حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا جو شخص سیدنا حضرت صدیق اکبر اور سیدنا حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہما سے بغض رکھے وہ میرا دشمن ہے
حافظ ابوسعید بن علی بن الحسین بن سمان رحمۃ اللہ سے روایت ہے سمان سے وہ سوید بن غفلہ سے وہ کہتا ہے کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ میں ایک قوم شیعہ کے پاس سے گزرا وہ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی تنقیص کر رہے تھے، اگر وہ آپ کے ان کے متعلق اندرونی خیالات نہ جان چکے ہوتے تو ایسا نہ کہتے۔ حضرت علیؓ نے کہا: میں خدا سے پناہ مانگتا ہوں کہ ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں اچھے خیالات کے علاوہ دل میں لاؤں، وہ رسول اللہﷺ کے بھائی تھے، اور آپﷺ کے وزیر پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ روتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھوں کو بند کر کے منبر پر چڑھے اور داڑھی پکڑی، لوگ بھی جمع ہو گئے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر مختصر خطبہ دیا اور فرمایا:
ان اقوام کا کیا حال ہے جو قریش کے دو سرداروں مؤمنین کے روحانی باپوں (سیدنا صدیق اکبر اور سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہما) کا تذکرہ ایسا کرتے ہیں، جس سے میں پاک و صاف ہوں، اور اس پر ان کو سزا دوں گا۔ دانہ پیدا کرنے والے اور روح بنانے والے خدا کی قسم ان دونوں (سیدنا صدیق اکبر اور سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہما) سے ایماندار ہی محبت کرتے ہیں، اور فاجر ہی بغض رکھتے ہیں، ان (سیدنا صدیق اکبر و سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہما) کی مثل تم کہاں سے لا سکتے ہو؟ جو ان (سیدنا صدیق اکبر اور سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہما) سے محبت کرتا ہے، اس نے مجھ سے محبت کی اور جو ان (سیدنا صدیق اکبر و سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہما) سے بغض رکھتا ہے وہ میرا دشمن ہے، میں اس سے بری ہوں۔
نیز فرمایا ایک قوم ان دونوں (سیدنا صدیق اکبر اور سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہما) پر مجھے فضیلت دیتی ہے، اس قوم کے دل میں نفاق ہے اور یہ مسلمانوں میں افتراق پیدا کرنا چاہتے ہیں، اختلاف امت کی رسول اللہﷺ نے مجھے اطلاع دی ہے، مجھے حکم دیا تھا کہ ان لوگوں کو قتل کر دوں جو ظاہر کے بھائی ہوتے ہیں اور اندر کے دشمن، ان کے ہاں جھوٹ بولنا مستحسن ہے، ان میں گناہ عام ہے، وہ مصاحف قرآن کا انکار کرتے ہیں، اور رسول اللہﷺ کے اصحاب کو سب وشتم کر کے گناہ کماتے ہیں، جو ان کے مابین آپس میں اختلافات ہوئے، حالانکہ اللہ تعالیٰ جل شانہ ان کو معاف کر چکا۔ چھوٹا بڑے سے یہ باتیں سیکھتا ہے، اس طرح سنت کو مٹاتا ہے، اور بدعت کو زندہ کرتا ہے۔ اس بارے میں جس شخص نے رسول اللہﷺ کی سنت پر عمل کیا وہ افضل المجاہدین سے ہے، ان کے لئے خوشی ہے۔
اللہ تعالیٰ جل شانہ کے نزدیک روافض سے زیادہ اور کوئی روئے زمین پر مبغوض نہیں ہے، اللہ تعالیٰ جل شانہ کی زمین ان پر ناراض ہے، آسمان ناپسندیدگی میں ان پر سایہ کن ہے، ان کے علماء آسمان کے نیچے رہنے والوں میں بدترین ہیں، انہیں سے فتنے نکلیں گے اور ان میں عود کریں گے، آسمانوں اور زمین میں یہ لوگ گندے نام دیئے گئے ہیں۔ (السيف المسلول: صفحہ 522)