انگریز کی نوکری کا حکم
سوال: انگریز کی نوکری کرنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب: اگر نوکری میں ایسے کام کرنے کا خدشہ ہو جو کہ کبیرہ گناہ ہے مثلاً فوج کی نوکری ہو اور خدشہ ہو کہ اہلِ اسلام کے ساتھ مقابلہ کرنا پڑے گا۔ یا خدمت گاری نوکری ہو اور خدشہ ہو کہ شراب اور مردار اور خنزیر کا گوشت لانا ہو گا تو اس کی نوکری اور روزگار منع ہے۔ اور جس نوکری اور روزگار میں اس طرح کی منہیات نہ ہو مثلاً اُس نوکری میں یہ کام ہو کہ عدالت کے امور لکھے جائیں، یا مثلاً مُنشی گیری کا کام ہو یا قافلہ پہنچانے کا کام ہو یا اس طرح کا اور کوئی دوسرا کام ہو تو اس طرح کی نوکری اور روزگار منع نہیں ہے۔ (فتاویٰ عزیزی: صفحہ 600)