کفار سے دوستی رکھنے اور ان کے ہاں نوکری کرنے کا حکم
سوال: کفار سے موالات (دوستی) کا کیا حکم ہے؟
جواب: موالات کفار کے بارے میں فقہاء کرام نے جو لکھا ہے اس کی تفصیل کی ضرورت نہیں۔ خلاصہ اس کا یہ ہے کہ موالات جو بمعنی دوستی کے ہے اگر کفار کے ساتھ بلحاظ دین ان کفار کے ہو تو بالاجماع کفر ہے اور اگر صرف طبعی محبت ہو مثلاً اپنا بیٹا یا زوجہ کافر ہو، اور اس کی محبت صرف طبعاً بمقتضائے بشریت ہو تو یہ حرام نہیں، البتہ ان کی تذلیل میں حتیٰ الامکان کوشش کرنا چاہیئے اور اس بارے میں جو آیات اور احادیث وارد ہیں، اس میں تطبیق باعتبار تفصیل مذکور کے ہوتی ہے، اس میں چنداں تکلف کی ضرورت نہیں۔ مثلاً اللہ تعالیٰ کا کلام ہے:
لَا يَتَّخِذِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الۡكٰفِرِيۡنَ اَوۡلِيَآءَ مِنۡ دُوۡنِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ(سورۃ آل عمران: آیت 28) یعنی چاہیئے کہ دوست نہ بنائیں مسلمان کافروں کو علاوہ مؤمنین کے۔
اور اللہ کا یہ کلام پاک ہے:
لَا تَجِدُ قَوۡمًا يُّؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ يُوَآدُّوۡنَ مَنۡ حَآدَّ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ (سورۃ المجادلة: آیت 22)
یعنی نہ پائیں گے آپ اس قوم کو جو ایمان لاتی ہے اللہ پر اور آخرت کے دن پر کہ وہ محبت رکھے اُس سے جس نے مخالفت کی اللہ اور اس کے رسولﷺ سے اور اللہ تعالیٰ جل شانہ کا یہ پاک کلام ہیں:
وَمَنۡ يَّتَوَلَّهُمۡ مِّنۡكُمۡ فَاِنَّهٗ مِنۡهُمۡ(سورۃ المائدة: آیت 51) اور جس نے دوستی کی کفار سے تو وہ بھی انہیں لوگوں میں سے ہے۔ اور اس کے علاوہ اور بھی آیتیں ہیں اس بارے ہیں۔ لیکن موالات جو بمعنٰی معاونت و مناصرت کے ہے تو اسکے بارے میں جو حکم ہے اس کی بناء اصل شرعی پر ہے کہ اعانت کفر اور معصیت میں بالاتفاق معصیت ہے۔ اور یہ ثابت ہے اللہ تعالیٰ جل شانہ کے کلام پاک سے وَلَا تَعَاوَنُوۡا عَلَى الۡاِثۡمِ وَالۡعُدۡوَانِ (سورۃ المائدة: آیت 2) یعنی باہم ایک دوسرے کی اعانت نہ کرو گناہ اور ظلم میں یہ ترجمہ آیت مذکور کا ہے۔
اور یہ معاونت کبھی باجرت ہوتی ہے اور اس کو عرف میں چاکری یعنی نوکری کہتے ہیں اور کبھی بلا اجرت ہوتی ہے اور اس کو مدد اور کمک کہتے ہیں۔ اور دونوں طرح کی معاونت میں ایک ہی حکم ہے۔ یعنی اگر کفار کا ارادہ ہو کہ مسلمانوں کے ساتھ قتال کریں یا کوئی ملک اور شہر اہلِ اسلام کا اپنے تصرف میں لے آئیں تو ان کفار کی نوکری حرام ہے اور ان کی مدد اور کمک بھی حرام ہے اور گناہ کبیرہ ہے۔
اور اگر کفار باہم قتال کریں اور اس غرض سے مسلمانوں کو نوکر رکھیں تو باعتبار ظاہر شرع کے یہ مباح ہے۔ اور ایسا ہی اگر کفار اپنے مال کی حفاظت کے لئے مسلمان کو نوکر رکھیں یا جو ملک پہلے سے کفار کے تصرف میں ہو اور اس کے ملکی انتظام کیلئے مسلمانوں کو نوکر رکھیں تو یہ بھی باعتبار ظاہر شرع کے مباح ہے اور یہ حکم بہ قیاس باقی اقسام اجارہ کے ہے۔ جیسا کہ خیاطت یعنی سلائی اور تجارت وغیرہ میں کفار کی نوکری جائز ہے، اور کیوں یہ امر جائز نہ ہو اس واسطے کہ ثابت ہے کہ بزرگان دین نے مشرکین کا کام اجرت پر کیا ہے۔ لیکن غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حرمت سے خالی نہیں علی الخصوص اس زمانہ میں کہ نوکری کفار کی کی خاص کر روشناسوں کے حق میں مفاسد دینی کیلئے نہایت باعث ہوتی ہے۔ اور کم سے کم یہ خرابیاں ہیں کہ اُن کے افعال قبیحہ کے انکار کرنے میں سستی ہوتی ہے اور اُن کی بہبودی اور خیر خواہی کرنا پڑتی ہے اور ان کی گروہ زیادہ ہوتی ہے اور ان کی شوکت ہونے میں مدد کرنی پڑتی ہے۔ اور یہ ضرور ہوتا ہے کہ اُن کی تعظیم حد سے زیادہ کی جائے اور ان کو صاحب اور قبلہ کہا جائے، اور حد سے زیادہ ان کی محبت ظاہر کی جائے۔ اور اس کے علاوہ ان کی نوکری میں طرح طرح کا فساد ہے۔ اور اس طرح کی نوکری میں بھی فرق کرنا چاہتے، یعنی فرماں برداری اُن کفار کی جو معاندین کے ہوں زیادہ قبیح ہے بہ نسبت فرماں برداری اُن کفار کی جن کو دین اسلام سے عناد نہ ہو۔ (فتاویٰ عزیزی: صفحہ 415)