر آپ کی گاڑی رک جاتی ہے۔ میرے بیان کردہ شواہد کو یہ کہہ کر ٹال دیتے ہو کہ ثابت کرنا آپ کے ذمے ہے  میں کیوں رد کروں۔

آج جواب دینے میں تاخیر کی وجہ  مندرجہ بالا   دو  لنک کے مطالب تیار کرنا تھا۔

 سنی مناظر:  آپ کا  ایک اور جھوٹ۔ میں صرف امام بخاری سے پانچ طرق دکھا چکا ہوں۔

  وہ دور گذر گیا جب عوام کو مجلسیں پڑھ کر بیوقوف بنایا جاتا تھا۔ فدک کا واقعہ چھتیس صحیح روایات سے ثابت ہے۔ یہ آپ کی جہالت ہے کہ امام بخاری کی صرف یہی سند آپ کو نظر آتی ہے باقی اسناد پر شیعہ اندھے  کیوں ہوجاتے ہیں!

انا لللہ ونا الیہ راجعون۔

اگر شیعوں کے پاس اپنی کتب میں صحیح روایات موجود ہیں تو  پھر میرا چیلینج قبول کیوں نہیں کر رہے۔

صرف اہل تشیع صحیح روایات سے فدک کو سیدہ فاطمہ کا حق ثابت کر کے دکھائیں۔

 اہل تشیع کی کتب اربعہ میں امام حسن اور امام حسین بلکہ سیدنا علی اور سیدہ فاطمہ کی کتنی روایات موجود ہیں ذرا یہ حقیقت بھی عوام تک پہنچائیں نام نہاد محقق صاحب۔

نبی کی احادیث تو کتب اربعہ میں برائے نام ہیں لیکن حسنین کریمین اور سیدنا علی و سیدہ فاطمہ کی روایات بھی اہل سنت سے کم کیوں ہیں؟

 میں مجبور کیوں ہوں گا؟ میں مجبور اس وقت ہوتا جب فدک پر دوسرے کئی طرق موجود نہ ہوتے۔ درحقیقت مجبور آپ ہیں۔ کھسیانی بلی کھنبا نوچے! بے شک تمام راوی غیر معصوم  ہیں۔ کیا شیعہ راوی معصوم ہیں؟  

کسی حقیقت کا علم نہ ہونا خطا ہے تو قرآن سے ہی انبیائے کرام کی عصمت پر سوالیہ نشان لگ جاتے ہیں۔ اوپر حضرت موسیٰ ، حضرت ھارون اور حضرت خضر  علیہم السلام کے تین واقعات بطور مثال پیش کئے جا چکے ہیں۔  شیعہ اور حق سمجھے یہ ممکن ہی نہیں ہے۔ ہاں جسے اللہ توفیق دے۔

 ہمارے نزدیک اجتہادی خطا کوئی گناہ یا قابل مذمت فعل نہیں ہے، کیونکہ اجتہاد کرنے والے کی نیت نیک ہوتی ہے۔ میں آپ کو قرآن سے انبیائے کرام کے غلط اجتہاد بھی دکھا چکا ہوں۔ شیعہ منطق خلاف قرآن ہے۔

 مزید تشفی چاہتے ہیں تو مجھ سے صرف اجتہادی خطا  پر مناظرہ رکھ لیں۔ قرآن و احادیث سمیت شیعہ کتب سے بھی دلائل رکھ کر آپ کا شافی و کافی علاج کردوں گا۔

  سیدہ  فاطمہ کیوں ناراض ہوئیں کیوں رنجیدہ ہوئیں۔ اس پر آپ کے پاس ایک طرق میں امام زہری کے ادراج  اور علماء اہلسنت کے   پیراگراف کے بیچ سے نکالی گئیں چند عبارات اور ٹوٹے پھوٹے جملوں کے سوا   ککھ نہیں ہے۔

امام زہری کے تینوں ادراج کی دھجیاں اس پوری گفتگو میں بکھری ہوئی ہیں۔  اگر سچے ہیں تو میرے اشکالات کا جواب کیوں نہیں دے رہے۔ ہر روز نئی کہانیاں کیوں؟  پہلے کے نکات کون کلیئر کرے گا؟

 میری گاڑی رکی نہیں ہے بلکہ میری گاڑی تو منزل پر پہنچ بھی گئی حضور۔ آپ کی گاڑی یو ٹرن لیکر واپس وہاں پر کھڑی ہے جہاں سے اسٹارٹ لیا تھا یعنی  تحریر کے الف پر!

