Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حجۃ الاسلام، بانی دارالعلوم دیوبند، حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی صاحب رحمۃ اللہ کا فتویٰ


ہر صورت میں اہلِ تشیع مال فئی سے ہمیشہ محروم رہیں گے، کیونکہ جملہ اہلِ مصارف کا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے حق میں دعا گو ہونا ضروری ہے 

فرمایا: اس سے بڑھ کر اور لیجئے لِلۡفُقَرَآءِ الۡمُهٰجِرِيۡنَ، وَلِذِى الۡقُرۡبٰى سے بدل واقع ہوا ہے۔ اور اس پر بطور عطف ارشاد ہے وَالَّذِيۡنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَالۡاِيۡمَانَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ (سورۃ الحشر: آیت 9) اور جو لوگ جگہ پکڑ رہے ہیں اس گھر میں اور ایمان میں ان سے پہلے۔

اور نیز بطور عطف ہی پھر یہ ارشاد ہے وَالَّذِيۡنَ جَآءُوۡ مِنۡۢ بَعۡدِهِمۡ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا اغۡفِرۡ لَـنَا وَلِاِخۡوَانِنَا الَّذِيۡنَ سَبَقُوۡنَا بِالۡاِيۡمَانِ الخ (سورۃ الحشر: آیت 10)

ترجمہ: اور واسطے اُن لوگوں کے جو آئے ان کے بعد کہتے ہوئے اے رب! بخش ہم کو اور ہمارے بھائیوں کو جو ہم سے پہلے اسلام میں داخل ہوئے ہیں۔

اس لئے تابعین سے لے کر قیامت تک جس قدر مسلمان پیدا ہوں اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دعاگو ہوں ان سب کو اموال فئی میں شریک ملک کرنا پڑے گا۔ مگر سب جانتے ہیں کہ اموال مملوک کیلئے مالکوں کا بافعل موجود ہونا ضروری ہے۔ جو لوگ ابھی ساعت وجود میں قدم رکھے ہی نہیں پائے وہ کیونکر مالک اموال مملوکہ بالفعل ہو سکیں ایسی بات کوئی نادان بھی نہیں کہہ سکتا تو اس پر شیعہ بے وجہ تکرار کرتے ہیں۔

اگر بالفرض اصناف مذکور مالک اموال و اراضی نئے ہوتے بھی تو شیعوں کو کیا مل جاتا۔ کلام اللہ میں تو پہلے ہی سے ان کے محروم ہونے کے لئے یہ قید لگا دی ہے يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا اغۡفِرۡ لَـنَا وَلِاِخۡوَانِنَا الَّذِيۡنَ سَبَقُوۡنَا بِالۡاِيۡمَانِ(سورۃ الحشر: آیت 10) سو ان کی دعا گوئی بہ نسبت صحابہ کرامؓ (تبرا بازی) سبھی کو معلوم ہے۔

(مقالات حجة الاسلام: جلد 6 صفحہ 410)