ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا علی…

ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے درمیان اختلاف کی حقیقت  جنگ جمل

  مولانا محمد الیاس گھمن

صفحہ 1 از 2

ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے درمیان اختلاف کی حقیقت  جنگ جمل

جنگ جمل کا واقعہ نصف جمادی الاولیٰ یا عند البعض جمادی الثانی 36ھ میں پیش آیا تھا۔
شہادت حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خلیفہ منتخب کیا گیا اور بیعت کی گئی تو اس میں حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ، حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ، دیگر اکابر صحابہ اور اہل مدینہ نے بھی بیعت کی۔
 جب بیعت ہوچکی تو اس وقت حضرت طلحہ، حضرت زبیر اور دیگر اکابر صحابہ کرام حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مطالبہ پیش کیا کہ آپ مسند خلافت پر تشریف فرماچکے ہیں اب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قصاص کے متعلق انتطام فرمادیں کیونکہ اگر ہم شہید مظلوم کا انتقام نہ لیں اور فسادیوں کا قلع قمع نہ کریں تو اللہ تعالیٰ کے عتاب و غضب کے مستحق ٹھہریں گے تو اس مطالبہ کے جواب میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ عذر پیش کیا کہ:

 ان ھولاء لہم مدد واعوان انہ لا یمکنہ ذلک یومہ ھذا .
(البدایہ لابن کثیر ج7ص229 تحت ذکر بیعت خلافت علوی )

ان لوگوں کو مدد گار اور حمایتی میسر ہیں اس لیے یہ کام اس وقت نہیں ہوسکتا حالات کے سازگار ہونے کے بعد یہ ہوسکے گا۔

بہرحال اس جواب پر ان حضرات کو تشفی نہ ہوئی کیونکہ قاتلان حضرت عثمان نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کر کے پناہ لی تھی۔ 

جیسا کہ حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ نے تحریر کیا ہے:

 وقاتلان بجز آنکہ پناہی بحضرت مرتضیٰ بردند با او بیعت کنند علامے نیافشند وکیف ماکان عقد بیعت واقع
تو ان دو حضرات؛ حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہما نے عمرہ کی غرض سے مکہ کا سفر شروع کیا، جب مکہ پہنچے تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ اور امہات المومنین بھی عمرہ کی غرض سے مکہ پہنچ چکی تھیں۔ بعد میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور دیگر حضرات مکہ تشریف لے گئے۔ یوں مکہ میں صحابہ کرام، امہات المومنین اور دیگر حضرات کا اجتماع ہوا، ان تمام کا مقصد ایک ہی تھا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا خون ناحق اور ظلما گرا دیا گیا ہے اس لیے ان کے قصاص کا مسئلہ سب سے پہلے طے ہونا چاہیے اور مجرموں کو جلد سے جلد سزا ملنی چاہیے۔ اس سلسلے میں مختلف آراء سامنے آئیں۔
 بالآخر طے ہوا کہ اس سلسلے میں بصرہ پہنچنا چاہیے۔ 
منشاء یہ تھا کہ مسلمانوں کی ایک کثیر جماعت اگر مطالبہ پر جمع ہوجائے تو امید ہے کہ فریق ثانی بھی اس کی طرف توجہ کرے گا اور باہمی موافقت کی صورت پیدا ہوجائے گی۔ اس سفر میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بھی شامل رہنے کی درخواست کی گئی تاکہ اصلاح کی کوئی صورت پیدا ہوجائے۔
چنانچہ علامہ آلوسی رحمتہ اللہ فرماتے ہیں:


 فسارت معہم بقصد الاصلاح وانتظام الامور . 
(تفسیر روح المعانی ج22ص10 تحت آیت وقرن فی بیوتکن )


اس کے بعد بہت سارے حضرات ان اکابر ( حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہم وغیرہ) کے ساتھ شریک ہوگئے اور بصرہ کی طرف سفر شروع کیا۔
 حضرت علی رضی اللہ عنہ کو جب اطلاع ملی تو انہوں نے بھی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ بصرہ کی طرف سفر شروع کیا۔ بصرہ کے قریب جب دونوں جماعتیں اپنے اپنے مقام پر پہنچیں تو بعض معتمد حضرات کے ذریعے مصالحت کی گفتگو جاری ہوئی۔ اسی موقعہ پر 