 آپ کی وہی  روش پہلے دن سے آج تک  برقرار ہے۔آپ  میرے کسی جواب /اشکال کا علمی جواب نہیں دے پا رہے۔ جھوٹ بولنے کا سلسلہ بھی جاری و ساری ہے۔کئی بار اسکرین شاٹ بھی مانگے اگر سچے ہوتے تو  اسکرین شاٹ   اب تک رکھ دئے ہوتے۔ کذب بیانی پر انسان کو شرم بھی آتی ہے۔  اب آخری بار پوچھ رہا ہوں۔  الف پر گفتگو ختم ہوئی یا نہیں ؟ اپنی تحریر کے ب پر گفتگو کرنی ہے یا نہیں؟

آج آپ نے لنکس پر وقت ضایع کیوں کیا جب گفتگو بقول آپ کے ابھی ختم ہی نہیں ہوئی۔   یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ شیعہ آدھی باتوں سے نتیجہ نکالتے ہیں! آخر شیعہ آدھی باتوں سے نتائج کیوں نکالتے ہیں؟ عوام تک گفتگو ختم ہونے سے پہلے سائیٹ پر تحریر رکھنا بھی آپ کی خیانت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

 شیعہ مناظر:  ارباب فھم و عقل ۔ توجہ کریں ۔بخاری میں زھری کے متنازعہ حدیث کے بارے میں تفصیل۔

كِتَابُ فَرْضِ الخُمُسِ

3093 - فَقَالَ لَهَا أَبُو بَكْرٍ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لاَ نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ» ، فَغَضِبَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَهَجَرَتْ أَبَا بَكْرٍ، فَلَمْ تَزَلْ مُهَاجِرَتَهُ حَتَّى تُوُفِّيَتْ۔

3094 ۔۔۔۔۔۔۔۔ثُمَّ جِئْتُمَانِي تُكَلِّمَانِي، وَكَلِمَتُكُمَا وَاحِدَةٌ، وَأَمْرُكُمَا وَاحِدٌ، جِئْتَنِي يَا عَبَّاسُ، تَسْأَلُنِي نَصِيبَكَ مِنَ ابْنِ أَخِيكَ، وَجَاءَنِي هَذَا - يُرِيدُ عَلِيًّا - يُرِيدُ نَصِيبَ امْرَأَتِهِ مِنْ أَبِيهَا، فَقُلْتُ لَكُمَا: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لاَ نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ»

کتاب المغازی ۔۔۔۔بَابُ حَدِيثِ بَنِي النَّضِيرِ

4033۔۔۔۔ قَالَ: «لاَ نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ» فَأَقْبَلَ عُمَرُ عَلَى عَبَّاسٍ، وَعَلِيٍّ

4035 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلاَمُ، وَالعَبَّاسَ، أَتَيَا أَبَا بَكْرٍ يَلْتَمِسَانِ مِيرَاثَهُمَا، أَرْضَهُ مِنْ فَدَكٍ، وَسَهْمَهُ مِنْ خَيْبَرَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «لاَ نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ، إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ فِي هَذَا المَالِ» وَاللَّهِ لَقَرَابَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ أَصِلَ مِنْ قَرَابَتِي

4240 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، ۔۔۔۔ فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَدْفَعَ إِلَى فَاطِمَةَ مِنْهَا شَيْئًا، فَوَجَدَتْ فَاطِمَةُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ فِي ذَلِكَ، فَهَجَرَتْهُ فَلَمْ تُكَلِّمْهُ حَتَّى تُوُفِّيَتْ۔۔ {بَابُ غَزْوَةِ خَيْبَرَ}

5358 - حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، ۔۔۔«لا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ» يُرِيدُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفْسَهُ، قَالَ الرَّهْطُ: قَدْ قَالَ ذَلِكَ، فَأَقْبَلَ عُمَرُ عَلَى عَلِيٍّ وَعَبَّاسٍ۔۔{ کتاب النفقات ۔۔۔ بَابُ حَبْسِ نَفَقَةِ الرَّجُلِ ۔۔۔

6726 - فَقَالَ لَهُمَا أَبُو بَكْرٍ: ۔۔۔۔فَهَجَرَتْهُ فَاطِمَةُ، فَلَمْ تُكَلِّمْهُ حَتَّى مَاتَتْ۔۔۔۔۔ كِتَابُ الفَرَائِضِ۔ بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ»۔

6727 - حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ المُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لاَ نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ»

6728 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ:۔۔: «لاَ نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ» يُرِيدُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفْسَهُ، فَقَالَ الرَّهْطُ: قَدْ قَالَ ذَلِكَ، فَأَقْبَلَ عَلَى عَلِيٍّ وَعَبَّاسٍ

6730 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَرَدْنَ أَنْ يَبْعَثْنَ عُثْمَانَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ يَسْأَلْنَهُ مِيرَاثَهُنَّ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: أَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ»

