Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

گورنروں کے ساتھ عثمانی سیاست اور ان کے حقوق و فرائض

  علی محمد الصلابی

گورنروں کے ساتھ عثمانی سیاست:

24ھ کے آغاز میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے زمام خلافت سنبھالا، اس وقت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے امراء وگورنر عالم اسلام میں پھیلے ہوئے تھے۔ حضرت عثمانؓ نے مکمل سال بھر ان کو ان کے عہدوں پر باقی رکھا۔ پھر اس کے بعد مسلمانوں کے مصالح کے پیش نظر اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے گورنروں کی معزولی اور تعیین شروع کی۔ اس سلسلہ میں حضرت عثمانؓ نے سیدنا عمر بن خطابؓ رضی اللہ عنہ کی وصیت پر عمل کیا جس میں انہوں نے اپنے بعد آنے والے خلیفہ کو وصیت کی تھی کہ میرے مقرر کردہ کسی گورنر کو سال بھر سے زیادہ اس عہدہ پر باقی نہ رکھا جائے، البتہ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کو ان کے عہدہ پر چار سال تک باقی رکھا جائے۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 391)

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ گورنروں کے ساتھ اپنی سیاست کے سلسلہ میں اپنی بہت سی کارروائیوں میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مشوروں پر عمل کرتے تھے۔ یہی وجہ رہی کہ حضرت عثمان غنیؓ نے مسلمانوں کی مصلحت کے پیش نظر بعض صوبوں کو دوسرے صوبوں کے ساتھ جوڑ دیا، اور بعض علاقوں میں گورنروں کو محدود کر دیا۔ چنانچہ بحرین کو بصرہ کے ساتھ ملا دیا اور شام کے بعض صوبوں کو بعض دوسرے صوبوں کے ساتھ گورنر کی وفات یا استعفا کی صورت میں ایک دوسرے سے ملا دیا۔ حضرت عثمان غنیؓ برابر گورنروں کو لوگوں کے ساتھ رحم دلی اور عدل و انصاف کی وصیت و نصیحت کرتے رہتے تھے، چنانچہ خلیفہ بنائے جانے کے بعد حضرت عثمان غنیؓ کا گورنروں کے نام پہلا خط یہ تھا:

’’اما بعد! اللہ تعالیٰ نے حکام کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ عوام کے لیے راعی بن کر رہیں، ٹیکس وصول کرنے والے نہ بنیں، اس امت کے اولین لوگ راعی بنا کر پیدا کیے گئے ہیں ٹیکس وصول کرنے والے نہیں بنائے گئے ہیں، خطرہ ہے کہ تمہارے حکمران ٹیکس وصول کرنے والے بن جائیں راعی نہ رہیں، جب لوگ ایسے ہو جائیں تو پھر حیا، امانت اور وفاداری ختم ہو جائے گی۔ خبردار! بہترین سیرت یہ ہے کہ تم مسلمانوں کے امور اور ان کی ذمہ داریوں میں غور کرو، ان کے حقوق انہیں ادا کرو اور ان پر جو حقوق عائد ہوتے ہیں ان سے وصول کرو، پھر ذمیوں کی طرف متوجہ ہو، ان کے حقوق انہیں ادا کرو اور ان پر عائد شدہ حقوق کو ان سے حاصل کرو، پھر دشمن جن پر غالب آنا چاہتے ہیں انہیں وفائے عہد سے فتح کرو۔‘‘

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 244) 

اس خط میں ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت عثمان غنیؓ نے گورنروں کے لیے سیاست کے ایسے نقوش متعین کر دیے تھے جن پر چلنا ان کے لیے ضروری تھا مثلاً مسلمانوں کو ان کے حقوق ادا کرنا اور ان کے واجبات کا ان سے مطالبہ کرنا، ذمیوں کو ان کے حقوق ادا کرنا اور ان سے ان کے واجبات کا مطالبہ کرنا اور دشمن کے ساتھ بھی وفا کرنا اور ان تمام امور میں عدل کا دامن نہ چھوڑنا۔ آپ نے گورنروں کے لیے یہ واضح کیا کہ ان کا مقصد صرف مال کو وصول کرنا نہ ہو۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 215)

