منافق کے نماز جنازہ کا حکم
جب مشہور منافق عبداللہ بن ابی ابنِ سلول مر گیا تو اس کا بیٹا جس کا نام بھی عبداللہ تھا اور مخلص مؤمن تھا، خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ حضورﷺ میرے باپ کی قبر پر تشریف لے چلے، اور اس کی مغفرت کیلئے دعا فرمائیے۔ آنحضرتﷺ اس کی دلداری کیلئے تشریف لے گئے اور اس کی قبر پر کھڑے ہو کر دعا کرنی چاہی۔ سیدنا فاروق اعظم نے آنحضرتﷺ کی چادر مبارک پکڑ لی اور کہا یا رسول اللہﷺ! آپ ایک منافق کی قبر پر کھڑے نہ ہو جائیں اور نہ دعا فرمائیں کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ جل شانہ اور اس کے رسولﷺ کا دشمن تھا۔ اس جگہ آیت کریمہ اتری وَلَا تُصَلِّ عَلٰٓى اَحَدٍ مِّنۡهُمۡ مَّاتَ اَبَدًا وَّلَا تَقُمۡ عَلٰى قَبۡرِهٖ(سورۃ التوبة: آیت 84) اور ان میں سے کوئی مر جائے تو اس کے جنازہ پر کبھی نماز نہ پڑھے اور نہ ان کے لئے اس کی قبر پر کھڑے ہو جائیں۔ (البلاغ المبین فی احکام رب العالمین: صفحہ 48)