دس محرم کی مجلس شہادت اور دیگر خرافات سے بچنے کا حکم
چودھویں صدی ہجری کے فقیہ العصر، قطب الارشاد، امام ربانی محدث دوراں، اَفقہ زماں، حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ کا فتویٰ
سوال: يومِ عاشورا کو یومِ شہادت حضرت حسین رضی اللہ عنہ گمان کرنا، و احکام ماتم و نوحہ گریہ زاری و بے قراری کے برپا کرنا اور گھر گھر مجالس شہادت منعقد کرنا اور واعظین کو بھی بالخصوص ان ایام میں شہادت نامہ یا وفات نامہ بیان کرنا خاص کر روایات خلاف وضعیہ سے اور سامعین کو بھی ان اُمور میں ہر سال کوشش ہوئی کہ اس کے مثل وعظ میں نہیں ہوتی ہرگز اور خاص ایام مذکورہ ہی میں ایصال ثواب و صدقات کرنا اور تعین آب و طعام بھی مثل شربت ہے یا کھچڑا ہے اور ہر غنی و فقیر کو اس کا لینا اور تبرک جاننا اور جو غنی یا سید اس کو نہ لیوے تو مطعون کریں اور بُرا جانیں اور فی الجملہ ریا کو اس میں بہت و دخل ہوتا ہے۔ تو ایسی صورت میں ثواب کی امید ہو سکتی ہے یا نہیں؟ اور یہ تمام امور بدعات و معصیت ہیں یا نہیں؟
جواب: ذکرِ شہادت کا ایامِ عشر حرام میں کرنا بمشابہت روافض کے منع ہے اور ماتم و نوحہ کرنا حرام ہے۔
حدیث شریف میں ہے کہ آپﷺ نے مرثیوں سے منع فرمایا ہے۔ اور خلاف روایات بیان کرنا سب ابواب میں حرام ہیں۔ تقسیم صدقات بتخصيص ان ایام میں کرنا اگر یہ جانتا ہے کہ آج ہی زیادہ ثواب ہے تو بدعت ضلالہ ہے علی هذا تخصیص کسی طعام کی کسی یوم کے ساتھ کرنا لغو ہے، اور صدقہ کا طعام غنی کو مکروہ اور سید کو حرام ہے، اس پر طعن کرنا فسق ہے۔ (فتاویٰ رشیدیہ: جلد 1 صفحہ 156)