اسی طرح حضرت عثمان غنیؓ صوبہ کے انتظامی امور سے متعلق نو آمدہ مسائل میں اپنے گورنروں کو خصوصی تعلیمات ارسال کرتے، اور یہ تعلیمات ان عام خطوط کے علاوہ ہوتیں جن میں عام تعلیمات صادر فرماتے جن کا التزام سب کے لیے ضروری ہوتا، انہی میں سے وہ خط تھا جس کے ذریعہ سے تمام صوبوں میں آپؓ نے تمام لوگوں پر یہ ضروری قرار دیا کہ وہ ان مصاحف کو لازم پکڑیں جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی نگرانی میں مدینہ میں ضبط تحریر میں لائے گئے ہیں، چنانچہ آپ نے ایک نسخہ ان مصاحف میں سے مدینہ کے لیے خاص کرنے کے ساتھ کوفہ، بصرہ، مکہ، مصر، شام، بحرین، یمن، الجزیرہ کی طرف ان مصاحف کا ایک ایک نسخہ ارسال فرمایا۔

(تاریخ المدینۃ: ابو زید البصری: جلد 3 صفحہ 997) نیز ان مصاحف کے علاوہ قرآن کے جو شخصی نوشتے لوگوں نے اپنے اپنے اعتبار سے یادداشت کے لیے تیار کر رکھے تھے حضرت عثمان غنیؓ نے باجماع صحابہؓ ان نوشتوں کو جمع کرنے اور جلا دینے کا حکم صادر فرمایا جیسا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے۔

(تاریخ المدینۃ: جلد 3 صفحہ 995، 956)۔ یہ اس لیے کیا گیا تاکہ قرآن کو اختلاف سے بچایا جا سکے، کیوں کہ لوگوں نے اپنے اپنے اعتبار اور سہولیت کے پیش نظر انہیں تیار کیا تھا، کسی خاص ترتیب کا خیال نہ کیا گیا تھا، اور اسی طرح بعض سورتوں کو لکھا اور بعض کو چھوڑ رکھا تھا، اور تفسیری الفاظ بھی اس میں لکھ رکھے تھے، بعد میں آنے والوں کے لیے امتیاز کرنا مشکل تھا، لہٰذا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے مصلحت اسی میں سمجھی کہ ان نوشتوں کو جلا دیا جائے، اور امت کو کتاب الہٰی میں اختلاف سے بچا لیا جائے۔ (مترجم)

اسی طرح حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اس بات کے انتہائی حریص تھے کہ صوبوں کے امراء و گورنر آپس میں نئے ممالک کو فتح کرنے اور جہاد کرنے میں ایک دوسرے سے سبقت کریں، چنانچہ آپ نے بصرہ کے گورنر حضرت عبداللہ بن عامرؓ اور کوفہ کے گورنر حضرت سعید بن العاصؓ کو تحریر کیا کہ تم دونوں میں سے جو خراسان کوفتح کرنے میں سبقت کر لے گا وہ وہاں کا امیر ہو گا، جس کے نتیجہ میں حضرت عبداللہ بن عامرؓ نے خراسان کو فتح کیا، اور حضرت سعید بن العاصؓ نے طبرستان کو فتح کیا۔

(تاریخ الیعقوبی: جلد 2 صفحہ 166)

حضرت عثمانؓ بسا اوقات گورنروں پر ایسی شرائط عائد کرتے جن سے ان کی ساری سرگرمیاں اور کارروائیاں مسلمانوں کے حق میں ہوں، چنانچہ جب سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے سمندری جہاد کر کے قبرص پر چڑھائی کرنے کی اجازت طلب کی اور اس کو معمولی قرار دیا تو حضرت عثمان غنیؓ نے انہیں لکھا کہ اگر تم اپنی بیوی کے ساتھ اس مہم پر روانہ ہوتے ہو تو پھر تمھیں اس کی اجازت ہے ورنہ نہیں، چنانچہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ اس مہم پر روانہ ہوئے۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 216، الخراج وصناعۃ الکتابۃ: صفحہ 306)