7305 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔: قَالَ: «لاَ نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ» يُرِيدُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفْسَهُ؟ قَالَ الرَّهْطُ: قَدْ قَالَ ذَلِكَ، فَأَقْبَلَ عُمَرُ عَلَى عَلِيٍّ، وَعَبَّاسٍ۔۔

7305 ۔۔ 6728   ۔ 5358 ۔ 4033۔ 3094 ۔۔ حضرت علی و عباس

6730 ازواج کی طرف سے مطالبہ ۔

6727 ۔صرف حدیث لا نورث ہی ذکر ہے ۔واقعہ ذکر نہیں ہے ۔

6726۔۔4240 ۔ 3093 ۔۔ ناراضگی جناب فاطمہ  ۔

4035۔۔ مطالبہ ارث ۔حضرت فاطمہ کے رد وعمل کو ذکر نہیں کیا ہے ۔

لہذا صرف یہی ایک مورد ہے جہاں ایک حد تک کہہ سکتا ہے کہ ناراضگی ذکر نہیں ہوئی ہے لیکن حقیقت میں دیکھا جائے یہاں بھی کہنا صحیح نہیں ہے کیونکہ جناب فاطمہ کی نہ رضایت کا ذکر ہے نہ ناراضگی کا  ۔

سنی مناظر: ڈھنگ کا جواب دیجئے گا۔  ورنہ آج کے بعد گفتگو نہیں کروں گا۔

 شیعہ مناظر: میری باری ہے ممتاز صاحب آرام کرو۔

سنی مناظر: اتنی ساری احادیث رکھ دینا کافی نہیں ہوتا۔ استدلال؟ ثابت کیا کر رہے ہیں۔ جواب کس بات کا دینا ہے؟ مناظرے کے اصولوں کے مطابق گفتگو  کریں۔

دلیل +استدلال

 کاپی پیسٹر اور مناظر میں فرق ہونا چاہئے۔

 شیعہ مناظر: اب جواب شروع کریں۔ اب یہ میری تحقیق ہے۔یقینا جو جدول ممتاز صاحب نے پیش کی ہے وہ کسی کی بنائی ہوئی ضرور ہے۔لیکن مغالطہ پر مشتمل اور حقیقت کو چھپانے کی کوشش،اوپر دیکھنا  جہاں جناب فاطمہ اور خلیفہ کے درمیان معاملے کا ذکر ہے پوری بخاری میں 4 مورد ذکر ہے( میری تحقیق کے مطابق) ان چار میں سے تین میں غضب ناک ہونے اور بائیکاٹ کا ذکر ہے۔ایک مورد میں مطالبے کے بعد خلیفہ کے استدلال کا ذکر ہے لیکن جناب فاطمہ کے رد عمل کا ذکر نہیں ہے لیکن ان میں کہیں پر بھی یہ ذکر نہیں ہے کہ جناب فاطمہ خاموش ہوگئی تھیں اور یہی صورت حال  صحیح مسلم کی روایات کا ہے۔صحیحین میں اس واقعے کو اسی زہری کے علاوہ کسی نے بھی نقل نہیں ہے۔سب میں یہی زہری ہے۔اب ممتاز صاحب ہمیشہ ایک جدول بناکر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ صرف زہری نے نقل کیا ہے کسی اور نے ذکر نہیں کیا ہے

جناب کسی اور  سے یہ واقعہ صحیحین میں نقل ہوا ہے؟ اگر ہوا ہے تو دکھا دینا۔(مجھے تو نہیں ملی آپ دکھا دیں)

اب جب امام بخاری اور مسلم نے زہری ہی کی روایت کو  قابل اعتماد  سمجھ کر نقل کیا ہے تو کیا تقصیر شیعوں کا ہے؟ لہذا یہ مغالطہ نہ کریں  کسی اور نے غضبناک ہونے کو ذکر نہیں کیاہے۔جناب کسی اور سے جناب فاطمہ اور خلیفہ کے درمیان ہونے والا واقعہ صحیحین میں نقل ہوا ہے؟ جی ابھی آپ کو معلوم ہونا چاہیے ہماری بحث خلفاء اور اہل بیت کے موقف بیان کرنے میں چل رہی ہے۔جب آپ زہری کے گمان سے نکل کر اس حقیقت کو مان لوگے کہ امام بخاری اور مسلم کی نقل کے مطابق جناب فاطمہ ع نے خلیفہ کے استدلال کو قبول نہیں کیا۔اگر قبول کرتی تو ناراض کیوں ہوتی۔اگر ناراض نہ ہوتی تو خلیفہ کو ان کی رضایت کو حاصل کرنے کے لیے ان کے پاس جانے کی ضرورت ہی نہ ہوتی۔جب یہ کلئیر ہو تو پھر میں آپ کو بتاوں گا کہ جناب فاطمہ کا موقف ٹھیک تھا اور خلیفہ کا فیصلہ غلط تھا۔

ابن تیمیہ،ابن عثیمین،ملا جلال اشرفی  وغیرہ کے خلاف۔


 شیعہ مناظر کا دجل و فریب! مناظرے کے بعد بتائے گا کہ شیعہ کے پاس وہ کونسے خفیہ دلائل ہیں جن کے مطابق باغ فدک سیدہ کا حق تھا اور نبی کا فرمان معاذاللہ جھوٹا تھا اور خلفاء نے نبیﷺ کا فیصلہ سنا کر غلط کیا! 


