مشرکین اور نصاریٰ کے ساتھ کھانے کا حکم
سوال: مشرکین اور نصاریٰ کے ساتھ اُن کے دسترخوان پر بیٹھ کر کھانے کا کیا حکم ہے؟
جواب: خلاصہ اس مسئلہ کا یہ ہے کہ مجوس وغیرہ مشرکین کے ساتھ کھانا مباح ہے یا نہیں تو حاکم بن عبدالرحمٰن کاتب کا یہ قول ہے کہ وہ کہتے تھے کہ اگر مسلمان ایک مرتبہ یا دو مرتبہ اس امر میں مبتلا ہو جائے تو مضائقہ نہیں کہ مشرکین کے ساتھ کھائے۔ اس واسطے کہ روایت ہے کہ حضور اقدسﷺ کھانا تناول فرما رہے تھے کہ اس حال میں ایک کافر آنحضرتﷺ کے حضور میں حاضر ہوا، اور اس نے کہا کہ اے محمدﷺ! کیا میں تمہارے ساتھ کھاؤ؟ آنحضرتﷺ نے فرمایا ہاں۔ پس آنحضرتﷺ نے کافر کے ساتھ ایک مرتبہ یا دو مرتبہ کھانا تناول فرمایا ہے، اس غرض سے کہ اُس کافر کا دل اسلام کی طرف مائل ہو لیکن اکثر ان کے ساتھ کھانا مکروہ ہے۔ اس واسطے کہ اُن کے ساتھ اختلاط اور محبت رکھنا اور ان کی جماعت زیادہ کرنا منع ہے۔ روایت ہے کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا ہے من الجفاء ان تاكل مع غير اھل دینک یہ شرع کی حد سے تجاوز کرنا ہے کہ تو اس شخص کے ساتھ کھالے جو تیرے دین میں نہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کھانا دوسری ملت والوں کے ساتھ نہ کھانا چاہیئے ۔ (فتاویٰ عزیزی: صفحہ 609)