Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

بدعتی کی تعظیم کرنا


شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ کا فتویٰ

اللہ تعالیٰ جل شانہ کا ارشاد ہے: وَذَرُوۡا ظَاهِرَ الۡاِثۡمِ وَبَاطِنَهٗ‌ (سورۃ الأنعام: آیت 120) ظاہر اور باطن دونوں طرح کے گناہ چھوڑ دو ۔ یہ اس امر کی دلیل ہے کہ شریعت کی ظاہر میں مخالفت کرنا بھی گناہ ہے، اور یہ کسی کیلئے بھی جائز نہیں۔ اسی طرح شریعت کی خلاف ورزی کرنے والے کی متابعت کرنا بھی ظاہری گناہ ہے۔ اور یہ کسی کیلئے جائز نہیں۔ حدیث شریف میں ہے کہ حضرت ابراہیم بن میسرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا جس نے کسی بدعتی کی تعظیم کی، اس نے گویا دین حقہ اسلام کی تباہی اور بربادی میں امداد دی۔ یعنی صحیح یہ ہے کہ کسی بدعتی کی کبھی بھی عزت و توقیر نہ کی جائے، کیونکہ بدعت کی عزت کرنا در حقیقت اسلام کی تذلیل و تحقیر کرنا ہے۔

علمائے ربانی کا ارشاد ہے کہ شعائر اسلام کی مخالفت کرنے والے کو سمجھانا چاہیئے اور اس کی بد عملی سے بیزاری کا اظہار کرنا چاہتے، اور اس کے ساتھ ہم نشینی نہ رکھنا چاہیئے، کیونکہ ایسا کرنا ان سے پیار کرنے کے برابر ہے۔ اور آنحضرتﷺ نے فرمایا جس نے کسی قوم کو دوست رکھا وہ انہی میں سے ہے۔

(البلاغ المبين فى احكام رب العلمين: صفحہ 85،80)