 اپنے موقف سے غبار ہٹاؤ، سیدہ کیوں ناراض اور رنجیدہ ہوئی تھیں،کب رنجیدہ ہوئی تھیں،یہ رنجیدہ ہونے کیسے ثابت ہوا،ناراضگی چہرے اور الفاظ سے معلوم ہوگا ہے۔ کس نے دیکھا کس نے سنا؟ ان تینوں کو واضح کرو،واضح جواب دو،رنجیدہ کیوں ہوئی تھی۔کیوں آخری عمر میں یعنی چھ  ماہ بعد راضی کرنے کی ضرورت پیش آئی؟آپ کی نظر اور خلفاء کی نظر میں اختلاف کیوں ہے،آپ سے پوچھا تھا ،امام زہری کو گمان کیسے ہوا،وہ تو عینی شاہد نہیں تھا،کسی سے کچھ سنے بغیر اس نے اتنی بڑی بات کو حدیث کا حصہ بنایا ہے،کیا یہ کہانی سنانی والا کوئی انسان تھا۔  یہ ایک حقیقت ہے۔اہل سنت کا موقف ایک مرسل اور مدلس کی روایت پر کھڑا ہے۔آپ کے بڑے بڑے علماء نے ناراضگی کو اسی زہری کی روایت سے ثابت کیا ہے یعنی صحیح سند روایت سے اور پھر رضایت کو ثابت کرنے کے لیے ایک مدلس کی ایسی روایت کا سہارا لیتے ہیں کو مرسل ہے اور پھر شعبی کے مرسل کو بھی ابن حجر,ذھبی البانی حجت نہیں مانتے ۔لہٰذا جو شاخ نازک پر آشیانہ بنائے۔ کہاں ہیں یقینی شواہد؟؟

امام علی ع سے  بخاری نے  29 روایت ، صحیح مسلم نے ۳۵ روایتیں نقل کی ہیں ۔

- حضرت فاطمة زهراء کہ جن کی تربیت خانہ وحی الہی میں ہوئی،بخاری نے ان سے  چار اور  مسلم نے تین روایتیں  نقل کی ہیں ۔ دامن امین وحی الہی میں تربیت پانے والی عظیم شخصیت امام حسن علیہ السلام سےصحیح بخاری اور مسلم کوئی حدیث نقل نہیں کی ہے ۔ وحی الہی کے ماحول میں پروان چڑھنے والی چوتھی شخصیت  

امام حسین علیہ السلام سے دونوں نے صرف ایک ایک روایت نقل کی ہے۔جبکہ بخاری  نے جناب عائشہ سے  228، عبدالله بن عمر سے 300 ، مسلم نے جناب عائشہ سے ۲۴۳روایت  عبدالله بن عمر سے ۴00، ابوهریرہ کہ دو سال بھی  پیامبر کے ساتھ مصاحبت نہیں کی  ان سے 446 روایتیں  بخاری نے نقل کی ہیں ۔

 اھل تشیع کی کتابوں میں موجود روایات رسول اللہ ﷺ سے نہ بھی ہو  لیکن آپ لوگ تو اپنے آپ کو اہل بیت کے پیرو اور شیعوں کو دھوکہ باز اور جھوٹا سمجھتے ہیں، کیا امام حسن مجتبی سے ایک بھی روایت نقل نہ ہوا  واضح تعصب اور ان سے روگردانی کی دلیل نہیں۔رسول اللہ ﷺ کے سب سے ممتاز شاگرد کیا ان سے بڑھ  کر اور کوئی تھے؟ کیا سنت کو نقل کرنے کے لیے ان سے مناسب کوئی اور شخصیت تھی؟ جناب آپ کی صحیحین آپ کی تاریخ کو بتانے کے لیے بہترین اور زندہ گواہ ہیں۔

 شیعوں کی کتابوں میں موجود احادیث کو سمجھنے کے لیے اپنے علماء کی بنائی ہوئی اصطلاحات سے استفادہ کرنے کا یہی نتیجہ ہوتا ہے۔ جناب شیعہ کتابوں کی روایات کو سمجھنے کے لیے صحاح ستہ کے اصول سے کام چلانے کی کوشش غیر علمی طریقہ ہے۔ اس پر بحث چلی تو اپ کو بتادوں گا۔