 حضرت قعقاع بن عمرالتمیمی رضی اللہ تعالی عنہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ ل عنہا  اور ان کی جماعت کے پاس آئے اور عرض کیا:

ای اُمُّہ ما اشخصک وما اقدمک ھذہ البلدۃ قالت: ای بنی! اصلاح بین الناس .
(روح المعانی ج22ص9، 10 وقرن فی بیوتکن )

 حضرت قعقاع رضی اللہ عنہ فرمانے لگے
 اے ام المومنین! 
 اس شہر میں آپ کا تشریف لے آنا کسی مقصد کے لیے ہے؟ تو ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا
 اے بیٹے !لوگوں کے درمیان اصلاح کی صورت پیدا کرنے کے لیے۔
اس پر حضرت قعقاع رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس کی بہترین صورت یہ ہے کہ آپ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کریں تاکہ مسلمانوں میں انتشار کی یہ فضا ختم ہوجائے اور اتفاق پیدا ہوجائے تاکہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا بدلہ لینا آسان ہوجائے۔
افہام و تفہیم کے اس بیان کے بعد حضرت طلحہ، حضرت زبیر اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہم نے ارشاد فرمایا:

 اصبت واحسنت فارجع الخ

یعنی آپ کی بات درست ہے ہم اس پر آمادہ ہیں۔ آپ جائیں (اور فریق ثانی کو اطلاع دیں)

فرجع الی علی فاخبرہ فاعجبہ ذالک واشرف القوم علی الصلح کرہ ذالک من کرہہ ورضیہ من رضیہ وارسلت عائشۃ الی علی تعلمہ انہا انما جاءت للصلح ففرح ھولاء وھولاء. 
(البدایہ لابن کثیر ج7ص239 روح المعانی ج22 ص9، 10)
مختصر یہ کہ جب یہ اطلاع حضرت علیؓ کو ملی تو بہت خوش ہوئے اور باقی لوگ بھی صلح پر متوجہ ہوئے۔ البتہ بعض لوگوں کو یہ چیز ناگوار گزری اور بعض کو پسند آئی۔ بہرحال فریقین نے صلح ومصالحت پر اتفاق ظاہر کیا۔
اس موقعہ پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک تاریخی خطبہ دیا اور اس میں یہ بھی اعلان فرمایا کہ :

 الا وانی راحل غدا فارتحلوا الا ولا یرتحلن غدا احد اعان علی عثمان بشئی فی شئی من امور الناس. 
(الفتنۃ وقعۃ الجمل لسیف بن عمر الضی ص147 البدایہ لابن کثیر ج7ص237)

ہم کل یہاں سے روانہ ہوں گے (اور دوسرے فریق کے پاس جائیں گے) اور خبردار جس نے بھی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل پر اعانت کی ہے وہ ہم سے الگ ہوجائے، ہمارے ساتھ نہ رہے۔
جب یہ اعلان ہوا تو فتنہ انگیز سبائی شیعہ پارٹی کے سربراہ شریح بن اوفیٰ، علباء بن الہیثم، سالم بن ثعلبہ العبسی، عبداللہ بن سبا المعروف با بن السوداء وغیر ہ سخت پریشان ہوئے اور انہیں اپنا انجام تاریک نظر آنے لگا۔

 قابل غور بات یہ تھی کہ اس پارٹی میں ایک بھی صحابی نہ تھا۔
 علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: 

 ولیس فیہم صحابی وللہ الحمد. 
( البدایہ لابن کثیر ج7ص238)


اس پارٹی نے ایک خفیہ مشورہ کے تحت حضرت علی رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے کا منصوبہ بنایا لیکن باہم اتفاق نہ ہونے کی وجہ سے یہ منصوبہ ناکام رہا۔
 چنانچہ شیخ عبدالوہاب شعرانی رحمتہ اللہ لکھتے ہیں:

صفحہ 1 از 2