Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سب شیخین رضوان اللہ علیہم اجمعین کی سزا اور روافض کے بارے میں پیش گوئیاں


1: حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اے ابوالحسن تم اور تیرا گروہ جنت میں ہوں گے، ایک قوم دعویٰ کرے گی کہ وہ تیرے سے محبت کرتے ہیں، اسلام کی تحقیر کریں گے، اس سے ایسے نکل جائیں گے جس طرح تیر کمان سے نکل جاتا ہے، ان کی علامت (یہ) ہے کہ انہیں رافضہ کہا جائے گا، اگر تو اسے پائے تو قتل کرنا یہ مشرک ہیں۔

2: حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نبی کریمﷺ سے روایت کیا کہ آپﷺ نے فرمایا میرے بعد ایک قوم آئے گی انہیں رافضہ کہا جائے گا، اگر تم ان کو پاؤ تو قتل کر دینا وہ مشرک ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہﷺ ان کی نشانی کیا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا وہ تیری تعریفوں میں وہ باتیں لائیں گے جو تجھ میں نہیں اور سلف پر طعن کریں گے ۔ ایک دوسری سند سے دار قطنی نے اس طرح روایت کیا ہے، اس میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ وہ اہلِ بیتؓ کی محبت کے مدعی ہوں گے، حالانکہ ایسے نہیں ہیں، اس کی نشانی یہ ہے کہ وہ ابو بکر، عمر رضی اللہ عنہما کو گالی دیں گے۔

3: حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا میں تجھے ایک عمل بتاتا ہوں، جب تو اس کو کرے گا، اہلِ جنت سے ہو جائے گا۔ میری بعد ایک قوم آئے گی، انہیں رافضہ کہا جائے گا جب تو انہیں پائے قتل کر دے، کیونکہ وہ مشرک ہیں۔ حضرت علیؓ نے پوچھا ان کی نشانی کیا ہے؟ حضور اقدسﷺ نے فرمایا وہ ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کو گالی بکیں گے۔ 

4:حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا میری امت میں ایک قوم ہو گی جنہیں رافضہ کہا جائے گا، وہ اسلام کو چھوڑ دیں گے۔

5: حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریمﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف نظر کی، اور فرمایا یہ جنتی ہے، اس کے شیعہ میں ایک قوم ہے جو اسلام کو ترک کر دیں گے، ان کا نام رافضہ ہو گا، اے علیؓ! جب تو انہیں پائے قتل کر دینا۔

6: علامہ بغوی رحمۃ اللہ معالم میں حضرت علیؓ سے روایت کرتا ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا تیری سیرت اہلِ جنت کی ہے، ایک قوم جو تیری محبت کا دعویٰ کریں گے، قرآن پڑھیں گے مگر ان کے حلق کے نیچے نہ اترے گا، وہ رافضیہ ہیں، اگر تو ان کو پائے تو اُن سے جہاد کر، کیونکہ وہ مشرک ہیں ۔

7: ہروی ابراہیم بن حسن بن علی بن ابی طالب رحمۃ اللہ سے وہ اپنے باپ سے وہ اپنے دادا سے روایت کرتا ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا آخر زمانہ میں ایک قوم ظاہر ہوں گی، رافضیہ نام دیئے جائیں گے، اسلام کو چھوڑ دیں گے۔

8: حافظ ابو موسیٰ المدینی اور حافظ رضی الدین احمد بن اسماعیل بن یوسف بن الحاكم، بروایت حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنہ نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تو جنتی ہے میرے بعد ایک قوم ہو گی، انہیں رافضیہ کہا جائے گا، جب تو انہیں پائے تو قتل کر دینا، کیونکہ وہ مشرک ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہﷺ ان کی نشانی کیا ہے؟ حضور اکرمﷺ نے فرمایا وہ جمعہ اور جماعت کے قائل نہ ہوں گے اور ابو بکر، عمر رضی اللہ عنہما کو گالی دیں گے۔

9: طبرانی، حاکم ،اور محاملی عویر بن ساعدہ سے روایت ہے کہ حضور اکرمﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے میرے لئے دوست پسند فرمائے، ان میں وزیر مددگار اور خاندان سسر بنائے، جو ان کو گالی دے گا اس پر اللہ تعالیٰ کی اور فرشتوں اور جملہ انسانوں کی لعنت ہے۔ (السيف المسلول: صفحہ 516)