ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا علی…

ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے درمیان اختلاف کی حقیقت  جنگ جمل

  مولانا محمد الیاس گھمن

صفحہ 2 از 2

فان بعضہم کان عزم علی الخروج علی الامام علی رضی اللہ عنہ وعلی قتلہ لما نادیٰ یوم الجمل بان یخرج عن قتلۃ عثمان الخ .
(کتاب الیواقیت والجواہر ج2ص77)

بہرحال یہ دشمن تو اپنے اس مذموم عمل میں نا کام رہے، ادھر دونوں جماعتیں دو مقام پر جمع ہوئیں۔ 
 حضرت طلحہ، حضرت زبیر اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہم اپنے ساتھیوں کے ساتھ ” زابوقہ“ کے مقام پر پہنچے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنی جماعت کے ساتھ ” ذاقار “ کے مقام پر تشریف لائے۔ قعقاع کے میدان میں فریقین کی صلح ہوئی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ قاتلین کو شرعی سزا دینے پر راضی ہوگئے اور دوسری جماعت ( حضرت طلحہ وغیرہ) بیعت پر راضی ہوگئے اور اس صلح پر کوئی شک نہ رہا۔

وہم لا یشکون فی الصلح
(الفتنۃ وقعۃ الجمل ص155 روح المعانی ج22ص9، 10)

ان حالات میں تمام حضرات نے خیر اور سلامتی سے رات گذاری لیکن مفسدین اور قاتلین عثمان پوری رات فتنہ کھڑا کرنے کی تدابیر میں مصروف رہے آخر کار تاریکی میں دفعۃ لڑائی کرا دینے پر ان کا اتفاق ہوگیا۔

اس واقعہ جمل کو علامہ قرطبی رحمتہ اللہ نے اپنی مشہور تفسیر احکام القرآن میں سورۃ الحجرات کی آیات کے تحت اس طرح بیان فرمایا ہے:

قلت : فهذا قول في سبب الحرب الواقع بينهم. وقال جلة من أهل العلم : إن الوقعة بالبصرة بينهم كانت على غير عزيمة منهم على الحرب بل فجأة ، وعلى سبيل دفع كل واحد من الفريقين عن أنفسهم لظنه أن الفريق الآخر قد غدر به ، لأن الأمر كان قد انتظم بينهم ، وتم الصلح والتفرق على الرضا. فخاف قتلة عثمان رضي الله عنه من التمكين منهم والإحاطة بهم ، فاجتمعوا وتشاوروا واختلفوا ، ثم أتفقت آراؤهم على أن يفترقوا فريقين ، ويبدأوا بالحرب سحرة في العسكرين ، وتختلف السهام بينهم ، ويصيح الفريق الذي في عسكر علي : غدر طلحة والزبير. والفريق الذي في عسكر طلحة والزبير : غدر علي. فتم لهم ذلك على ما دبروه ، ونشبت الحرب ، فكان كل فريق دافعا لمكرته عند نفسه ، ومانعا من الإشاطة بدمه. وهذا صواب من الفريقين وطاعة لله تعالى ، إذ وقع القتال والامتناع منهما على هذه السبيل. وهذا هوالصحيح المشهور. والله أعلم.
(تفسیر قرطبی ج16ص318، 319)

اس کا مفہوم یہ ہے کہ بصرہ میں جنگ جمل کا جو واقعہ پیش آیا تھا وہ قتال کے ارادہ سے وقوع پذیر نہیں ہوا تھا بلکہ یہ صورتحال اچانک قائم کر دی گئی تھی،
 ایک فریق یہ گمان کرتے ہوئے کہ دوسرے فریق نے بد عہدی کی ہے اپنے دفاع کے لیے قتال کررہا تھا کیونکہ ان کے درمیان صلح کی بات تو ہوچکی تھی وہ اپنی اپنی جگہ باہمی اعتماد اور رضا مندی سے ٹھہرے ہوئے تھے لیکن قاتلین عثمان کو خوف لاحق ہوا کہ یہ صلح ہوگئی تو ہماری خیر نہیں لہذا وہ جمع ہوئے اور مشورہ کرنے لگے، پہلے ان کا کچھ آپس میں اختلاف ہوا
لیکن بعد میں اس امر پر متفق ہوگئے کہ 
ہم دو جماعتوں میں تقسیم ہوجائیں کچھ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی جماعت میں شامل ہوجائیں اور کچھ دوسرے فریق میں گھس جائیں اور علی الصباح دونوں لشکروں میں لڑائی کی ابتداء کریں، ایک فریق کی جانب سے دوسرے فریق پر تیر اندازی کریں اور جو فریق حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں پہنچے وہ فریاد کرے کہ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ والوں نے عہد شکنی کی ہے اور جو حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ والو ں کے لشکر میں ہوں وہ فریاد کریں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ والوں نے عہد شکنی کی ہے۔ 
مختصر یہ ہے کہ یہ قتال اور دفاع دونوں فریق کی طرف سے مذکورہ نوعیت میں واقع ہوا تھا۔ یہی بات درست اور صحیح ہے۔
اس کو جنگ ” جمل “ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ آخر کار اس لڑائی میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی جماعت غالب آگئی اور دوسرے فریق کے اکابر حضرت زبیر اور حضرت طلحہ وغیرہم شہید ہو گئے اور یہ فریق مغلوب ہوگیا۔
 اس کے بعد امیر المومنین رضی اللہ عنہ کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حکم سے ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو حفاظتی انتظام کے ساتھ لایا گیا۔ 
 حضرت علی رضی اللہ عنہ نے سلام عرض کیے اور خیریت دریافت کی، 
 حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں بخیریت ہوں، اس کے بعد چند ایام بصرہ میں گذارنے کے بعد جب حجاز کی طرف سفر کا ارادہ فرمایا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ضروریات سفر مہیا کر کے بڑے اعزاز و اکرام کے ساتھ روانہ فرمایا۔ 
چونکہ یہ واقعہ دشمنوں کی ناپاک حرکتوں کی وجہ سے سرزد ہوا اس لیے اس واقعہ پر دونوں فریقین کی طرف سے اظہارِ افسوس روایات بھی منقول ہیں


صفحہ 2 از 2