Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

گورنروں کے فرائض

  علی محمد الصلابی

 اقامت دین:

لوگوں میں اسلام کی نشر و اشاعت: 

یہ دور عظیم فتوحات کی وجہ سے امتیازی حیثیت کا حامل رہا ہے، ایسی صورت میں گورنروں کی یہ ذمہ داری قرار پاتی ہے کہ وہ ملک کے اندر دین کی نشر و اشاعت موجود صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے تعاون سے کریں، چنانچہ فتوحات کے آغاز میں عہدِ صدیقی کے اندر یہ ذمہ داری گورنر حضرات اپنے معاونین کے تعاون سے کرتے رہے، پھر عہدِ فاروقی میں جب شہر بسائے گئے اور سلطنت میں وسعت ہوئی تو علماء و معلّمین اس مقصد کے لیے مقرر کیے گئے، اور عہد فاروقی کے آخر میں اس مقصد کے لیے علماء و معلمین کی تقرری میں زور آیا کیوں کہ شہروں کی آبادیاں بڑھ گئیں، اور طلبہ میں روز افزوں اضافہ ہونے لگا، اور گورنر اور امراء دیگر ملکی اور جہادی و انتظامی امور میں مشغول ہو گئے، صوبوں میں وسعت آگئی، ایک صوبہ کے تحت کئی ایک شہر تابع کر دیے گئے، ہر جگہ لوگوں کو علماء فقہاء و معلمین کی ضرورت پیش آنے لگی۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 2 صفحہ 66)

اقامت صلوٰۃ: چاروں خلفائے راشدینؓ کے عہد میں دارالخلافہ میں خلیفہ بذات خود جمعہ، جماعت اور عیدین قائم کرتا، امامت کے فرائض انجام دیتا، جمعہ و عیدین اور دیگر مواقع پر خطبہ دیتا، اسی طرح اس کے نائبین اپنے اپنے مقام پر اس ذمہ داری کو انجام دیتے، اور خلفائے راشدینؓ کے پورے دور میں گورنر حضرات خطبہ و امامت کے فرائض انجام دیتے تھے۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 2 صفحہ 67)